کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: بیوی اپنے شوہر کے قتل کے بدلے میں ملنے والی دیت کی وارث ہوگی
حدیث نمبر: 29354
٢٩٣٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن سعيد أن عمر كان يقول: الدية (للعاقلة) (١) ولا ترث المرأة من دية زوجها شيئًا حتى كتب إليه الضحاك بن سفيان الكلابي أن رسول اللَّه ﷺ ورث امرأة أشيم الضبابي من دية زوجها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فرمایا کرتے تھے، دیت خاندان والوں کا حق ہے بیوی کو اپنے خاوند کی دیت میں سے وراثت کا کچھ حصہ بھی نہیں ملے گا یہاں تک کہ حضرت ضحاک بن سفیان کلابی نے آپ کو خط لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے خاوند کی دیت کا وارث بنایا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29354
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أبودود (١٩٢٧)، والترمذي (١٤١٥)، وابن ماجه (٢٦٤٢)، والنسائي في الكبرى (٦٣٦٣)، وسعيد بن منصور (٢٩٥)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٤٩٦)، والطبراني (٨١٤٢)، والبيهقي (٨/ ٥٧)، وأحمد (١٥٧٤٦)، وانظر: ما بعده.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29354، ترقيم محمد عوامة 28123)
حدیث نمبر: 29355
٢٩٣٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة عن يحيى بن سعيد عن الزهري عن سعيد بن المسيب قال: قام عمر بمنى فسأل الناس (فقال) (١): من عنده علم من ميرات المرأة من عقل زوجها؟ فقام الضحاك بن سفيان الكلابي فقال: ادخل قبتك حتى أخبرك، (فدخل) (٢) فأتاه فقال: كتب إلي رسول اللَّه صلى اللَّه عليه (وسلم) (٣) أن أورث امرأة أشيم الضبابي من عقل زوجها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے منٰی میں کھڑے ہو کر لوگوں سے سوال کیا ! کون شخص ہے جس کے پاس اس بارے میں علم ہو کہ کیا عورت اپنے خاوند کی دیت کی وارث بنے گی ؟ اس پر حضرت ضحاک بن سفیان کلابی کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا آپ اپنے خیمہ میں داخل ہوجائیں یہاں تک کہ میں آپ کو اس بارے میں خبردوں آپ داخل ہوگئے پس حضرت ضحاک آپ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے خط لکھا تھا کہ میں اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے خاوند کی دیت کا وارث بناؤں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29355
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٥٧٤٥)، والنسائي في الكبرى (٦٣٦٥)، والطبراني (٨١٤٠)، وعبد الرزاق (١٧٧٦٥)، وسعيد بن منصور (٢٩٦)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٤٩٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29355، ترقيم محمد عوامة 28124)
حدیث نمبر: 29356
٢٩٣٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم في الرجل يُقتل عمدًا فيعفو بعض الورثة قال: لامرأته ميراثها من الدية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ایسے آدمی کے بارے میں جس کو قتل کردیا گیا ہو پھر بعض ورثہ نے اس کا خون معاف کردیا۔ آپ نے اس مقتول کی بیوی کے بارے میں ارشاد فرمایا : اس کو دیت میں سے وراثت ملے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29356
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29356، ترقيم محمد عوامة 28125)
حدیث نمبر: 29357
٢٩٣٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أسابط بن محمد عن هشام عن الحسن قال: ترث المرأة من دم زوجها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حسن بصری نے ارشاد فرمایا : بیوی اپنے خاوند کی دیت کی وراث بنے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29357
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29357، ترقيم محمد عوامة 28126)
حدیث نمبر: 29358
٢٩٣٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معن بن عيسى عن ابن أبي ذئب عن الزهري قال: إذا قبل العقل في العمد كان ميراثا ترثه الزوجة وغيرها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ذئب فرماتے ہیں کہ امام زہری نے ارشاد فرمایا : جب قتل عمد کی صورت میں دیت قبول کی گئی تو وہ وراثت شمار ہوگی اور خاوند کی بیوی اور اس کے علاوہ لوگ اس کے وارث بنیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29358
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29358، ترقيم محمد عوامة 28127)
حدیث نمبر: 29359
٢٩٣٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن سالم عن الشعبي عن عمر أنه قال: يرث من الدية كل وارث والزوج والمرأة في الخطأ والعمد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : ہر وارث کو اور شوہر بیوی کو قتل خطاء اور عمد کی صورت میں دیت میں وراثت ملے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29359
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًّا؛ محمد بن سالم متروك.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29359، ترقيم محمد عوامة 28128)