کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جس نے آدمی کو ضرب لگائی پس وہ شخص مسلسل مریض رہ کر وفات پا گیا
حدیث نمبر: 29433
٢٩٤٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة (عن) (١) الحارث في الرجل يضرب الرجل قال: إذا شهدت الشهود أنه ضربه فلم يزل مريضًا من ضربه حتى مات ألزمته الدية، فإن كان عامدًا فالقود، وإن كان خطأ فالدية على العاقلة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت حارث نے اس آدمی کے بارے میں جس نے کسی آدمی کو مارا۔ آپ نے فرمایا : جب گواہ گواہی دے دیں اس بات کی کہ اس شخص نے اسے مارا اور اس کی مار کی وجہ سے وہ مسلسل بیمار رہا پھر اس کی موت ہوگئی فرمایا : میں اس پر دیت لازم کروں گا پس اگر تو اس نے جان بوجھ کر مارا تھا تو قصاص ہوگا اور اگر غلطی ہوا تو اس صورت میں خاندان والوں پر دیت لازم ہوگی۔
حدیث نمبر: 29434
٢٩٤٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن في الرجل يضرب الرجل فلا يزال مضنى (١) على فراشه حتى يموت، قال: فيه القود.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حسن بصری نے ارشاد فرمایا : ایک آدمی نے جب دوسرے آدمی کو مارا پس وہ مسلسل بستر پر بیمار پڑا رہا یہاں تک کہ اس کی وفات ہوگئی تو اس میں قصاص لازم ہوگا۔
حدیث نمبر: 29435
٢٩٤٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن تميم بن سلمة قال: شهد رجلان عند شريح على رجل فقالا: نشهد أن هذا صرع هذا، فلم يزل يعصره (بمرفقه) (١) حتى مات، فقال شريح: (تشهدان) (٢) أنه قتله؟ ⦗٢٠٢⦘ (فقالا: نشهد أنه صرعه، فلم يزل يعصره بمرفقه حتى مات، قال: تشهدان أنه قتله) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت تمیم بن سلمہ فرماتے ہیں کہ دو آدمیوں نے حضرت شریح کے سامنے ایک آدمی کے خلاف گواہی دی پس ان دونوں نے کہا ہم گواہی دیتے ہیں کہ اس شخص نے اس کو پچھاڑا پس مسلسل اسے اپنی کہنی سے اسے دباتا رہا یہاں تک کہ وہ شخص مرگیا حضرت شریح نے پوچھا : کیا تم دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اس نے اسے قتل کیا ہے ؟ ان دونوں نے جوا ب دیا ہم دونوں گواہی دیتے ہیں کہ اس شخص نے اسے پچھاڑا اور مسلسل اپنی کہنی سے اسے دباتا رہا یہاں تک کہ وہ مرگیا آپ نے پوچھا : کیا تم دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ ا س نے اسے قتل کیا ہے ؟
حدیث نمبر: 29436
٢٩٤٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: أخبرني ابن شهاب أن عمر بن الخطاب أوطا في زمانه رجلٌ من جهينة (١) [(رجلًا) (٢) من بني غفار (أو رجل) (٣) من بني غفار (رجلًا) (٤) من جهينة، فادعى أهله أنه مات من ذلك] (٥)، فأحلفهم عمر خمسين رجلا منهم من المدعين، فابوا أن يحلفوا، وأبى المدعي عليهم أن يحلفوا، فقضى عمر فيها بشطر الدية (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب کے زمانے میں قبیلہ جھینہ کے ایک آدمی نے قبیلہ بنو غفار کے ایک شخص کو روند ڈالا یا راوی نے یوں فرمایا : کہ قبیلہ بنو غفار کے ایک شخص نے قبیلہ جہینہ کے آدمی کو روند ڈالا تو اس آدمی کے گھر والوں نے یہ دعویٰ کردیا کہ اس وجہ سے مرا ہے تو حضرت عمر نے مدعیوں کے پچاس آدمیوں کو قسم اٹھانے کے لیے کہا۔ ان لوگوں نے قسم اٹھانے سے انکار کردیا اور جن لوگوں کے خلاف دعویٰ کیا گیا تھا ان لوگوں نے بھی قسم اٹھانے سے انکار کردیا تو حضرت عمر نے اس بارے میں نصف دیت کا فیصلہ فرمایا۔
حدیث نمبر: 29437
٢٩٤٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: أخبرني (حسن) (١) بن مسلم أن أمة عضت إصبعا لمولى لبني زيد فطمر (٢) فيها فمات، فاعترفت الجارية بعضتها إياه، فقضى فيها محمر بن عبد العزيز بأن يحلف (بنو) (٣) زيد خمسين يمينًا (ترد) (٤) عليهم الأيمان (لمات) (٥) من عضتها ثم (الأمة) (٦) لهم، وإلا فلا حق لهم، فأبوا أن يحلفوا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن مسلم فرماتے ہیں کہ ایک باندی نے بنو زید کے آزاد کردہ غلام کی انگلی کو کاٹا جس سے وہ ورم آلود ہوگئی پھر اس شخص کی وفات ہوگئی اور باندی نے بھی اس کی انگلی کے کاٹنے کا اعتراف کیا اس بارے میں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے یہ فیصلہ فرمایا کہ بنو زید والے پچاس قسمیں اٹھائیں گے اس طور پر کہ ان پر قسم کو لوٹایا جائے گا وہ شخص ان باندی کے کاٹنے کی وجہ سے مرا ہے پھر باندی ان کو مل جائے گی ورنہ ان کو کوئی حق نہیں ملے گا پس ان لوگوں نے قسم اٹھانے سے انکار کردیا۔