کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ان روایات کا بیان جو بخل کے بارے میں ذکر کی گئیں
حدیث نمبر: 28307
٢٨٣٠٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد اللَّه بن الحارث عن أبي كثير عن عبد اللَّه بن عمرو عن النبي ﷺ قال: "إياكم والشح فإنه أهلك من (١) قبلكم، أمرهم بالقطيعة فقطعوا، وبالبخل فبخلوا، ⦗٥٠٨⦘ وبالفجور ففجروا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لالچ کرنے سے بچو : کیوں کہ لالچ نے پہلے لوگوں کو قطع رحمی پر ابھارا انہوں نے قطع رحمی کی، بخل پر ابھارا انہوں نے بخل کیا اور بےحیائی پر ابھارا انہوں نے بےحیائی کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28307
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٦٤٨٧)، وأبو داود (١٦٩٨)، وابن حبان (٥١٧٦)، والحاكم (١/ ١١)، والطيالسي (٢٢٧٢)، والبيهقي (١٠/ ٢٤٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28307، ترقيم محمد عوامة 27139)
حدیث نمبر: 28308
٢٨٣٠٨ - حدثنا عبدة بن سليمان عن محمد بن عمرو عن صفوان بن سليم عن حصين بن اللجلاج عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يجتمع الشح والإيمان في جوف رجل مسلم" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بخل اور ایمان کسی مسلمان آدمی کے اندر جمع نہیں ہوسکتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28308
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28308، ترقيم محمد عوامة 27140)
حدیث نمبر: 28309
٢٨٣٠٩ - حدثنا الفضل بن دكين عن موسى بن علي عن أبيه عن عبد العزيز بن مروان عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "شر ما في الرجل شح هالع وجبن خالع" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا؛ آدمی میں پائی جانے والی بری عادت : حد سے زیادہ کنجوسی اور دل دہلا دینے والی بزدلی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28309
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٨٠١٠)، وأبو داود (٢٥١١)، وابن حبان (٣٢٥٠)، وعبد بن حميد (١٤٢٨)، وإسحاق (٣٤٢)، والبيهقي (٩/ ١٧٥)، والبخاري في التاريخ (٦/ ٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28309، ترقيم محمد عوامة 27141)
حدیث نمبر: 28310
٢٨٣١٠ - حدثنا ابن عيينة عن محمد بن (المنكدر) (١) عن جابر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لو قد جاء مال البحرين (لقد) (٢) أعطيتك كذا وكذا،، فأتيت أبا بكر (فقلت) (٣): تبخل عني، قال: وأي داء أدوأ من البخل؟ ما سألتني (من) (٤) مرة إلا وأنا أريد أن أعطيك (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر بحرین کا مال آگیا تو میں تجھے اتنا اور اتنا مال عطا کروں گا۔ راوی کہتے ہیں۔ میں حضرت ابوبکر کے پاس آیا۔ اور میں نے کہا : آپ مجھ سے بخل کر رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : کون سی بیماری ہے جو بخل سے زیادہ خطرناک ہے ؟ تم نے مجھ سے ایک مرتبہ بھی نہیں مانگا مگر یہ کہ میں نے ارادہ کرلیا کہ میں تمہیں عطا کر دوں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28310
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٥٩٨)، ومسلم (٢٣١٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28310، ترقيم محمد عوامة 27142)
حدیث نمبر: 28311
٢٨٣١١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن جامع بن شداد عن الأسود بن هلال قال: جاء رجل إلى عبد اللَّه فقال (له) (١): خشيت أن تصيبني هذه الآية: ﴿وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ﴾ [الحشر: ٩] الآية، ما أستطيع أن أعطي شيئًا أطيق منعه، قال عبد اللَّه: ذاك البخل (٢)، وبئس الشيء البخل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود بن ھلال فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آ کر کہنے لگا : مجھے ڈر ہے کہ میں قرآن مجید کی اس آیت { وَمَنْ یُوقَ شُحَّ نَفْسِہِ } کا مصداق نہیں بن پاؤں گا کیونکہ مجھ میں چیزوں کو خرچ کرنے کی طاقت نہیں بلکہ روکنے کی طاقت ہے۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ یہ بخل ہے اور بخل بدترین چیز ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28311
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الحاكم (٢/ ٤٩٠)، وابن أبي حاتم في التفسير كما ذكر ابن كثير (٤/ ٣٤٠) وابن جرير في التفسير (٢٨/ ٤٣)، ومسند عمر من تهذيب الآثار (١٩٨)، والطبراني (٩٠٦٠)، والبيهقي في الشعب (١٠٨٤١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28311، ترقيم محمد عوامة 27143)
حدیث نمبر: 28312
٢٨٣١٢ - حدثنا أبو أسامة عن (كهمس) (١) (٢) عن (أبي) (٣) العلاء عن ابن (الأحمس) (٤) قال: قلت لأبي ذر حديث بلغني عنك تحدث عن النبي ﷺ قال: سمعته منه وقلته فذكر: "ثلاثة (يشنوهم) (٥) اللَّه: (البخيل) (٦) والمنان والمختال" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تین لوگ ایسے ہیں کہ اللہ رب العزت کا ان پر غصہ ہوگا : بخیل شخص، احسان جتانے والا اور تکبر کرنے والا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28312
