حدیث نمبر: 28253
٢٨٢٥٣ - حدثنا محبوب القواريري عن الصعب بن حكيم عن أبيه عن جده قال: أتيت عمر بن الخطاب فجعل يقول: يا ابن أخي، ثم سألني فانتسبت له، فعرف أن أبي لم يدرك الإسلام، فجعل يقول: يا بني (يا بني) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریک بن غلہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن خطاب کے پاس تھا تو آپ مجھے کہتے تھے : اے میرے بھتیجے ! پھر انہوں نے مجھ سے پوچھا : تو میں نے ان کو اپنا نسب بیان کیا۔ انہوں نے جان لیا کہ میرے والد نے اسلام قبول نہیں کیا ۔ پھر آپ نے یوں کہنا شروع کردیا : اے میرے بیٹے اے میرے بیٹے۔
حدیث نمبر: 28254
٢٨٢٥٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) إسماعيل عن قيس عن المغيرة ابن شعبة قال: (ما) (٢) سأل (رسول اللَّه ﷺ أحد) (٣) عن الدجال أكثر مما سألته فقال: "أي بني وما (يصيبك) (٤) منه" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ حضر ت مغیرہ بن شعبہ نے ارشاد فرمایا : کسی نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دجال کے بارے میں اتنا نہیں پوچھا جتنا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! تجھے اس سے کوئی مصیبت نہیں پہنچے گی۔
حدیث نمبر: 28255
٢٨٢٥٥ - حدثنا وكيع عن هشام عن أبي وجزة السعدي عن رجل من مزينة ⦗٤٩٣⦘ عن عمر بن أبي سلمة أن النبي ﷺ أتي بطعام فقال: يا عمر يا بني سم اللَّه وكل بيمينك وكل مما يليك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن ابی سلمہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کھانا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے عمر ، اے میرے بیٹے ! اللہ کا نام لو اور دائیں ہاتھ سے کھانا کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔
حدیث نمبر: 28256
٢٨٢٥٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا أبو عوانة عن الجعد (أبي) (١) عثمان عن أنس أن رسول اللَّه ﷺ قال (٢): "يا بني" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے میرے بیٹے۔
حدیث نمبر: 28257
٢٨٢٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن عمارة بن زاذان عن مكحول الأزدي قال: سئل ابن عمر عن الرجل يحرم من سمرقند أو من خراسان أو من الكوفة فقال: يا ليتنا (ننفلت) (١) من وقتنا يا بني (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول ازدی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس آدمی کے متعلق پوچھا گیا جس کو سمر قند یا خراسان یا کوفہ سے روک دیا گیا تھا، آپ نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! کاش ہم نے بھی وقت سے چھٹکارا پا لیا ہوتا۔
حدیث نمبر: 28258
٢٨٢٥٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن أبي (جمرة) (١) قال: حدثنا إياس (بن) (٢) قتادة عن قيس بن عباد أن أبي بن كعب قال له: يا بني لا (يسؤوك) (٣) اللَّه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن عباد فرماتے ہیں کہ حضرت ابی بن کعب نے ان سے ارشاد فرمایا : اے میرے بیٹے ! اللہ تمہارا برا نہ کرے۔
حدیث نمبر: 28259
٢٨٢٥٩ - حدثنا جرير عن قابوس عن أبيه عن علي أنه قال: (يا) (١) بني (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قابوس کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : اے میرے بیٹے۔
حدیث نمبر: 28260
٢٨٢٦٠ - حدثنا إسحاق بن سليمان (الرازي) (١) عن نعيم قال: سألت عاصمًا عن قول اللَّه: ﴿فَنَادَاهَا مِنْ تَحْتِهَا﴾ [مريم: ٢٤]؟ قال: مَنْ تحتها مفتوحة، قلت: عمن (تروي؟) (٢) قال: عن زر يا بني.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعیم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عاصم سے اللہ رب العزت کے قول { فَنَادَاہَا مِنْ تَحْتِہَا } کے متعلق پوچھا : تو آپ نے فرمایا : { مِنْ تَحْتَہَا } ہے فتح کے ساتھ۔ میں نے پوچھا : آپ نے کس سے روایت کی ؟ انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! حضرت زر سے !
حدیث نمبر: 28261
٢٨٢٦١ - [حدثنا مروان بن معاوية عن الزبرقان قال: قال لي أبو وائل: يا بني] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبرقان فرماتے ہیں کہ حضرت ابو وائل نے مجھ سے فرمایا : اے میرے لاڈلے بیٹے !