کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ام ولد کے جنایت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 29126
٢٩١٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إبراهيم بن صدقة عن سفيان (بن) (١) حسين عن الحكم أنه كان يقول في جناية أم الولد: لا تعدو (قيمتها) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان بن حسین فرماتے ہیں کہ حضرت حکم ، ام ولد کی جنایت کے تاوان کے بارے میں فرمایا کرتے تھے : وہ اس کی قیمت سے تجاوز نہ کرتاہو اور حضرت حماد نے فرمایا : جو اس نے جنایت کی ہے اسی کی دیت ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29126
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29126، ترقيم محمد عوامة 27912)
حدیث نمبر: 29127
٢٩١٢٧ - قال حماد: دية ما جنت.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29127
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29127، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 29128
٢٩١٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن خالد عن أبي معشر عن إبراهيم قال: جناية أم الولد على سيدها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو معشر فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : ام ولد کے جرم کا تاوان اس کے آقا پر لازم ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29128
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29128، ترقيم محمد عوامة 27913)
حدیث نمبر: 29129
٢٩١٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري في أم الولد إذا جنت جناية فعلى سيدها جنايتها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معمر فرماتے ہیں کہ حضرت زہری نے ام ولد کی جنایت کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا : جب وہ کوئی قابل سزا جرم کرے تو اس کے آقا پر اس جرم کا تاوان لازم ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29129
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29129، ترقيم محمد عوامة 27914)
حدیث نمبر: 29130
٢٩١٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن في أم الولد تجني قال: (تُقوّم) (١) على سيدها.
مولانا محمد اویس سرور
یونس فرماتے ہیں کہ حسن بصری نے ام ولد کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا ! جب وہ قابل سزا جرم کرے تو اس کے آقا کے سامنے اس کی قیمت لگائی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29130
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29130، ترقيم محمد عوامة 27915)
حدیث نمبر: 29131
٢٩١٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن زكريا قال: سئل عامر عن سرية قتلت امرأة ومولاها حي لم يعتقها وقد ولدت له، قال: هي أمة إن شاء مولاها أدى عنها، وإن شاء أسلمها برمتها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زکریا فرماتے ہیں کہ حضرت عامرشعبی سے پوچھا گیا اس باندی کے متعلق جس نے کسی عورت کو قتل کردیا اور اس کا آقا زندہ ہے اس نے اسے آزاد نہیں کیا درآنحالیکہ وہ اس کی ام ولد ہے ؟ آپ نے فرمایا ! یہ تو باندی ہے اگر اس کا آقا چاہے تو اس کی طرف سے دیت ادا کردے اور اگر چاہے تو اس کا م کے سبب سے اس کو ان لوگوں کے سپرد کردے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29131
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29131، ترقيم محمد عوامة 27916)