کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: آدمیوں اور عورتوں کے درمیان قصاص کا بیان
حدیث نمبر: 29283
٢٩٢٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن (جعفر) (١) بن برقان عن عمر بن عبد العزيز قال: القصاص (فيما) (٢) بين الرجل والمرأة في العمد فيما بينه وبين النفس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر بن برقان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ارشاد فرمایا کہ عمد کی صورت مرد اور عورت کے مابین وہی قصاص ہے جو ایک نفس سے دوسرے نفس کے بدلے ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29283
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29283، ترقيم محمد عوامة 28057)
حدیث نمبر: 29284
٢٩٢٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن مغيرة عن إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اور حضرت عامرشعبی ان دونوں حضرات نے ارشاد فرمایا : قصاص آدمی اور عورت کے درمیان عمد کی صورت میں ہر چیز میں ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29284
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29284، ترقيم محمد عوامة 28058)
حدیث نمبر: 29285
٢٩٢٨٥ - وعن جابر عن الشعبي (قالا) (١): القصاص فيما بين الرجل (والمرأة) (٢) في العمد في كل شيء.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29285
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29285، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 29286
٢٩٢٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن الشيباني عن حماد (١) (٢) أنه كان ⦗١٧١⦘ لا يرى بين (الرجال والنساء) (٣) قصاصًا فيما دون النفس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شیبانی فرماتے ہیں کہ حضرت حماد آدمیوں اور عورتوں کے درمیان جان سے کم زخم کی صورت میں قصاص لینے کو جائز نہیں سمجھتے تھے، اور حضرت حکم نے ارشاد فرمایا : ہم نے ان دونوں کے بارے میں اس کے متعلق کوئی حدیث نہیں سنی اور یقینا ان دونوں کے درمیان قصاص بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29286
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29286، ترقيم محمد عوامة 28059)
حدیث نمبر: 29287
٢٩٢٨٧ - وقال الحكم: ما سمعنا فيهما بشيء وإن القصاص بينهما (لحسن) (١).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29287
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29287، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 29288
٢٩٢٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى عن الأوزاعي عن الزهري قال: مضت السنة في الرجل يضرب امرأته فيجرحها أن لا (تقتص) (١) منه ويعقل لها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اوزاعی فرماتے ہیں کہ امام زہری نے ارشاد فرمایا : سنت اس بارے میں گزر چکی ہے کہ آدمی نے عورت کو مار کر زخمی کردیا تو اس آدمی سے قصاصاً بدلہ لیا جائے گا اور وہ آدمی عورت کو دیت ادا کرے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29288
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الزهري تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29288، ترقيم محمد عوامة 28060)
حدیث نمبر: 29289
٢٩٢٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن إسماعيل بن أمية عن الزهري (قال) (١): (لا) (٢) (يقص) (٣) (للمرأة) (٤) من زوجها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن امیہ فرماتے ہیں امام زہری نے ارشاد فرمایا ! کسی بیوی کے لیے اس کے شوہر سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29289
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29289، ترقيم محمد عوامة 28061)
حدیث نمبر: 29290
٢٩٢٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع قال: حدثنا) (١) سفيان عن عيسى ابن أبي (عزة) (٢) عن الشعبي في رجل (ابترك) (٣) امرأته أن يجامعها (فدق سنها) (٤)، قال: يضمن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عیسیٰ بن ابو عزہ فرماتے ہیں ک حضرت شعبی نے ایسے آدمی کے بارے میں جس نے عورت کو سینہ کے بل لٹایا تا کہ اس سے جماع کرے اور اس طرح سے اس کا دانت توڑ دیا آپ نے فرمایا ! وہ شخص ضمان ادا کرے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29290
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29290، ترقيم محمد عوامة 28062)
حدیث نمبر: 29291
٢٩٢٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن حماد قال: ليس بين الرجل والمرأة قصاص فيما دون النفس في العمد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ حضرت حماد نے ارشاد فرمایا : آدمی اور عورت کے درمیان قتل عمد سے کم میں قصاص نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29291
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29291، ترقيم محمد عوامة 28063)
حدیث نمبر: 29292
٢٩٢٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا جرير بن حازم عن الحسن في رجل لطم امرأته فأتت تطلب القصاص، فجعل النبي ﷺ بينهما القصاص فأنزل اللَّه تعالى: ﴿وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُقْضَى إِلَيْكَ وَحْيُهُ﴾ [طه: ١١٤]، ونزلت: ﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ﴾ (١) [النساء: ٣٤].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر بن حازم فرماتے ہیں کہ حسن بصری نے ارشاد فرمایا : کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کے منہ پر تھپڑ مارا تو وہ عورت قصاص طلب کرنے کے لیے آگئی اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان قصاص کا فیصلہ فرما دیا اس پر اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل فرمائی۔ : اور قرآن پڑھنے میں جلدی مت کرو اس سے پہلے کہ پوری پہنچے تم تک اس کی وحی اور یہ آیت اتری مرد سرپرست و نگہبان ہیں عورتوں کے اس بنا پر کہ اللہ نے فضیلت دی ہے انسانوں میں بعض کو بعض پر۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29292
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الحسن تابعي، أخرجه ابن جرير ٥/ ٥٨، والواحدي في أسباب النزول ص ١٥١، وانظر: الدر المنثور ٢/ ٥١٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29292، ترقيم محمد عوامة 28064)
حدیث نمبر: 29293
٢٩٢٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا القاسم بن الفضل (الحداني) (١) عن محمد بن زياد قال: كانت جدتي (أم) (٢) ولد لعثمان بن مظعون، فلما مات عثمان جرحها ابن عثمان جرحًا، فذكرت ذلك لعمر بن الخطاب فقال له (عمر) (٣): أعطها أرشًا مما صنعت بها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم بن فضل حدانی فرماتے ہیں کہ حضرت محمد بن زیاد نے ارشاد فرمایا میری دادی حضرت عثمان بن مظعون کی ام ولدہ تھیں۔ جب حضرت عثمان کی وفات ہوگئی تو حضرت عثمان کے بیٹے نے ان کو زخم لگایا ، پس انہوں نے یہ بات حضرت عمر بن خطاب کے سامنے ذکر کردی حضرت عمر نے ان سے فرمایا : جو تم نے ان کے ساتھ معاملہ کیا ہے اس کی دیت ان کو ادا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29293
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29293، ترقيم محمد عوامة 28065)