حدیث نمبر: 29524
٢٩٥٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (١) أبو الأحوص عن سماك عن عبد الرحمن ابن القعقاع قال: دعوت إلى بيتي (قومًا) (٢) فطعموا وشربوا (فسكروا) (٣) (وقاموا إلى ⦗٢٢١⦘ سكاكين) (٤) في البيت فاضطربوا (بها) (٥) (فجرح) (٦) بعضهم بعضًا وهم أربعة، فمات اثنان وبقي اثنان، فجعل علي الديةَ على الأربعة جميعًا، وقص للمجروحين ما أصابهم من جراحاتهما (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سماک فرماتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن قعقاع نے ارشاد فرمایا کہ میں نے چند لوگوں کو اپنے گھر دعوت پر بلایا : ان لوگوں نے کھانا کھایا اور شراب پی کر نشہ میں آگئے اور گھر کے چھری، چاقو اٹھالیے پھر ان کے ذریعہ ہنگامہ کر کے ان میں سے بعض نے بعض کو زخمی کردیا۔ وہ لوگ کُل چار افراد تھے پس دو مرگئے اور دو بچ گئے پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان چاروں پر دیت لازم قرار دی اور زخمیوں سے ان کو پہنچنے والے زخموں کے بقدر تخفیف کردی۔
حدیث نمبر: 29525
٢٩٥٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا زكريا عن عامر أن الحسن بن علي (أتي) (١) برجلين قتلا ثلاثة وقد جرح الرجلان، فقال (الحسن) (٢) ابن علي: على الرجلين دية الثلاثة، ويرفع عنهما جراحة الرجلين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس دو آدمی لائے گئے جنہوں نے تین افراد کو قتل کردیا تھا درا نحالی کہ وہ دونوں بھی زخمی تھے اس بارے میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان دونوں آدمیوں پر تینوں مقتولوں کی دیت لازم ہوگی اور ان دونوں سے دو آدمیوں کے زخم کے بقدر تخفیف کردی جائے گی۔
حدیث نمبر: 29526
٢٩٥٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج عن عطاء وابن أبي مليكة (قالا) (١): (لو) (٢) أن رجلًا قتل رجلًا؛ وجرح المقتول القاتل (جرحًا) (٣) قتل القاتل وودى أهل المقتول جرح القاتل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء اور حضرت ابن ابی ملیکہ نے ارشاد فرمایا : اگر کسی آدمی نے کسی کو قتل کردیا اور مقتول نے قاتل کو زخمی کردیا تو قاتل کو قصاصاً قتل کیا جائے گا اور مقتول کے گھر والے قاتل کے زخم کی دیت ادا کریں گے۔
حدیث نمبر: 29527
٢٩٥٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: وُجد في بيت قتلى وشجاج، فجُعل بعضهم (ببعض) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : ایک گھر میں کچھ مقتول اور زخمی پائے گئے تو ان میں سے بعض پر بعض کی دیت ڈالی گئی۔
حدیث نمبر: 29528
٢٩٥٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن الشيباني عن الشعبي قال: خرج قوم من (زرارة) (١) فاقتتلوا، فقتل بعضهم بعضًا، فضمن علي دية (المقتول) (٢) ورفع عن المجروحين بقدر جراحتهم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شیبانی فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا : چند لوگ قبیلہ زرارہ سے نکلے پس انہوں نے آپس میں قتال کیا تو ان میں سے بعض نے بعض کو قتل کردیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مقتولین کی دیت کا ضامن بنایا اور زخمیوں سے ان کے زخموں کے بقدر تخفیف کردی۔