حدیث نمبر: 28620
٢٨٦٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: بلغني أن عمر بن عبد العزيز جاء إليه رجل فقال: ضربني فلان حتى صمت إحدى أذني فقال: كيف (نعلم) (١)؟ فقال: ادعوا الأطباء، (فدعاهم) (٢) فشموها فقالوا: هذه الصماء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج نے فرمایا ہے کہ مجھ کو یہ خبر ملی ہے کہ عمر بن عبدالعزیز کے پاس ایک آدمی نے آ کر کہا کہ مجھے فلاں شخص نے مارا ہے یہاں تک کہ میرا ایک کان بہرا ہوگیا ہے تو حضرت عمر نے فرمایا ہمیں کیسے پتہ چلے گا تو اس نے جواب دیا کہ اطباء کو بلا لیجیے تو انہوں نے اطباء کو بلایا پھر انہوں نے سونگھ کر کہا کہ یہ بہرہ ہے۔
حدیث نمبر: 28621
٢٨٦٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عمر بن علي بن عطاء بن مقدم عن حجاج عن مكحول عن زيد بن ثابت في الرجل يدعي (أنه) (١) قد ذهب سمعه قال: يحلف عليه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت سے ایسے شخص کے بارے میں کہ جو اپنی سماعت کے زائل ہوجانے کا دعویٰ کرے ارشاد مروی ہے کہ اس آدمی سے اس پر قسم لی جائے گی۔
حدیث نمبر: 28622
٢٨٦٢٢ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن أشعث عن بعض أصحابه عن شريح: أن رجلًا ادعى أن سمعه قد ذهب. قال: تنظر إليه (الداريون) (١)، يعني الأطباء] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی شنوائی کے چلے جانے کا دعوی کیا تو انہوں نے اس پر اس کو قسم اٹھا نے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 28623
٢٨٦٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال: إذا سمع الرعد (فغشي) (١) عليه ففيه الدية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ جب اس نے کڑک دار آواز کو سنا اور بےہوش ہوگیا تو اسمیں دیت ہے۔
حدیث نمبر: 28624
٢٨٦٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن يمان عن سفيان عن جابر عن إبراهيم قال: (يغتفل) (١) فيصاح به.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے مروی ہے کہ اس کو بحالت غفلت پکارا جائے گا۔
حدیث نمبر: 28625
٢٨٦٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثنا الزبير بن جنادة قال: سألت عطاء عن رجل ضرب رجلًا فذهب سمعه، وقد كان سميعًا قال: يترك فإذا استثقل نومًا أجلب حولَه، فإن لم (يستنبه) (١) كانت الدية، وإن استنبه كانت حكومة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبیربن جنادہ کا ارشاد ہے کہ میں نے عطاء سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا کہ جس نے دوسرے کو مارا، پھر اس کی قوت سماعت چلی گئی، حالانکہ قبل ازیں وہ سنتا تھا ؟ تو عطاء نے جواب دیا کہ اسے چھوڑ دیا جائے گا، پھر جب وہ گہری نیند میں ہو تو اس کے اردگرد شور و غل کیا جائے اگر وہ نہ جاگے تو دیت ہوگی اور اگر جاگ جائے تو فیصلہ ہوگا۔