کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اس کتے کابیان جو آدمی کو کاٹ لے
حدیث نمبر: 29529
٢٩٥٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن (١) حصين عن الشعبي قال: إذا كان الكلب في الدار فأذن أهل الدار للرجل فدخل (فعقره) (٢) ضمنوا، فإن دخل بغير إذن فعقره لم يضمنوا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حصین فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا : جب گھر میں کتا موجود ہو پھر گھر والوں نے آدمی کو داخل ہونے کی اجازت دی پس کتے نے اس شخص کو کاٹ لیا تو وہ گھر والے ضامن ہوں گے اور اگر وہ شخص بغیر اجازت کے داخل ہوگیا پھر اس کتے نے اسے کاٹاتو وہ لوگ ضامن نہیں ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29529
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29529، ترقيم محمد عوامة 28288)
حدیث نمبر: 29530
٢٩٥٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا زكريا عن عامر قال: إن عقر كلبهم (خارجًا) (١) من دارهم شبرًا فما فوقه ضمنوا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زکریا فرماتے ہیں کہ حضرت عامر نے ارشاد فرمایا : اگر ان کے کتے نے گھر سے باہر ایک بالشت یا اس سے زیادہ کے فاصلہ پر کاٹ لیاتو گھر والے ضامن ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29530
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29530، ترقيم محمد عوامة 28289)
حدیث نمبر: 29531
٢٩٥٣١ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا وكيع) (١) عن محمد بن قيس سمعه من الشعبي قال: إذا أدخل الرجل (والرجل) (٢) داره فهو ضامن له حتى يخرجه، كما (٣) أدخله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن قیس فرماتے ہیں کہ انہوں نے امام شعبی کو یہ بات فرماتے ہوئے سنا کہ جب ایک شخص نے دوسرے شخص کو اپنے گھر میں داخل کیا تو وہ اس کے لیے ضامن ہوگا یہاں تک کہ اسے ایسے ہی نکالے جیسا کہ اسے داخل کیا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29531
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29531، ترقيم محمد عوامة 28290)
حدیث نمبر: 29532
٢٩٥٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن سعيد عن أبي معشر عن إبراهيم قال: إذا [دخل بإذنهم فعقره (ضمنوا) (١) وإن] (٢) دخل بغير إذنهم فعقره لم (يضمنوا) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو معشر فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : جب وہ شخص گھر والوں کی اجازت کے بغیر داخل ہوا پھر کتے نے اسے کاٹا تو وہ ضامن نہیں ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29532
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29532، ترقيم محمد عوامة 28291)
حدیث نمبر: 29533
٢٩٥٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن طارق بن عبد الرحمن قال: كنت عند شريح فجاءه سائل قد خرق جرابه وخمشت ساقه فقال: إني دخلت دار قوم فعقرني كلبهم، فقال شريح: إن كان أذنوا لك فهم ضامنون، وإلا فلا ضمان عليهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن عبدالرحمن نے ارشاد فرمایا کہ میں قاضی شریح کے پاس تھا کہ ایک سائل آپ کے پاس آیا اس حال میں کہ اس کا تھیلا پھٹا ہوا تھا اور اس کی پنڈلی زخمی تھی پس وہ کہنے لگا : میں فلاں لوگوں کے گھر میں داخل ہوا تو ان کے کتے نے مجھے کاٹ لیا۔ اس پر حضرت شریح نے فرمایا : اگر تو انہوں نے تجھے اجازت دی تھی پھر تو وہ ضامن ہوں گے ورنہ ان پر کوئی ضمان نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29533
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29533، ترقيم محمد عوامة 28292)
حدیث نمبر: 29534
٢٩٥٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبيد اللَّه عن شعبة عن الحكم في الكلب العقور قال: لا يضمن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ حضرت حکم نے بہت زیادہ کاٹنے والے کتے کے بارے میں ارشاد فرمایا : ضمان ادا نہیں کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29534
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29534، ترقيم محمد عوامة 28293)
حدیث نمبر: 29535
٢٩٥٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن حصين عن عامر قال: كان يقول في الكلاب إذا (غشيها) (١) الرجل -وهي مع الغنم- فعقرته فليس عليه ضمان (وإذا تعرضت للناس في الطريق فأصابت أحدا فعليه الضمان) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حصین فرماتے ہیں کہ حضرت عامر کتوں کے بارے میں فرمایا کرتے تھے : جب آدمی نے کتوں کو گھیر لیا اس حال میں کہ وہ کتے ریوڑ کے ساتھ تھے پھر انہوں نے اس کو کاٹ لیا تو کتوں کے مالک پر کوئی ضمان نہیں ہوگا اورا گر کتے راستہ میں لوگوں کے سامنے آجائیں اور کسی ایک کو کاٹ لیں تو اس صورت میں اس پر ضمان لازم ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29535
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29535، ترقيم محمد عوامة 28294)