حدیث نمبر: 29041
٢٩٠٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة أن رسول اللَّه ﷺ قضى في الجنين (١): عبدًا (٢) أو أمة فقال: "الذي قضي عليه (أيُعقل) (٣) من (لا) (٤) شرب ولا أكل، ولا صاح (فإن استهل) (٥) ومثل ذلك بطل" (٦)، فقال رسول اللَّه ﷺ: "إن هذا (ليقول) (٧) (بقول) (٨) شاعر، فيه غرة: عبد أو أمة" (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورت کے پیٹ میں موجود بچہ کو ساقط کرنے کی صورت میں ایک غلام یا باندی کا فیصلہ فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس شخص کے خلاف فیصلہ فرمایا تھا وہ کہنے لگا : کیا اس کی دیت دی جائے گی جس نے نہ کچھ پیا اور نہ ہی کچھ کھایا اور نہ ی وہ زور سے چیخا ؟ اس جیسا خون تو رائیگاں جاتا ہے ؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یقینا یہ شخص تو شاعر جیسی بات کررہا ہے بہر حال پیٹ میں موجود بچہ ہلاک کرنے کی صورت میں غرہ یعنی ایک غلام یا باندی دینا لازم ہے۔
حدیث نمبر: 29042
٢٩٠٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن هشام بن عروة عن أبيه عن المسور بن مخرمة قال: استشار عمر بن الخطاب في إملاص المرأة فقال المغيرة بن ⦗١٢٧⦘ شعبة: شهدت النبي ﷺ قضى فيه (بغرة) (١) عبد أو أمة قال: فقال (له) (٢) عمر: ائتني بمن (شهد) (٣) معك، فشهد له محمد بن مسلمة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسور بن مخرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب لوگوں سے عورت کے پیٹ میں موجود بچہ کو ولادت سے پہلے ہلاک کردینے کے بارے میں مشورہ کررہے تھے کہ اس صورت میں کیا دیت ہوگی ؟ تو حضرت مغیرہ بن شعبہ فرمانے لگے : میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس معاملہ میں غرہ یعنی ایک غلام یا باندی کا فیصلہ فرمایا تھا، حضرت عمر نے ان سے فرمایا تم کوئی ایسا شخص لاؤ جو تمہارے ساتھ اس فیصلہ کی گواہی دے تو حصرت محمد بن مسلمہ نے ان کے حق میں گواہی دی۔
حدیث نمبر: 29043
٢٩٠٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن عبد الملك عن عطاء قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "في الجنين (غرة) (١) عبد أو أمة أو بغل" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عورت کے پیٹ میں موجود بچہ ہلاک کردینے کی صورت میں غرہ یعنی ایک غلام یا باندی یا خچر ہوگا۔
حدیث نمبر: 29044
٢٩٠٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام عن أبيه قال: فيه عبد أو أمة أو فرس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عروہ نے ارشاد فرمایا عورت کے پیٹ میں موجود بچہ ہلاک کردینے کی صورت میں ایک غلام یا باندی یا گھوڑا ادا کرنا ہوگا۔
حدیث نمبر: 29045
٢٩٠٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن أشعث عن الشعبي قال: غرة عبد أو أمة لأمه أو لأقرب الناس منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ امام شعبی نے ارشاد فرمایا کہ غرہ سے مراد ایک غلا م یا باندی ہے جو اس ہلاک ہونے والے بچہ کی ماں یا اس کے قریبی رشتہ دار کو ملے گی۔
حدیث نمبر: 29046
٢٩٠٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن أشعث عن ابن سيرين والحكم قالا: جنين الحرة عبد أو أمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین اور حضر ت حکم ان دونوں حضرات نے ارشاد فرمایا : آزاد عورت کے پیٹ میں موجود بچہ ہلاک کردینے کی صورت میں ایک غلام یا باندی دینا ہوگی۔
حدیث نمبر: 29047
٢٩٠٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن محمد بن قيس عن (الشعبي) (١) (في) (٢) رجل ضرب بطن امرأته فأسقطت قال: عليه غرة يرثها و (ترثه) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن قیس فرماتے ہیں کہ امام شعبی نے ایسے شخص کے بارے میں جس نے کسی عورت کے پیٹ پر ضرب لگا کر اس کے حمل کو ساقط کردیا ہو۔ آپ نے یوں ارشاد فرمایا : اس شخص پر غرہ یعنی ایک غلام یا باندی لازم ہوگی۔
حدیث نمبر: 29048
٢٩٠٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام عن ليث عن طاوس ومجاهد (قالا) (١): في الغرة عبد أو أمة أو فرس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت طاؤس اور حضر ت مجاہد ان دونوں حضرات نے ارشاد فرمایا ! غرہ سے مراد غلام یا باندی یا گھوڑا ہے۔
حدیث نمبر: 29049
٢٩٠٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن ليث عن مجاهد قال: عبد أو أمة أو فرس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت طاؤس اور حضر ت مجاہد ان دونوں حضرات نے ارشاد فرمایا ! غرہ سے مراد غلام یا باندی یا گھوڑا ہے۔
حدیث نمبر: 29050
٢٩٠٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن مغيرة عن إبراهيم قال: في امرأة شربت دواء فأسقطت، قال: (تعتق) (١) رقبة وتعطي أباه غرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ایسی عورت کے بارے میں جس نے دوا پی کر اپنا حمل ساقط کردیا۔ آپ نے یوں فرمایا ! کہ وہ عورت غلام آزاد کرے گی اور اس بچہ کے والد کو غرہ یعنی غلام یا باندی دے گی۔
حدیث نمبر: 29051
٢٩٠٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يونس بن محمد قال: حدثنا عبد الواحد بن زياد عن (مجالد) (١) عن الشعبي عن جابر بن عبد اللَّه عن النبي ﷺ (٢) أنه قال: "في الغرة عبد أو أمة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : غرہ میں ایک غلام یا باندی ادا کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 29052
٢٩٠٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن عامر قال: في أصل كل حبل غرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عامر نے ارشاد فرمایا ! ہر حمل کی بنیاد میں ہی غرہ یعنی غلام یا باندی ہے اور حضرت حکم نے فرمایا : حمل کی ابتداء میں تو صلح ہوگی یہاں تک کہ بچہ کی خلقت ظاہر ہوجائے۔ حضرت وکیع نے فرمایا : حضرت حکم کا قول امام شعبی کے قول سے زیادہ پسند یدہ ہے۔
حدیث نمبر: 29053
٢٩٠٥٣ - قال: وقال الحكم: فيه صلح حتى يستبين خلقه.
حدیث نمبر: 29054
٢٩٠٥٤ - قال وكيع: وقول الحكم أحسن من قول الشعبي.