حدیث نمبر: 28707
٢٨٧٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: قال لي عطاء: (في) (١) الأسنان (٢) الثنيتين والرباعيتين والنابين خمس خمس، وفيما بقي ⦗٦٥⦘ بعيران بعيران، [أعلى الفم (وأسفله من ذلك) (٣) سواء: (ثنيتا ورباعيتا) (٤) ونابا أعلى الفم وأسفله سواء] (٥)، (وأضراس) (٦) أعلى الفم (وأضراس) (٧) أسفل الفم (سواء) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج کا ارشاد ہے کہ مجھے عطاء نے کہا ہے کہ اوپر نیچے کے سامنے والے دو دو دانتوں، اور ان کے ساتھ والے چاروں اوپرنیچے کے دانتوں، اور کچلی کے دانتوں میں پانچ پانچ اونٹ ہیں اور باقی دانتوں میں دو دو اونٹ ہیں، اس میں اوپر کا منہ کا حصہ اور نے چ والا دو نوں برابر ہیں اوپر اور نیچے کے سامنے والے چاروں دانت اور ان کے ساتھ والے چار اور کچلی والے دانت، اور اسی طرح منہ کی اوپر والی ڈاڑھیں اور نیچے والی سب کے سب برابر ہیں دیت میں۔
حدیث نمبر: 28708
٢٨٧٠٨ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: أخبرني ابن أبي نجيح عن مجاهد مثل قول عطاء قال: الأسنان من أعلى الفم وأسفله والأضراس من أعلى الفم وأسفله سواء] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے بھی عطاء جیسا ہی قول مروی ہے کہ منہ کے اوپر والے دانت اور نیچے والے دانت، اسی طرح منہ کی اوپر والی ڈاڑھیں اور نیچے والی ڈاڑھیں سب برابر ہیں۔
حدیث نمبر: 28709
٢٨٧٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن ابن طاوس قال: قال أبي: يفضل بعضها على بعض بما يرى أهل الرأي والمشورة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ میرے والد نے فرمایا کہ بعض کو بعض پر رائے اور مشورہ کی رائے کے اعتبار سے فضیلت دی جائے گی۔
حدیث نمبر: 28710
٢٨٧١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: أخبرني عمرو بن مسلم أنه سمع طاوسا يقول: (يفضل) (١) (الست) (٢) في أعلى الفم وأسفله على (الأضراس) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج نے فرمایا ہے کہ مجھ کو عمرو بن مسلم نے بتایا کہ انہوں نے طاؤس کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اوپر نیچے کے چھ دانتوں کو ڈاڑھوں پر فضیلت ہوگی اور انہوں نے فرمایا کہ ڈاڑھوں میں چھوٹی عمر کے اونٹ دیے جائیں گے۔
حدیث نمبر: 28711
٢٨٧١١ - وأنه قال: في الأضراس صغار الإبل.
حدیث نمبر: 28712
٢٨٧١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن يحيى بن (سعيد) (١) عن سعيد ابن المسيب أن عمر بن الخطاب قضى فيما أقبل من الفم بخمس فرائض (خمس) (٢) -وذلك خمسون دينارًا قيمة كل فريضة عشرة دنانير- وفي الأضراس ببعير بعير (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے منہ کے سامنے والے دانتوں میں پانچ اونٹوں میں سے ایک کا فیصلہ کیا اور ہر اونٹ کی قیمت دس دینار ہے تو یہ کل پچاس دینار بن گئے اور ڈاڑھیں ایک اونٹ کا فیصلہ کیا اور یحییٰ فرماتے ہیں کہ سامنے والے دانت اوپر نیچے کے آگے والے چار دانت اور اس کے ساتھ اوپر نیچے کے چار دانت اور پھر کچلی والے دانت ہیں۔ حضرت سعید فرماتے ہیں کہ یوں ہی معاملہ چلتا رہا یہاں تک کہ حضر ت معاویہ کی ڈاڑھیں زخمی ہوئیں تو انہوں نے فرمایا کہ میں ڈاڑھوں کے بارے میں عمر سے زیادہ جانتا ہوں تو انہوں نے اس میں پانچ اونٹوں کا فیصلہ کیا حضرت سعید کا ارشاد ہے کہ حضرت عمر کے فیصلہ کے مطابق اگر تمام دانت ٹوٹ جائیں تو قیمت کم بنتی ہے۔ اور حضرت معاویہ کے فیصلہ کے مطابق دیت زیادہ بنتی ہے اور اگر میں ہوتا تو ڈاڑھوں میں دو دو اونٹ دیت مقرر کرتا۔
حدیث نمبر: 28713
٢٨٧١٣ - وذكر يحيى: أن ما أقبل من الفم: الثنايا والرباعيات (والأنياب) (١).
حدیث نمبر: 28714
٢٨٧١٤ - (١) قال: سعيد حتى إذا كان معاوية فأصيبت أضراسه قال: أنا أعلم بالأضراس من عمر، فقضى (فيها) (٢) خمس فرائض (٣).
حدیث نمبر: 28715
٢٨٧١٥ - فقال سعيد: لو أصيب الفم كله في قضاء عمر لنقصت (الدية) (١)، ولو أصيب في قضاء معاوية لزادت الدية، ولو كنت أنا: لجعلت في الأضراس بعيرين بعيرين.