کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ان روایات کا بیان جو چغل خوری کے بارے میں منقول ہیں
حدیث نمبر: 28285
٢٨٢٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن همام بن الحارث عن حذيفة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يدخل الجنة قتات" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28285
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٠٥٦)، ومسلم (١٠٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28285، ترقيم محمد عوامة 27117)
حدیث نمبر: 28286
٢٨٢٨٦ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن واصل عن شقيق عن حذيفة قال: كنا نتحدث (أنه) (١): لا يدخل الجنة قتات (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شقیق فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کہ ہم حدیث بیان کرتے تھے کہ یقینا چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28286
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28286، ترقيم محمد عوامة 27118)
حدیث نمبر: 28287
٢٨٢٨٧ - حدثنا حفص (عن الأعمش) (١) عن أبي إسحاق عن عمرو بن ميمون قال: لما رفع اللَّه موسى نجيًا رأى رجلًا متعلقًا بالعرش فقال: (يا رب) (٢) من هذا؟ فقال: (عبد من عبادي صالح، إن شئت أخبرتك بعمله)، قال: يا رب أخبرني، قال: (كان لا يمشي بالنميمة).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت عمرو بن میمون نے ارشاد فرمایا : جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو سرگوشی کے لیے عزت بخشی تو آپ نے ایک آدمی کو عرش سے چمٹے ہوئے دیکھا۔ آپ نے پوچھا : اے پروردگار ! یہ کون شخص ہے ؟ اللہ رب العزت نے فرمایا : میرے نیک بندوں میں سے ایک بندہ ہے۔ اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس کے عمل کے متعلق خبر دوں۔ آپ نے فرمایا : اے پروردگار ! مجھے خبر دیجئے۔ اللہ رب العزت نے فرمایا : یہ شخص چغل خوری نہیں کرتا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28287
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28287، ترقيم محمد عوامة 27119)
حدیث نمبر: 28288
٢٨٢٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن إبراهيم عن عبد الرحمن بن زيد قال: كانت لنا جارية أعجمية، فمرضت فجعلت تقول عند الموت: هذا فلان (تمرغ) (١) في الحمأة، فلما أن ماتت سألنا عن الرجل، قال: فقال: ما كان به بأس إلا أنه كان يمشي بالنميمة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن یزید نے ارشاد فرمایا : ہمارے پاس ایک عجمی باندی تھی وہ بیمار ہوگئی ۔ ا س نے موت کے وقت یہ کہنا شروع کردیا : یہ فلاں شخص گندی بدبودار مٹی میں پلٹیاں کھا رہا ہے ۔ جب وہ مرگئی تو ہم نے اس آدمی کے متعلق پوچھا ؟ تو انہوں نے کہا : اس میں کوئی خرابی نہیں تھی سوائے اس بات کے کہ وہ چغل خوری کرتا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28288
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28288، ترقيم محمد عوامة 27120)