کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جس نے آدمی کا سر زخمی کردیا پھر اس سے قصاص لیا گیا تو اس کی موت واقع ہوگئی
حدیث نمبر: 29464
٢٩٤٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن الشعبي في الرجل إذا أصاب (بجراحة) (١) فاقتص منه فمات، قال: يدفع من دية الميت جراحة الأول.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شیبانی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے جب کسی کو زخم لگایا تو اس کے بدلہ میں اس سے قصاص لیا گیا جس سے اس کی موت واقع ہوگئی اس بارے میں حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا : میت کی دیت میں سے پہلے زخم کا تاوان ادا کیا جائے گا حضرت عبداللہ بن ذکوان نے فرمایا : میت کی دیت میں سے اس کو کچھ نہیں ملے گا۔
حدیث نمبر: 29465
٢٩٤٦٥ - قال عبد اللَّه بن ذكوان: ليس له من دية الميت شيء.
حدیث نمبر: 29466
٢٩٤٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو بكر عن مغيرة عن إبراهيم [قال: (يدفع) (١) عنه بقدر الجراحة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : اس سے زخم کے بقدر دیت کی تخفیف کردی جائے گی۔
حدیث نمبر: 29467
٢٩٤٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبدة) (١) بن سليمان عن (سعيد) (٢) عن أبي معشر عن إبراهيم] (٣) عن عبد اللَّه قال: يرفع عنه بقدر الجراحة، ويكون ⦗٢١٠⦘ ضامنًا لبقية الدية (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا : اس سے زخم کے بقدر دیت کی تخفیف کردی جائے گی اور وہ باقی دیت کا ضامن ہوگا۔
حدیث نمبر: 29468
٢٩٤٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري قال: إذا مات الذي يقتص منه فالمقتص ضامن (للدية) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معمر فرماتے ہیں کہ امام زہری نے ارشاد فرمایا : جس شخص سے قصاص لیا جارہا تھا اس کی وفات ہوگئی تو اس صورت میں قصاص لینے والا دیت کا ضامن ہوگا۔
حدیث نمبر: 29469
٢٩٤٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن حماد (بن سلمة عن حماد) (١) عن إبراهيم عن علقمة في المقتص منه: أيهما مات ودى.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ نے اس شخص کے بارے میں جس سے قصاص لیا جارہا تھا یوں فرمایا : ان دونوں میں سے جو بھی مرگیا تو اس کو خون بہا ادا کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 29470
٢٩٤٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن الحكم قال: استأذنت زياد بن جبير في الحج، فسألني عن رجل شج رجلًا فاقتص له منه، فمات المقتص منه، فقلت: عليه الدية، ويرفع عنه بقدر الشجة، ثم (هبت) (١) ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعیدبن جبیر سے حج کے بارے میں اجازت دریافت کی تو آپ نے مجھ سے دریافت کیا ایسے آدمی کے بارے میں جس نے کسی کا سر زخمی کردیا پھر اس سے اس شخص کے لیے قصاص لیا جا رہا تھا کہ اس کی وفات ہوگئی ؟ آپ کہتے ہیں : میں نے عرض کی : قصاص لینے والے پر دیت لازم ہوگی اور اس سے زخم کے بقدر دیت کی تخفیف کردی جائے گی اور پھر میں کسی کام کے لیے اٹھ گیا اور ابراہیم تشریف لائے تو میں نے یہی سوال ان سے کیا ؟ تو آپ نے جواب دیا : اس پر دیت لازم ہوگی۔
حدیث نمبر: 29471
٢٩٤٧١ - فجاء إبراهيم فسألته فقال: عليه الدية.
حدیث نمبر: 29472
٢٩٤٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة قال: سألت الحكم وحمادًا عن ذلك فقالا: عليه الدية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے اس بارے میں دریافت کیا ؟ ان دونوں حضرات نے ارشاد فرمایا : قصاص لینے والے پر دیت لازم ہوگی اور حضرت حماد نے یہ بھی فرمایا : اس زخم کے بقدر دیت کی تخفیف کردی جائے گی۔
حدیث نمبر: 29473
٢٩٤٧٣ - وقال حماد: (١) يرفع عنه بقدر الشجة.
حدیث نمبر: 29474
٢٩٤٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا شريك عن مغيرة عن إبراهيم والشعبي قالا: عليه الدية ويرفع عنه (١) بقدر الشجة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم اور حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا : قصاص لینے والے پر دیت لازم ہوگی اور اس کے زخم کے بقدردیت میں تخفیف کردی جائے گی۔
حدیث نمبر: 29475
٢٩٤٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن معمر عن ابن طاوس عن أبيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس اور حضرت عطاء ان دونوں حضرات نے ارشاد فرمایا : بدلہ لینے والے پر دیت لازم ہوگی اور اس سے کسی بھی قسم کی تخفیف نہیں کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 29476
٢٩٤٧٦ - وعن ابن جريج عن [عطاء (قالا) (١)] (٢): عليه الدية، ولا يرفع عنه شيء.