حدیث نمبر: 28219
٢٨٢١٩ - حدثنا سفيان بن عيينة عن أبي إسحاق عن البراء قال: كان النبي ﷺ إذا أخذ مضجعه قال: "اللهم (إليك) (١) أسلمت نفسي، وإليك وجهت وجهي، وإليك فوضت أمري، وإليك ألجأت ظهري رغبة ورهبة إليك، لا ملجأ ولا (منجا) (٢) منك إلا إليك، آمنت بكتابك الذي أنزلت، (وبنبيك) (٣) (الذي أرسلت) (٤) (أو رسولك) (٥) (الذي أرسلت) " (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنے سونے کی جگہ پر لیٹتے تو یہ دعا پڑھتے : ترجمہ : اے اللہ ! میں نے اپنی جان تیرے ہی سپرد کی، اور میں نے اپنا چہرہ تیری ہی طرف کردیا اور میں نے اپنا معاملہ بھی تیرے ہی سپرد کردیا اور تجھے ہی میں نے اپنا پشت پناہ بنا لیا تیری رحمت کی رغبت کرتے ہوئے اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہوئے اور تیری رحمت کے سوا کوئی ٹھکانہ اور جائے پناہ نہیں اور جو کتاب تو نے اتاری ہے میں اس پر ایمان لایا اور جو نبی یا رسول تو نے بھیجا ہے اس پر بھی ایمان لایا۔
حدیث نمبر: 28220
٢٨٢٢٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الملك بن عمير عن ربعي عن حذيفة قال: كان النبي ﷺ إذا نام قال: "اللهم باسمك (أحيى) (١) وأموت"، وإذا استيقظ ⦗٤٧٩⦘ قال: "الحمد للَّه الذي أحيانا بعدما أماتنا وإليه النشور" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے تو یہ دعا فرماتے اے اللہ ! میں تیرا ہی نام لے کر مرتا ہوں اور جیتا ہوں۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوتے تو یہ دعا فرماتے : اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں مارنے کے بعد جگا دیا اور اسی کی طرف مرنے کے بعد لوٹنا ہے۔
حدیث نمبر: 28221
٢٨٢٢١ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن أبيه قال: كنت قاعدًا عند عمار فأتاه رجل فقال: ألا أعلمك كلمات؟ قال: كأنه يرفعهن إلى النبي ﷺ (١): "إذا اخذت مضجعك من الليل فقل: اللهم أسلمت نفسي إليك ووجهت وجهي (إليك) (٢)، وفوضت أمري اليك، وألجأت ظهري اليك، آمنت بكتابك المنزل، ونبيك المرسل، (اللهم) (٣) نفسي خلقتها، لك محياها ومماتها، فإن (كَفَتَّها) (٤) فارحمها، وإن أخرتها فاحفظها بحفظ الإيمان" (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سائب فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمار کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کے پاس کوئی شخص آیا ۔ آپ نے فرمایا : کیا میں تجھے چند کلمات نہ سکھا دوں ؟ راوی کہتے ہیں گویا کہ آپ یہ کلمات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالہ سے بیان فرما رہے تھے کہ جب تو رات کو اپنے بستر پر لیٹے تو یوں کہہ : اے اللہ ! میں نے اپنی جان تیرے سپرد کی، اور میں نے اپنا چہرہ تیری طرف کردیا اور میں نے اپنا معاملہ تیرے سپرد کردیا اور میں نے تجھے اپنا پشت پناہ بنا لیا ۔ میں ایمان لایا تیری نازل کردہ کتاب پر ، اور تیرے بھیجے ہوئے نبی پر ، میری جان کو تونے ہی پیدا کیا، تیرے لیے ہی اس کا جینا اور اس کا مرنا ہے۔ اگر تو اس کو موت دے تو اس پر رحم کرنا اور اگر تو اس کی موت کو مؤخر کرے تو اس کی حفاظت کرنا ایمان محفوظ رکھنے کے ساتھ۔
حدیث نمبر: 28222
