حدیث نمبر: 28297
٢٨٢٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام عن مغيرة عن إبراهيم في قوله (تعالى) (١): ﴿وَالَّذِينَ إِذَا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَلِكَ قَوَامًا﴾ [الفرقان: ٦٧]، قال: لا يجيعهم ولا يعريهم، ولا (ينفق) (٢) نفقة يقول الناس: (إنه) (٣) أسرف فيها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے اللہ رب العزت کے اس قول کے مطابق : ترجمہ : اور وہ لوگ جب خرچ ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل کرتے ہیں اور ہوتا ہے ان کا خرچ کرنا ان دونوں کے درمیان اعتدال سے۔ آپ نے فرمایا : نہ وہ ان کو بھوکا رکھتے ہیں اور نہ ان کو لباس سے محروم کرتے ہیں اور نہ ہی ایسے طور پر خرچ کرتے ہیں کہ لوگ کہنے لگے کہ اس نے اس معاملہ میں فضول خرچی کی۔
حدیث نمبر: 28298
٢٨٢٩٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عمرو بن قيس عن (المنهال) (١) عن سعيد ابن جبير: ﴿وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ﴾ [سبأ: ٣٩]، فَهُوَ قال: في غير إسراف ولا تقتير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منھال فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر نے اللہ رب العزت کے اس قول کے مطابق : ” اور جو خرچ کردیتے ہو تم کوئی بھی چیز تو وہ اس کی جگہ اور دیتا ہے تم کو اور وہ سب سے بہتر رزق عطا فرمانے والا ہے۔ “ آپ نے فرمایا : یہ صورت اسراف اور کنجوسی کے علاوہ میں ہے۔
حدیث نمبر: 28299
٢٨٢٩٩ - حدثنا ابن إدريس عن الأعمش عن الحكم عن يحيى بن الجزار عن أبي (العبيدين) (١) أنه سأل ابن مسعود عن التبذير فقال: إنفاق المال في غير حقه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن جزار فرماتے ہیں کہ حضرت ابو العبید ین نے حضرت ابن مسعود سے فضول خرچی کے متعلق پوچھا : تو آپ نے فرمایا : مال کو حق کے علاوہ جگہ میں خرچ کرنا فضول خرچی ہے۔
حدیث نمبر: 28300
٢٨٣٠٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن داود قال: قلت للحسن أشتري لامرأتي في السنة طيبًا بعشرين درهمًا: أسرفٌ هذا؟ قال: ليس هذا بسرف.
مولانا محمد اویس سرور
داؤد فرماتے ہیں کہ میں نے حسن بصری سے پوچھا : کہ میں نے سال میں اپنی بیوی کے لیے بیس درہم کی خوشبو خریدی کیا یہ اسراف ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ اسراف نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 28301
٢٨٣٠١ - حدثنا سفيان بن عيينة عن إبراهيم بن ميسرة عن طاوس عن ابن عباس قال: البس ما شئت وكل ما شئت ما أخطاتك خلتان: سرف أو مخيلة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : جو چاہو پہنو اور جو چاہو کھاؤ۔ لیکن دو عادتوں سے بچنا ایک فضول خرچی اور دوسری فخر۔
حدیث نمبر: 28302
٢٨٣٠٢ - حدثنا يعلى بن عبيد عن محمد بن سوقة عن (سعيد) (١) بن جبير قال: سأله رجل عن إضاعة المال، قال: أن يرزقك اللَّه رزقًا فتنفقه فيما حرم عليك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سوقہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر سے کسی آدمی نے مال ضائع کرنے کے متعلق پوچھا ؟ آپ نے فرمایا : مال ضائع کرنا یہ ہے کہ اللہ رب العزت تجھے رزق عطا کریں اور تم اس کو ان کاموں میں خرچ کرو جو اللہ نے تم پر حرام کیے ہیں۔
حدیث نمبر: 28303
٢٨٣٠٣ - حدثنا يزيد بن هارون عن العوام قال كعب: أنفقوا لخلف يأتيكم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عوام فرماتے ہیں کہ حضرت کعب نے ارشاد فرمایا : خرچ کرو، اس کا بدل تمہیں مل جائے گا۔
حدیث نمبر: 28304
٢٨٣٠٤ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا عفان عن سكين بن عبد العزيز عن الهجري عن أبي الأحوص عن (عبد اللَّه) (٢) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ما عال من اقتصد" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے میانہ روی کی وہ محتاج نہیں ہوا۔
حدیث نمبر: 28305
٢٨٣٠٥ - حدثنا وكيع عن يوسف عن أبي السرية عن الحسن قال: ليس في الطعام إسراف.
مولانا محمد اویس سرور
یوسف فرماتے ہیں کہ حضرت ابو السریہ بن حسن نے ارشاد فرمایا : کھانے میں اسراف نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 28306
٢٨٣٠٦ - حدثنا جعفر بن عون عن أبي العميس عن زياد (مولى) (١) مصعب عن الحسن أن أصحاب رسول اللَّه ﷺ سألوه: ما (نفقتنا) (٢) على أهلينا فقال: "ما أنفقتم على أهليكم في غير إسراف ولا تقتير فهو في سبيل اللَّه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن بصری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ جو ہم اپنے گھر والوں پر خرچ کرتے ہیں اس کی کیا حیثیت ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو مال تم اپنے گھر والوں پر بغیر اسراف اور بغیر کنجوسی کے خرچ کرتے ہو وہ اللہ کے راستہ میں شمار ہوتا ہے ۔