کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جس نے آدمی کو مارا یہاں تک کہ اس کو حدث لاحق ہوگیا
حدیث نمبر: 29463
٢٩٤٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن يحيى بن سعيد أن رجلين من الأعراب اختصما بالمدينة في (زمان) (١) عمر بن عبد العزيز فقال أحدهما لصاحبه: ⦗٢٠٩⦘ ضربته، واللَّه حتى (سلح) (٢)، فقال: اشهدوا فقد واللَّه صدق، فأرسل عمر بن عبد العزيز إلى سعيد بن المسيب يسأله عن رجل ضرب رجلا حتى (سلح) (٣)، هل في ذلك (أمر) (٤) مضى أو سنة؟ قال سعيد: قضى فيها عثمان بثلث الدية (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے زمانہ میں دو دیہاتی آدمیوں کا مدینہ میں جھگڑا ہوگیا تو ان میں سے ایک اپنے ساتھی کو کہنے لگا : اللہ کی قسم میں نے اسے مار ا یہاں تک کہ اس کا پاخانہ نکل گیا۔ اس نے کہا گواہ ہو جاؤ کہ اللہ کی قسم اس نے سچ کہا پھر حضرت عمر بن عبدالعزیز نے حضرت سعید بن مسیب کے پاس قاصد بھیج کر سوال کیا کہ اگر ایک آدمی نے کسی کو مارا یہاں تک کہ اس کا پاخانہ نکل گیا کیا اس کے بارے میں کوئی حکم گزرا ہے یا کوئی سنت طریقہ موجود ہے ؟ حضرت سعید نے فرمایا : اس صورت میں حضرت عثمان نے تہائی دیت کا فیصلہ فرمایا۔