حدیث نمبر: 29201
٢٩٢٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: ما كان من جرح من العمد لا يستطاع فيه القصاص فهو على الجارح في ماله دون عاقلته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : جو زخم قصداً لگایا ہو اور اس میں قصاص لینا ممکن نہ ہو تو اس کا ضمان زخم لگانے والے کے مال میں لازم ہوگا نہ کہ اس کے خاندان والوں پر۔
حدیث نمبر: 29202
٢٩٢٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة قال: سألت الحكم عن العمد الذي لا يستطاع أن يستقاد منه فقال: على العاقلة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم سے ایسے قصداً لگائے ہوئے زخم کے بارے میں سوال کیا جس میں قصاص لینا ممکن نہ ہو ؟ آپ نے فرمایا اس کی دیت خاندان والوں پر لازم ہوگی اور میں نے حضرت حماد سے پوچھا ؟ آپ نے فرمایا : اس شخص کے مال میں لازم ہوگی۔
حدیث نمبر: 29203
٢٩٢٠٣ - وسألت حمادًا فقال: في ماله.
حدیث نمبر: 29204
٢٩٢٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن يزيد عن أيوب أبي العلاء عن قتادة قال: كل شيء لا يقاد منه فهو على العاقلة.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب ابو العلائ فرماتے ہیں کہ حضرت قتادہ نے ارشاد فرمایا : ہر وہ زخم جس میں قصاص لینا ممکن نہ ہو تو اس کا ضمان خاندان والوں پر ہوگا۔
حدیث نمبر: 29205
٢٩٢٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: أخبرني هشام عن أبيه قال: كل عمد ليس فيه قود فعقله في مال المصيب، وإن لم يكن له مال فعلى عاقلة المصيب إن قطع (يمينًا) (١) عمدًا، (و) (٢) كانت يمين القاطع قد قطعت ⦗١٥٤⦘ قبل ذلك فعقلها في مال القاطع، (فإن) (٣) لم يكن له مال فعلى عاقلته، وإن كانت له يد يسرى لم يقد منها، والعقل كذلك، (و) (٤) الأعضاء كلها كذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ نے ارشاد فرمایا : ہر وہ عمد جس میں قصاص ممکن نہ ہو تو اس کی دیت زخم لگانے والے کے مال میں لازم ہوگی اور اگر ا س کے پاس مال نہ ہو تو زخم لگانے والے کے خاندان پر لازم ہوگی۔ یعنی اگر اس نے کسی کا داہنا ہاتھ قصداً کاٹ دیا اور کاٹنے والے کا داہنا ہاتھ اس سے پہلے ہی کٹا ہوا تھا تو اس کی دیت کاٹنے والے کے مال میں لازم ہوگی اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو اس کے خاندان والوں پر لازم ہوگی اگرچہ اس کا بایاں ہاتھ موجود ہو پھر بھی قصاصاً نہیں کاٹا جائے گا اور دیت کا بھی یہی معاملہ ہوگا اور سارے کے سارے اعضاء کا بھی یہی معاملہ ہے۔