کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جس نے کسی آدمی کے ہاتھ کو کاٹا اور اس نے اپنے ہاتھ کو کھینچ لیا
حدیث نمبر: 29456
٢٩٤٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن ابن جريج قال: أخبرني عطاء قال: أخبرني صفوان بن يعلى بن أمية عن أبيه قال: كان لي أجير فقاتل إنسانًا فعض أحدهما يد الآخر، -قال: عطاء لقد أخبرني صفوان: أيهما عض الآخر، فانتزع المعضوض يده من في العاض فانتزع إحدى (ثنيتيه) (١)، فأتيا إلى النبي ﵇ (٢) فأهدر ثنيته (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صفوان بن یعلی رضی اللہ عنہ بن امیہ فرماتے ہیں کہ میرے والد حضرت یعلی رضی اللہ عنہ بن امیہ نے ارشاد فرمایا : میرا ایک ملازم تھا جس نے کسی سے لڑائی کی، پس ان دونوں میں سے ایک نے دوسرے کے ہاتھ کو دانتوں سے پکڑ لیا۔ حضرت عطاء نے یوں فرمایا : کہ حضرت صفوان نے مجھے خبردی کہ ان دونوں میں سے ایک نے دوسرے کے ہاتھ کو دانتوں سے پکڑ لیا تو اس شخص نے اپنا ہاتھ کاٹنے والے کے منہ سے کھینچا تو اس کا ایک دانت ٹوٹ گیا پھر وہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے دانت کو باطل قراردے دیا۔
حدیث نمبر: 29457
٢٩٤٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن سعيد عن قتادة عن زرارة عن عمران بن حصين قال: (فأطلها) (١) رسول اللَّه ﷺ (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دانت کو رائیگاں قرار دیا۔
حدیث نمبر: 29458
٢٩٤٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن عطاء أن رجلًا عض يد آخر على عهد النبي ﷺ فانتزع ثنيته، فأهدرها رسول اللَّه ﷺ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں کسی کا ہاتھ کاٹا تو اس شخص نے اس کے دانت اکھیڑ دیے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے دانت کو رائیگاں قرار دیا۔
حدیث نمبر: 29459
٢٩٤٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن أيوب عن ابن سيرين قال: نبئت أن رجلًا عض يد رجل فانتزع يده من فيه فأسقط ثنية أو ثنيتين ⦗٢٠٨⦘ من فيه فأتى إلى النبي ﷺ يستقيد فقال (له) (١): أفيدع يده في فيك تأكلها، إن شئت دفعت يدك إليه يعضها ثم (انتزعها) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ایوب فرماتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین نے ارشاد فرمایا : کہ مجھے خبر دی گئی ہے ایک آدمی نے کسی کے ہاتھ کو دانتوں میں چبایا تو اس شخص نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچ لیا اور اس کے منہ سے ایک یا دودانت گرادیے پھر یہ آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں قصاص طلب کرنے کے لیے آیا اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا : کیا وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں چھوڑدیتا تا کہ تم اسے کھا جاتے ؟ اگر تم چاہو تو اپنا ہاتھ اس کی طرف پھیلاؤ وہ اسے اپنے دانت میں چبائے گا تم اسے کھینچ لینا۔
حدیث نمبر: 29460
٢٩٤٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن ابن جريج قال: أخبرني ابن أبي مليكة عن جده أن إنسانًا أتى أبا بكر وعضه إنسان فنزع يده منه فندرت ثنيته، فقال أبو بكر: (بعدت ثنيته) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ملیکہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابوبکر کے پاس آیا اس حا ل میں کہ کسی نے اس کو کاٹا تھا پس اس نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچ لیا تو اس کے سامنے کے دانت گرگئے اس پر حضرت ابوبکر نے فرمایا : اس کے دانت ہلاک ہوگئے۔
حدیث نمبر: 29461
٢٩٤٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن ابن جريج أن أبا بكر وعمر أبطلاها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے اس کے دانتوں کے گرنے کو رائیگاں و باطل قرار دیا۔
حدیث نمبر: 29462
٢٩٤٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن الشيباني عن محمد بن عبيد اللَّه عن شريح في رجل (عض) (١) رجلًا فانتزع فانتزعت ثنيته فأبطلها شريح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عبید اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے جس نے کسی کا ہاتھ دانت میں چبایا تو اس شخص نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا جس سے اس کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے حضرت شریح نے اس کے دانتوں کو رائیگاں قرار دیا۔