کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر کوئی غلام جنایت کرے اور پھر اس کا آقا اسے آزاد کر دے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 28951
٢٨٩٥١ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن مغيرة عن إبراهيم قال: إن جنى جناية فعلم بجنايته فأعتقه فهو ضامن لجنايته] (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم کا ارشاد ہے کہ جب غلام نے کوئی جنایت کی پھر مالک کو اس کی جنایت کا علم ہوگیا اور اس نے اسے آزاد کردیا تو وہ اس جنایت کا ضامن ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 28951
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28951، ترقيم محمد عوامة 27751)
حدیث نمبر: 28952
٢٨٩٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن جابر عن عامر مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 28952
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28952، ترقيم محمد عوامة 27752)
حدیث نمبر: 28953
٢٨٩٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري في العبد يجر الجريرة فيعتقه سيده أنه يجوز عتقه ويضمن سيده (ثمنه) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری سے مروی ہے کہ غلام جب کوئی گناہ کرے اور اس کا مالک اس کو آزاد کردے تو اس کا آزاد کرنا جائز ہوگا اور وہ اس کی قیمت کا ضامن ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 28953
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28953، ترقيم محمد عوامة 27753)
حدیث نمبر: 28954
٢٨٩٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد عن أشعث عن [محمد في العبد يجني الجناية قال: في رقبته، قلت: فإن أعتقه مولاه قال: عليه قيمته.
مولانا محمد اویس سرور
محمد سے غلام کے بارے میں مروی ہے کہ جب وہ جنایت کرے تو اس کی گردن پر ہوگا حضرت اشعث کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ اگر اس کا مالک اس کو آزاد کردے تو ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ پھر اس پر اس کی قیمت لازم ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 28954
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28954، ترقيم محمد عوامة 27754)
حدیث نمبر: 28955
٢٨٩٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي عدي عن أشعث عن] (١) الحسن في عبد جنى جناية فعلم مولاه فأعتقه قال: يسعى العبد في جنايته.
مولانا محمد اویس سرور
حسن کا ارشاد مروی ہے غلام کے بارے میں کہ جب اس نے کوئی جنایت کی پھر اس کے آقا کو علم ہوگیا اور اس نے اسے آزاد کردیا، تو غلام اپنی جنایت کی ادائیگی میں خودکوشش کرے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 28955
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28955، ترقيم محمد عوامة 27755)
حدیث نمبر: 28956
٢٨٩٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الصمد بن (عبد الوارث) (١) عن جرير بن حازم عن حماد سئل عن العبد يصيب الجناية قال: سيده بالخيار، إن شاء دفعه وإن شاء أسلمه، فإن أعتقه فعليه ثمن العبد، وليس على العبد شيء إذا أعتق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد سے مروی ہے کہ ان سے اس غلام کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے جنایت کا ارتکاب کیا ہو ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کا آقا مختار ہے اگر چاہے تو غلام دیدے اور اگر چاہے تو اس کو روک لے اور اگر اس نے اسے آزاد کردیا تو اس پر غلام کی قیمت لازم ہوگی اور غلام کو جب آزاد کردیا تو اس پر کوئی چیز لازم نہیں ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 28956
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28956، ترقيم محمد عوامة 27756)
حدیث نمبر: 28957
٢٨٩٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن طارق عن الشعبي في عبد قتل رجلًا (حرًا) (١) فبلغ مولاه فأعتقه، قال: عتقه جائز وعلى مولاه الدية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی کا ایسے غلام کے بارے میں ارشاد مروی ہے کہ جس نے آزاد آدمی کو قتل کردیا پھر اس کے آقا کو خبر ملی تو اس نے آزاد کردیا وہ فرماتے ہیں کہ اس کا آزاد کرنا جائز ہوگا اور اس کے آقا پر دیت لازم ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 28957
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28957، ترقيم محمد عوامة 27757)
حدیث نمبر: 28958
٢٨٩٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: سمعت سفيان يقول: إن كان مولاه أعتقه وقد علم بالجناية فهو ضامن (للجناية) (١) وإن لم يكن علم (بالجناية) (٢) فعليه قيمة العبد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ اگر اس کے آقا نے اس غلام کی جنایت کو جاننے کے بعد آزاد کیا تو وہ جنایت کا ضامن ہوگا اور اگر وہ آقا جنایت سے ناواقف تھا تو اس کے اوپر غلام کی قیمت لازم ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 28958
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28958، ترقيم محمد عوامة 27758)