حدیث نمبر: 29438
٢٩٤٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن حجاج عن أبي عون عن شريح أن رجلًا لقي (رجلًا) (١) بكرسي قصدمه فقتله، فقال شريح: ضمن الصادم للمصدوم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عون فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی کو کرسی ماری اور دھکا دیا پس وہ آدمی مرگیا اس پر حضرت شریح نے فرمایا : دھکا دینے والا دوسرے آدمی کے لیے ضامن ہوگا۔
حدیث نمبر: 29439
٢٩٤٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوحيم بن سليمان عن أشعث عن حماد عن إبراهيم عن علي في فارسين اصطدما فمات أحدهما فضمن الحي الميت (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ دو شہسوار آپس میں ٹکڑا گئے اور ان میں ایک مرگیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے زندہ کو مردہ کا ضامن بنایا۔
حدیث نمبر: 29440
٢٩٤٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن إسماعيل بن سالم عن الشعبي أنه سئل عن سفينتين اصطدمتا، فغرقت إحداهما فقال: ليس على (الآخرين) (١) ضمان، ولكن أيما رجل أوثق سفينة على طريق المسلمين فأصابت فهو ضامن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن سالم فرماتے ہیں کہ امام شعبی سے دریافت کیا گیا دو ایسی کشتیوں کے بارے میں جو آپس میں ٹکڑا گئی تھیں پس ان دونوں میں سے ایک غرق ہوگئی ؟ آپ نے جواب دیا : دوسری کشتی والوں پر کوئی ضمان نہیں لیکن ہر وہ شخص جس نے مسلمان کے طریقہ پر مضبوط کشتی بنائی پھر بھی وہ ڈوب گئی تو وہ شخص ضامن ہوگا۔
حدیث نمبر: 29441
٢٩٤٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن أشعث عن الحكم عن علي في الفارسين يصطدمان، قال: يضمن الحي دية الميت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دو شہسواروں کے بارے میں جو آپس میں ٹکڑا گئے تھے آپ نے یوں ارشاد فرمایا : زندہ مردہ کی دیت کا ضامن ہوگا۔
حدیث نمبر: 29442
٢٩٤٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن حجاج عن قتادة عن كعب بن (سور) (١) أن رجلا كان على حمار، فاستقبله رجل على بعير في زقاق، فنفر الحمار، فصرع (الرجل) (٢) فأصابه (٣) شيء، فلم يضمن كعب بن (سور) (٤) صاحب البعير شيئًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی گدھے پر سوار تھا کہ اس کے سامنے سے گلی میں اونٹ پر سوار ایک شخص آیا پس گدھا خوف زدہ ہوگیا اور آدمی کو نیچے گرادیا جس سے وہ آدمی زخمی ہوگیا تو حضرت کعب بن سور نے اونٹ پر سوار کو کسی چیز کا بھی ضامن نہیں بنایا۔
حدیث نمبر: 29443
٢٩٤٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شبابة عن بن أبي ذئب عن المطلب بن السائب السهمي عن سعيد بن المسيب أن عثمان قضى أن كل مقتتلين اقتتلا ضمنا ما بينهما (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان نے فیصلہ فرمایا کہ دو آپس میں لڑنے والے ایک دوسرے کے نقصان کے ضامن ہوں گے۔