٢٨٢٢٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن يعلى بن عطاء قال: سمعت عمرو بن عاصم يحدث أنه سمع أبا هريرة أن أبا بكر قال للنبي ﷺ: أخبرني بشيء أقوله إذا أمسيت وإذا أصبحت، قال: "قل اللهم عالم الغيب والشهادة، فاطر السماوات والأرض، رب كل شيء ومليكه، أشهد أن لا إله إلا أنت، أعوذ بك من شر نفسي و (١) الشيطان وشركه، قله (إذا أصبحت) (٢) وإذا ⦗٤٨٠⦘ أمسيت وإذا أخذت مضجعك" (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کی، کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کوئی ایسی دعا بتلا دیجئے جو میں صبح و شام پڑھا کروں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ دعا پڑھو : اے اللہ ! پوشیدہ اور ظاہر باتوں کے جاننے والے، آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، ہر چیز کے پروردگار اور بادشاہ ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں تیری پناہ لیتا ہوں اپنے نفس کے شر سے ، اور شیطان سے اور اس کے شریکوں سے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم یہ کلمات پڑھو جب تم صبح کرو اور جب شام کرو، اور جب اپنے بستر پر لٹہ جاؤ۔
حدیث نمبر: 28223
٢٨٢٢٣ - حدثنا غندر عن شعبة عن عبد اللَّه بن أبي السفر قال: سمعت أبا بكر ابن (أبي) (١) موسى يحدث عن البراء أن النبي ﷺ كان إذا استيقظ قال: "الحمد للَّه الذي أحيانا بعدما أماتنا وإليه النشور"، قال: شعبة هذا -أو نحو هذا وإذا نام قال: "اللهم باسمك (أحيا) (٢) وباسمك أموت" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے : اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے مارنے کے بعد زندہ کیا۔ اور جب آپ سونے کا ارادہ کرتے تو یہ دعا پر ھتے : اے اللہ ! میں تیرا نام لے کر زندہ رہتا ہوں اور تیرا نام لے کر ہی مرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 28224
٢٨٢٢٤ - (١) حدثنا ابن نمير قال: حدثنا (عبيد اللَّه) (٢) بن (عمر) (٣) عن سعيد بن أبي (سعيد) (٤) المقبري عن أبي هريرة أن رسول اللَّه ﷺ قال: "إذا أراد أحدكم أن يضطجع على فراشه، فلينزع داخلة إزراره، ثم لينفض بها فراشه، فإنه لا يدري ما خلفه عليه، ثم ليضطجع على شقه الأيمن، ثم ليقل: باسمك ربي وضعت ⦗٤٨١⦘ جنبي وبك أرفعه، فإن أمسكت نفسي فارحمها، وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به (عبادك) (٥) الصالحين" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر لیٹنے کا ارادہ کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے نیچے کے زائد کپڑے اتار دے، پھر وہ اپنے بستر کو جھاڑے۔ اس لیے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے پیچھے بستر پر کیا چیز تھی۔ پھر اسے چاہیے کہ وہ داہنی کروٹ پر لیٹ جائے ، پھر یہ دعا پڑھے : میرے رب تیرا نام لے کر میں نے اپنا پہلو رکھا اور تیرا نام لے کر ہی میں اسے اٹھاؤں گا، پس اگر تو میرے نفس کو موت دے تو اس پر رحم فرمانا۔ اور اگر تو اس کو زندہ چھوڑ دے تو اس کی حفاظت کرنا ایسی حفاظت جو تو اپنے نیک بندوں کی کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 28225
٢٨٢٢٥ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن سعد بن عبيدة عن البراء ابن عازب عن النبي ﷺ أنه قال لرجل: "إذا أخذت مضجعك فقل: اللهم أسلمت نفسي إليك، ووجهت وجهي إليك، وفوضت أمري اليك، وألجأت ظهري اليك، رغبة ورهبة إليك، لا (منجا) (١) ولا ملجأ منك إلا إليك، آمنت بكتابك الذي أنزلت، ونبيك الذي أرسلت، فإن (مت مت) (٢) على الفطرة" (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک صحابی سے ارشاد فرمایا : جب تم اپنے بستر پر لیٹنے لگو تو یہ دعا پڑھو۔ اے اللہ ! میں نے اپنی جان تیرے سپرد کردی اور میں نے اپنا چہرہ تیری طرف کردیا اور اپنا معاملہ تیرے سپرد کردیا اور میں نے تجھے اپنا پشت پناہ بنا لیا تیری رحمت کی رغبت کرتے ہوئے اور تیرے عذاب کے خوف کی وجہ سے اور تیری پکڑ سے بچنے کا تیری رحمت کے سوا کوئی ٹھکانہ اور کوئی جائے پناہ نہیں اور جو کتاب تو نے اتاری ہے اس پر میں ایمان لایا اور جو نبی تو نے بھیجا ہے اس پر بھی ایمان لایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر تیری موت واقع ہوگئی تو تو فطرت اسلام پر مرا۔
حدیث نمبر: 28226
٢٨٢٢٦ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن حبيب (عن) (١) عبد اللَّه بن باباه عن أبي هريرة قال: من قال حين يأوي إلى فراشه: لا إله إلا اللَّه، وحده، لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شيء قدير، سبحان اللَّه وبحمده (والحمد للَّه) (٢)، لا إله إلا اللَّه، اللَّه أكبر غفرت ذنوبه وإن كانت مثل زبد البحر (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن باباہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ نے ارشاد فرمایا : جو شخص بستر پر لیٹتے ہوئے یہ دعا پڑھے : اللہ کے سو ا کوئی معبود برحق نہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کا ملک ہے اور اسی کے لیے تعریف و شکر ہے اور اس کی ذات ہر چیز پر قادر ہے، اللہ پاک ہے تمام عیوب سے اور اپنی تعریف کے ساتھ ہے، سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے۔ تو اس شخص کے گناہوں کی مغفرت کردی جائے گی اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔
حدیث نمبر: 28227
٢٨٢٢٧ - حدثنا الفضل بن دكين قال: ثنا زهير عن أبي إسحاق عن فروة بن نوفل عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ قال له: "فمجيء ما جاء بك؟ " قال: جئت يا رسول اللَّه تعلمني شيئًا (أقوله) (١) عند منامي قال: "إذا أخذت مضجعك فاقرأ: ﴿قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾، ثم نم على (خاتمتها) (٢)، فإنها براءة من الشرك" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نوفل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : آئے ہوئے تمہیں کیا چیز لائی ؟ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں آیا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے سوتے وقت پڑھنے کے لیے کوئی دعا سکھا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم اپنے بستر پر لیٹ جاؤ تو تم سورة الکافرون پڑھو، پھر اس کے ختم کرنے پر سو جاؤ۔ اس لیے کہ یہ سورت شرک سے بری ہونے کا پروانہ ہے۔
حدیث نمبر: 28228
٢٨٢٢٨ - [حدثنا مروان بن معاوية عن أبي مالك الأشجعي عن عبد الرحمن بن نوفل الأشجعي (عن) (١) أبيه قال: قلت يا رسول اللَّه أخبرني بشيء أقوله إذا أصبحت وإذا أمسيت، قال: "اقرأ: ﴿قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾، ثم نم على خاتمتها، فإنها براءة من الشرك"] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نوفل اشجعی فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! مجھے کوئی ایسی دعا بتلا دیجئے جو میں صبح و شام پڑھا کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم سورة الکافرون پڑھا کرو، پھر اس کے ختم ہونے پر سو جایا کرو۔ اس لیے کہ یہ شرک سے بری ہونے کا پروانہ ہے۔
حدیث نمبر: 28229
