کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اس آدمی کا بیان جس کو قتل کردیا جائے اور وہ اپنا خون معاف کر دے
حدیث نمبر: 29408
٢٩٤٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن بن طاوس قال: قلت لأبي الرجل يقتل فيعفو عن دمه، قال: جائز، قال: قلت: خطأ أم عمدًا؟ قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن طاؤس فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حضرت طاؤس سے دریافت کیا : آدمی کو قتل کردیا گیا پس اس نے اپنا خون معاف کردیا ؟ آپ نے فرمایا : جائز ہے۔ میں نے دریافت کیا : چاہے قتل خطاء یا عمد ہو ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29408
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29408، ترقيم محمد عوامة 28175)
حدیث نمبر: 29409
٢٩٤٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (هشيم) (١) عن يونس عن الحسن أنه كان يقول: إذا عفا الرجل عن قاتله في العمد قبل أن يموت فهو جائز.
مولانا محمد اویس سرور
یونس فرماتے ہیں کہ حسن بصری فرمایا کرتے تھے : جب آدمی اپنے مرنے سے پہلے ہی اپنے قاتل کو جو جان بوجھ کر اسے قتل کرتا ہے اس کو معاف کردے تو یہ جائز ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29409
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29409، ترقيم محمد عوامة 28176)
حدیث نمبر: 29410
٢٩٤١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا سعيد عن قتادة أن عروة بن مسعود الثقفي دعا قومه إلى اللَّه و (١) رسوله فرماه رجل منهم بسهم، فمات فعفا (٢)، فرفع ذلك إلى النبي ﷺ فأجاز عفوه، وقال: "هو كصاحب ياسين" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ بن مسعود ثقفی نے اپنی قوم کو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف دعوت دی تو ان میں سے ایک آدمی نے ان کو تیر مارا جس سے ان کی وفات ہوگئی۔ انہوں نے اس کو معاف کردیا تھا۔ پھر یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی معافی کو نافذ کیا اور فرمایا : یہ سورة یٰسین میں مذکور شخص کی طرح ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29410
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ قتادة تابعي، أخرجه ابن عبد البر في الاستذكار ٨/ ١٨٠، وابن حزم في المحلى ١٠/ ٤٨٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29410، ترقيم محمد عوامة 28177)
حدیث نمبر: 29411
٢٩٤١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: سمعت عطاء يقول: إن (وهب) (١) الذي يقتل خطأ ديته لمن قتله فإنما له منها الثلث، إنما هو (من) (٢) مال يوصي به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء کو یوں فرماتے ہوئے سنا : کہ جس شخص کو غلطی سے قتل کیا گیا اگر اس نے اپنی دیت قاتل کو ھبہ کردی تو اس کی طرف سے یہ ھبہ قاتل کے لیے تہائی دیت میں ہوگا اس لیے کہ یہ بھی مال ہے جس کی اس نے وصیت کی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29411
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29411، ترقيم محمد عوامة 28178)
حدیث نمبر: 29412
٢٩٤١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن ابن مبارك عن معمر عن سماك بن الفضل عن عمر بن عبد العزيز قال: من الثلث.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سماک بن فضل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ارشاد فرمایا : تہائی دیت میں ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29412
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29412، ترقيم محمد عوامة 28179)