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28312، ترقيم محمد عوامة 27144)
حدیث نمبر: 28313
٢٨٣١٣ - حدثنا أبو معاوية عن عاصم عن أبي عثمان وعبد اللَّه بن الحارث عن زيد بن أرقم أن النبي ﷺ كان يقول: "اللهم اني أعوذ بك من البخل" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے : ترجمہ؛ اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بخل کرنے سے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28313
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٧٢٢)، وأحمد (١٩٣٠٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28313، ترقيم محمد عوامة 27145)
حدیث نمبر: 28314
٢٨٣١٤ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن عمرو بن ميمون عن عمر أن النبي ﵇ كان يتعوذ من البخل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بخل سے پناہ مانگتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28314
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٣٨٨)، وأبو داود (١٥٣٩)، والنسائي ٨/ ٢٥٥، وابن ماجه (٣٨٤٤)، والبخاري في الأدب المفرد (٦٧٠)، والحاكم ١/ ٥٣٠، وابن حبان (١٠٢٤)، والضياء (٢٥٩)، والبزار (٣٢٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28314، ترقيم محمد عوامة 27146)
حدیث نمبر: 28315
٢٨٣١٥ - حدثنا شبابة قال: حدثنا يونس (عن) (١) أبي إسحاق عن عمرو بن ميمون عن عمر عن النبي ﵇ مثله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28315
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وانظر: ما قبله.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28315، ترقيم محمد عوامة 27147)
حدیث نمبر: 28316
٢٨٣١٦ - حدثنا وكيع عن هشام عن قتادة عن أنس أن النبي ﷺ كان يتعوذ من البخل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بخل سے پناہ مانگا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28316
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٧٠٦)، وأحمد (٦٣٦٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28316، ترقيم محمد عوامة 27148)
حدیث نمبر: 28317
٢٨٣١٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر (عن حجاج) (١) عن سليمان بن سحيم عن طلحة بن عبيد اللَّه بن كريز قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن اللَّه جواد يحب الجود ويحب معالي الأخلاق ويكره سفسافها" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلحہ بن عبید اللہ بن کریز فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یقینا اللہ رب العزت فیاض ہیں اور فیاضی کو پسند کرتے ہیں اور بلند اخلاق کو پسند کرتے ہیں اور اخلاق کی گراوٹ کو ناپسند کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28317
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، طلحة بن عبيد اللَّه بن كريز تابعي، أخرجه الشاشي (٢٠)، والبيهقي في الشعب (١٠٨٤٠)، وهناد في الزهد (٨٢٨)، وأبو الشيخ في الكرم (١١)، وابن أبي الدنيا في مكارم الأخلاق (٧)، وبنحوه أخرجه الحاكم ١/ ٤٨، وعبد الرزاق (٢٠٥١٠)، والبيهقي ١٠/ ١٩١، والبخاري في التاريخ ٤/ ٣٤٧، وابن عساكر ٢٥/ ١٢٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28317، ترقيم محمد عوامة 27149)
حدیث نمبر: 28318
٢٨٣١٨ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير قال: كان للنبي ﷺ (من) (١) سعد بن عبادة جفنة تدور معه حيثما دار من نسائه وكان يقول في دعائه: "اللهم ارزقني مالًا فإنه لا يصلح الفعال إلا المال" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن ابی کثیر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت سعد بن عبادہ کی طرف سے ایک پیالہ ملا تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہی گھومتا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کے پاس چکر لگاتے تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی دعا میں یوں فرماتے تھے : اے اللہ ! مجھے مال عطاء فرما : اس لیے کہ کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا جاسکتا مگر مال سے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28318
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28318، ترقيم محمد عوامة 27150)
حدیث نمبر: 28319
٢٨٣١٩ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن أبيه أن سعد بن عبادة كان يدعو: اللهم هب لي حمدًا وهب لي مجدًا لا مجد إلا بفعال، ولا فعال إلا بمال، اللهم لا يصلحني القليل ولا أصلح عليه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن عبادہ دعا فرمایا کرتے تھے : ترجمہ : اے اللہ ! تو مجھے شکر کی توفیق عطا فرما اور عزت و بزرگی عطا فرما اور عزت و بزرگی حاصل نہیں ہوتی مگر کسی کارنامہ کی وجہ سے اور کارنامہ نہیں ہوتا مگر مال کے ذریعہ ۔ اے اللہ ! تھوڑا مال مجھے نفع نہیں پہنچا سکتا اور نہ میں اس پر مصالحت کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28319