٢٨٢٢٩ - حدثنا الفضل بن دكين قال: ثنا زهير عن أبي إسحاق عن عاصم عن علي قال: إذا اخذت مضجعك فقل: بسم اللَّه وفي سبيل اللَّه (و) (١) على ملة ⦗٤٨٣⦘ رسول اللَّه، وحين تدخل الميت قبره (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جب تو اپنے بستر پر لیٹ جائے تو یہ دعا پڑھ : اللہ کے نام کے ساتھ، اور اللہ کے راستہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملت پر ۔ اور جب تو میت کو اس کی قبر میں داخل کرے اس وقت بھی یہ دعا پڑھ لے۔
حدیث نمبر: 28230
٢٨٢٣٠ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا حماد بن سلمة عن عاصم عن سواء عن حفصة أن النبي ﷺ كان إذا أخذ مضجعه قال: "رب قني عذابك يوم تبعث عبادك" (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حفصہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنے بستر پر لیٹ جاتے تو یہ دعا پڑھتے : میرے پروردگار ! مجھے اپنے عذاب سے بچا جس روز تو اپنے بندوں کو دوبارہ اٹھائے گا۔
حدیث نمبر: 28231
٢٨٢٣١ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن البراء قال: قال رسول اللَّه ﷺ لرجل: "يا فلان إذا أويت إلى فراشك فقل: اللهم أسلمت نفسي إليك، ووجهت وجهي إليك، ووليت ظهري إليك، لا ملجأ ولا (منجى) (١) منك إلا إليك، آمنت بكتابك الذي أنزلت، و (نبيك) (٢) الذي أرسلت، (فإن) (٣) مت من ليلتك مت على الفطرة، وإن أصبحت (أصبت) (٤) خيرًا" (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی صحابی سے فرمایا : اے فلاں ! جب تو اپنے بستر پر لیٹ جائے تو یہ دعا پڑھ : اے اللہ ! میں نے اپنی جان کو تیرے سپر د کردیا اور میں نے اپنا چہرہ بھی تیری طرف کردیا اور میں نے تجھے ہی اپنا پشت پناہ بنا لیا۔ تیرے عذاب سے بچنے کے لیے تیری رحمت کے سوا کوئی ٹھکانہ اور کوئی جائے پناہ نہیں جو کتاب تو نے نازل کی ہے میں اس پر ایمان لایا اور جو نبی تو نے بھیجا ہے میں اس پر ایمان لایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر اس رات کو تیری موت واقع ہوگئی تو تو فطرت اسلام پر مرا، اور اگر تو نے صبح کی تو تو نے خیر کو پا لیا۔
حدیث نمبر: 28232
٢٨٢٣٢ - حدثنا جعفر بن عون عن الأفريقي عن عبد اللَّه بن يزيد عن عبد اللَّه ابن عمرو أن النبي ﷺ قال لرجل من الأنصار: "كيف تقول حين تريد أن تنام؟ " ⦗٤٨٤⦘ قال: أقول باسمك (١) وضعت جنبي فاغفر لي، قال: "قد غفر لك" (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک انصاری صحابی سے پوچھا : جب تم سونے کا ارادہ کرتے ہو تو کیا دعا پڑھتے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا : میں یوں پڑھتا ہوں : تیرا نام لے کر میں نے اپنے پہلو کو رکھا پس تو میری مغفرت فرما دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تحقیق تیری مغفرت کردی گئی۔
حدیث نمبر: 28233
٢٨٢٣٣ - حدثنا أبو أسامة عن زائدة عن منصور عن إبراهيم قال: كان أصحابنا يأمروننا ونحن غلمان إذا أوينا إلى (فرشنا) (١) أن نسبح (ثلاثًا و) (٢) ثلاثين (ونحمد) (٣) ثلاثًا وثلاثين، (ونكبر) (٤) أربعًا وثلاثين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور فرماتے ہیں کہ حضر ت ابراہیم نے ارشاد فرمایا : کہ ہمارے اصحاب ہمیں حکم دیتے اس حال میں کہ ہم بچے تھے کہ ہم جب اپنے بستروں پر لیٹ جائیں تو ہم تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمد للہ اور چونیسں مرتبہ اللہ اکبر کہیں۔