حدیث نمبر: 29396
٢٩٣٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن عبد العزيز بن عمر قال: حدثني بعض الذين قدموا على أبي قال: قال النبي ﷺ: "أيما طبيب تطبب على قوم ⦗١٩٤⦘ ولم يعرف بالطب قبل ذلك فأعنت فهو ضامن" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالعزیز بن عمر فرماتے ہیں کہ مجھے ان لوگوں نے یہ بات بیان کی جو میرے والد کے پاس تشریف لائے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر وہ معالج جس نے کسی قوم کا علاج کیا درا نحالی کہ کہ وہ اس سے قبل علاج سے بالکل واقف نہ تھا پس اس نے مرض بگاڑ دیا تو وہ شخص ضامن ہوگا۔ عبدالعزیز فرماتے ہیں کہ یہ ضمان مرض کی تشخیص ضر نہیں بلکہ رگوں کو کاٹنے اور چیر لگانے پر ہے۔
حدیث نمبر: 29397
٢٩٣٩٧ - قال عبد العزيز: أما إنه ليس بالعنت، ولكنه قطع العروق والبط.
حدیث نمبر: 29398
٢٩٣٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن قال: إذا جاوز الطبيب ما أمر به فهو ضامن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حسن بصری نے ارشاد فرمایا : جس بات کا حکم دیا گیا تھا جب معالج نے اس سے تجاوز کیا تو وہ ضامن ہوگا۔
حدیث نمبر: 29399
٢٩٣٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر وعمر بن هارون عن ابن جريج عن عطاء في الطبيب يبط فيموت، قال: ليس عليه عقل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء نے اس معالج کے بارے میں کہ جس نے پھوڑے میں شگاف ڈالا پس مریض مرگیا، آپ نے یوں ارشاد فرمایا : اس پر دیت لازم نہیں ہوگی۔
حدیث نمبر: 29400
٢٩٤٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل عن هشام بن الغاز الجرشي عن أبي قرة أن عمر بن عبد العزيز ضمن الخاتن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قرہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ختنہ کرنے والے کو ضامن بنایا۔
حدیث نمبر: 29401
٢٩٤٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن عياش عن سعيد بن يوسف عن يحيى بن أبي كثير أن امرأة خفضت جارية فاعنتتها (فماتت) (١) فضمنها علي الدية (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن یوسف فرماتے ہیں کہ حضرت یحییٰ بن ابی کثیر نے ارشاد فرمایا : ایک عورت نے کسی بچی کا ختنہ کیا تو اس کو تکلیف میں مبتلا کردیا جس سے اس کی وفات ہوگئی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو دیت کا ضامن بنایا۔
حدیث نمبر: 29402
٢٩٤٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا شريك عن غيلان بن جامع المحاربي عن أبي عون الثقفي عن شريح قال: ليس على المداوي ضمان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عون ثقفی فرماتے ہیں کہ حضرت شریح نے ارشاد فرمایا : دوا کرنے والے پر ضمان لازم نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 29403
٢٩٤٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا وكيع) (١) (قال) (٢): حدثنا يونس عن ⦗١٩٥⦘ جابر (عن عامر) (٣) قال: ليس على (مداوٍ) (٤) ضمانٌ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا : دوائی دینے والے پر ضمان لازم نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 29404
٢٩٤٠٤ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا يونس (بن) (١) أبي إسحاق قال: سمعت الشعبي يقول: ليس على حجام ولا بيطار ولا مداو ضمان] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یونس بن ابو اسحق فرماتے ہیں کہ میں نے امام شعبی کو یوں فرماتے ہوئے سنا : پچھنے لگانے والے پر، جانوروں کا علاج کرنے والے اور دوائی دینے والے پر ضمان لازم نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 29405
٢٩٤٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن جابر عن عامر في بيطار نزع ظفرة من عين فرس (فنفق) (١) الفرس، قال: يضمن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عامرشعبی نے اس جانور کے معالج کے بارے میں جس نے گھوڑے کی آنکھ سے مہ سے کو کھینچا جس سے وہ گھوڑا ہلاک ہوگیا : آپ نے یوں ارشاد فرمایا : اس کو ضامن بنایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 29406
٢٩٤٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الثقفي عن أيوب عن أبي قلابة عن أبي المليح أن ختانة بالمدينة ختنت جارية فماتت، فقال لها عمر: ألا أبقيت كذا وجعل ديتها على عاقلتها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الملیح فرماتے ہیں کہ مدینہ میں ایک ختنہ کرنے والی عورت نے کسی بچی کا ختنہ کیا پس وہ بچی مرگئی حضرت عمر نے اس سے کہا، تو نے اتنا بھی رحم نہیں کیا اور آپ نے اس بچی کی دیت اس ختنہ کرنے والی عورت کے خاندان پر ڈالی۔
حدیث نمبر: 29407
٢٩٤٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن ابن جريج عن أيوب عن أبي قلابة أن امرأة كانت تخفض (الجواري) (١) (فاعتدت) (٢) فضمنها عمر وقال: ألا أبقيت كذا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ایوب فرماتے ہیں کہ حضرت ابو قلابہ نے ارشاد فرمایا : ایک عورت نے چند بچیوں کا ختنہ کیا پس اس نے ان کو تکلیف و بیماری میں مبتلا کردیا تو حضرت عمر نے اس عورت کو ضامن بنایا اور فرمایا کہ تو نے اتنا سا بھی رحم نہیں کیا۔