کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: سماعت اور بصارت ضائع کرنے کی دیت
حدیث نمبر: 28612
٢٨٦١٢ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا ابن نمير عن حجاج عن مكحول عن زيد بن ثابت قال: إذا ضرب الرجل حتى يذهب سمعه ففيه الدية (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت نے فرمایا ہے کہ جب آدمی کو اتنا مارا جائے اس کی شنوائی ختم ہوجائے تو اس میں دیت ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 28612
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28612، ترقيم محمد عوامة 27434)
حدیث نمبر: 28613
٢٨٦١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن في رجل ضُرب فذهب سمعه وبصره وكلامه قال: له ثلاث ديات.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جس کو مارا گیا اور اس کی شنوائی، گویائی اور بینائی چلی گئی تو اس میں تین دیتیں ہوں گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 28613
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28613، ترقيم محمد عوامة 27435)
حدیث نمبر: 28614
٢٨٦١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن عوف قال: سمعت شيخًا (قبل) (١) فتنة ابن الأشعث (فنعت نعته) (٢) (قالوا) (٣): ذاك أبو المهلب عم أبي قلابة ⦗٤٤⦘ قال: رُمي رجل (٤) بحجر في رأسه فذهب سمعه ولسانه وعقله وذكره فلم (يقرب) (٥) (النساء) (٦) فقضى فيه عمر (بأربع) (٧) ديات (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عوف کا ارشاد ہے کہ میں نے ایک بوڑھے سے سنا ہے ابن الاشعث کے فتنہ سے قبل کہ کسی آدمی کو پتھر لگا اس کے سر میں جس سے اس کی عقل، یادداشت، شنوائی اور گویائی ختم ہوگئی اور وہ عورتوں کے قابل نہ رہا تو عمر نے اس کے بارے میں چار دیتوں کا فیصلہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 28614
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28614، ترقيم محمد عوامة 27436)
حدیث نمبر: 28615
٢٨٦١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عمر (عن) (١) يونس عن الزهري عن سعيد ابن المسيب قال: في السمع الدية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب نے فرمایا ہے کہ سماعت میں دیت ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 28615
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28615، ترقيم محمد عوامة 27437)
حدیث نمبر: 28616
٢٨٦١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: أخبرني ابن أبي نجيح عن مجاهد قال: في ذهاب السمع خمسون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد کا ارشاد ہے کہ سماعت کے ختم ہوجانے پر پچاس اونٹ دیت ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 28616
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28616، ترقيم محمد عوامة 27438)
حدیث نمبر: 28617
٢٨٦١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال (١): سألت عطاء عن رجل أصيب من أطرافه ما (قدره) (٢) أكثر من ديته؟ فقال: ما سمعت فيه بشيء وإني لأظنه سيعطى بكل ما أصيب منه، وإن كان أكثر من (ديته) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج کا ارشاد ہے کہ میں نے عطاء سے ایسے آدمی کے متعلق سوال کیا کہ جس کے اطراف و جوانب میں ایسے زخم آئے ہوں کہ ان کی مقدار اس کی دیت سے بھی زیادہ ہو ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے اس بارے میں کچھ نہیں سنا، اور میرا خیال ہے کہ اس کے تمام اطراف کے زخموں کا بدلہ دیا جائے اگرچہ اس کی دیت سے بڑھ جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 28617
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28617، ترقيم محمد عوامة 27439)
حدیث نمبر: 28618
٢٨٦١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: قال ابن شهاب في رجل فقأ عين صاحبه وقطع أنفه وأذنه قال: يحسب ذلك كله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج کا ارشاد ہے کہ ابن شہاب نے فرمایا ہے ایسے شخص کے بارے میں کہ جس نے اپنے صاحب کی آنکھ کو پھوڑا اور اس کے ناک اور کان کاٹ دیے کہ اس تمام کے تمام کا حساب لگایا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 28618
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28618، ترقيم محمد عوامة 27440)
حدیث نمبر: 28619
٢٨٦١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا سعيد عن قتادة (أن) (١) الحسن سئل عن رجل رمي بحجر أو ضُرب على رأسه فذهب سمعه وبصره وانقطع كلامه فقال: ديات، في سمعه (دية) (٢)، وفي بصره (دية) (٣)، وفي لسانه دية، (فقيل) (٤) للحسن: ربح، فقال: واللَّه ما ربح ولا أفلح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ سے مروی ہے کہ حسن سے ایسے شخص کے بارے سوال کیا گیا کہ جس کو پتھر مارا گیا یا اس کے سر کو مارا گیا پھر اس کی قوت گویائی ختم ہوگئی اور اس کی نظر اور شنوائی بھی چلی گئی ؟ تو حسن نے فرمایا کہ اس میں کئی دیتیں لازم ہوں گی ایک اس کے کان کی ایک اس کی آنکھوں کی، اور ایک اس کی زبان کی تو حسن سے کہا گیا کہ ” پھر تو وہ اچھا رہا “ تو آپ نے جواب دیا کہ نہ وہ اچھا رہا ہے اور نہ اس نے فلاح پائی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 28619
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28619، ترقيم محمد عوامة 27441)