کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو یوں کہے: دیت تقسیم کی جائے گی ان لوگوں پر جن کے لیے میراث تقسیم ہوئی
حدیث نمبر: 29360
٢٩٣٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن ليث عن أبي عمرو العبدي عن علي قال: تقسم الدية لمن أحرز الميراث (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عمرو عبدی فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : دیت تقسیم کی جائے گا ان لوگوں کے لیے جو وراثت کے حقدار ہوں۔
حدیث نمبر: 29361
٢٩٣٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن الأعمش عن إبراهيم قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الدية للميراث والعقل على العصبة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دیت کے حقدار وارث ہوں گے اور دیت خاندان والوں پر لازم ہوگی۔
حدیث نمبر: 29362
٢٩٣٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الثقفي عن أيوب عن أبي قلابة أنه كان يتحدث أن الدية سبيلها سبيل الميراث.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب فرماتے ہیں کہ حضرت ابو قلابہ بیان فرمایا کرتے تھے دیت کی تقسیم کا طریقہ وہی ہے جو میراث کی تقسیم کا طریقہ ہے۔
حدیث نمبر: 29363
٢٩٣٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن أشعث عن الشعبي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی اور ابراہیم نے ارشاد فرمایا : دیت ورثہ کو ملے گی۔
حدیث نمبر: 29364
٢٩٣٦٤ - و (جهم) (١) عن إبراهيم (قالا) (٢): الدية للميراث.
حدیث نمبر: 29365
٢٩٣٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن قال: على كتاب اللَّه كسائر ماله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حسن بصری نے ارشاد فرمایا : اس کو بھی کتاب اللہ پر پیش کریں گے اس کے تمام مال کی طرح۔
حدیث نمبر: 29366
٢٩٣٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن بن جريج عن ابن طاوس أن أباه كان يقول ويقضي بأن الوراث (أجمعين) (١) يرثون من العقل مثل الميراث.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن طاؤس فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت طاؤس فرماتے تھے اور یوں فیصلہ کرتے تھے کہ تمام کے تمام ورثہ وراثت کے مال کی طرح دیت کے وارث بنیں گے۔
حدیث نمبر: 29367
٢٩٣٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: قلت لعطاء: العقل كهيئة الميراث؟ قال: نعم، قلت: ويرث الإخوة من الأم (فيه؟) (١) قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا : کیا دیت میراث کے طریقہ سے ہی تقسیم ہوگی ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں ! میں نے عرض کیا : کیا ماں شریک بھائی بھی اس میں وارث بنے گا ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں۔