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الحاكم (٣/ ٢٥٣)، وابن سعد (٣/ ٦١٤)، وابن أبي الدنيا في اصلاح المال (٥٤)، والبيهقي في الشعب (١٢٥٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28319، ترقيم محمد عوامة 27151)
حدیث نمبر: 28320
٢٨٣٢٠ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا هشام عن أبيه قال: أدركت سعد بن عبادة وهو ينادي على أُطُمِهِ: من أحب شحمًا (و) (١) لحمًا فليأت سعد بن عبادة، ثم أدركت ابنه بعد ذلك يدعو به، ولقد كنت أمشي في طريق المدينة وأنا شاب فمر علي عبد اللَّه بن عمر (متطلعًا) (٢) إلى أرضه بالعالية فقال: يا فتى (٣) انظر هل ترى على أُطُم سعد بن عبادة أحدًا ينادي؟ فنظرت فقلت: لا، فقال: صدقت (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعد بن عبادہ کو پایا کہ وہ اپنے بلند مکان پر یوں ندا لگا رہے تھے : جو شخص چربی اور گوشت کو محبوب رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ سعد بن عبادہ کے پاس آجائے۔ راوی فرماتے ہیں : پھر اس کے بعد میں نے ان کے بیٹے کو یہ ندا لگاتے ہوئے پایا۔ اور میں زمانۂ جوانی میں مدینہ کے راستہ میں چل رہا تھا کہ مجھ پر حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا گزر ہوا جو جنگل میں اپنی زمین کی طرف جا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا : اے جوان ! ذرا دیکھو کہ کوئی سعد بن عبادہ کے بلند گھر میں ندا لگا رہا ہے ؟ میں نے دیکھا۔ میں نے عرض کیا : نہیں۔ آپ نے فرمایا : تم نے سچ کہا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28320
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28320، ترقيم محمد عوامة 27152)
حدیث نمبر: 28321
٢٨٣٢١ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا هشام عن أبيه قال: كان قيس بن سعد بن عبادة ارتحل نحو المدينة ومعه أصحاب، فجعل ينحر كل يوم جزورًا حتى ⦗٥١٢⦘ بلغ (صرار) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت قیس بن سعد بن عبادہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ تو آپ روزانہ اونٹ ذبح کرتے تھے یہاں تک کہ آپ مدینہ کے قریب حرار مقام تک پہنچ گئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28321
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28321، ترقيم محمد عوامة 27153)
حدیث نمبر: 28322
٢٨٣٢٢ - حدثنا أبو أسامة عن جرير بن حازم عن (ابن سيرين) (١) قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا أمسى قسم ناسًا من أهل الصفة بين أناس من أصحابه، فكان الرجل يذهب بالرجل، والرجل بالرجلين، والرجل بالثلاثة، حتى ذكر عشرة، قال: فكان سعد بن عبادة يرجع إلى أهله (كل ليلة) (٢) بثمانين (منهم) (٣) يعشيهم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ جب شام ہوجاتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اصحابِ صفہ کو صحابہ کے درمیان تقسیم فرما دیتے۔ پھر ایک صحابی ایک کو لے جاتے اور ایک صحابی دو لوگوں کو لے جاتے اور ایک صحابی تین لوگوں کو لے جاتے ۔ یہاں تک کہ آپ نے دس کا ذکر کیا۔ اور فرمایا : حضرت سعد بن عبادہ ہر رات کو ان میں سے آٹھ لوگوں کو لے کر لوٹتے اور ان کو رات کا کھانا کھلاتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28322
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، ابن سيرين تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28322، ترقيم محمد عوامة 27154)
حدیث نمبر: 28323
٢٨٣٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يعلى عن محمد بن إسحاق عن الزهري عن (عبيد اللَّه) (١) بن عبد اللَّه عن ابن عباس قال: كان رسول اللَّه ﷺ أجود من الريح المرسلة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلتی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ فیاض تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28323
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ ابن إسحاق صدوق، أخرجه أحمد (٢٥٤٢)، وعبد بن حميد (٦٤٧)، وابن سعد (٢/ ١٩٥)، وأصله في البخاري (١٩٠٢)، ومسلم (٢٣٠٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28323، ترقيم محمد عوامة 27155)
حدیث نمبر: 28324
٢٨٣٢٤ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): (حدثنا) (٢) يحيى بن آدم قال: (حدثنا) (٣) إبراهيم بن سعد عن الزهوي عن عبيد اللَّه عن ابن عباس قال: كان رسول اللَّه ﷺ ⦗٥١٣⦘ أجود الناس بالخير، وكان أجود ما يكون حين يلقاه جبريل (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں خیر کے اعتبار سے سب سے زیادہ فیاض تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سخاوت اور زیادہ بڑھ جاتی تھی جب سے حضرت جبریل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28324
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (١٩٠٢)، ومسلم (٢٣٠٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28324، ترقيم محمد عوامة 27156)