کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: لوگوں کو بیان کرنا اور ان کی توجہ حاصل کرنا
حدیث نمبر: 28210
٢٨٢١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا أشعث بن سوار عن كردوس (عن) (١) عبد اللَّه قال: إن للقلوب نشاطًا وإقبالًا، وإن لها لتولية ⦗٤٧٦⦘ وإدبارًا، فحدثوا الناس ما أقبلوا عليكم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کردوس فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : بیشک دلوں کے لیے بھی بشاشت اور توجہ بھی ہوتی ہے، اور سستی اور اکتاہٹ بھی ہوتی ہے ، تم لوگوں کو وہ بات بیان کرو جس سے وہ تمہاری طرف متوجہ ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28210
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف أشعث.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28210، ترقيم محمد عوامة 27042)
حدیث نمبر: 28211
٢٨٢١١ - حدثنا أبو اسامة عن عثمان بن غياث عن أبي السليل قال: قدم علينا رجل من أصحاب النبي ﷺ فكانوا يجتمعون عليه، (فصعد) (١) على ظهر بيت فحدثهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو السلیل فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی تشریف لائے تو لوگ ان کے پاس جمع ہوگئے۔ وہ گھر کی چھت پر چڑھے اور انہوں نے لوگوں کو حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28211
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28211، ترقيم محمد عوامة 27043)
حدیث نمبر: 28212
٢٨٢١٢ - حدثنا جعفر بن عون قال: أخبرنا أبو العميس عن أبي طلحة قال: قدم أنس بن مالك الكوفة فاجتمعنا عليه، قال: فقلنا: حدثنا ما سمعت من رسول اللَّه ﷺ قال: وهو يقول: أيها الناس انصرفوا عني، حتى ألجاناه إلى حائط القصر، فقال: لو تعلمون ما أعلم لبكيتم كثيرًا ولضحكتم قليلًا، أيها الناس انصرفوا عني فانصرفنا عنه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو طلحہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کوفہ تشریف لائے تو ہم لوگ ان کے پاس جمع ہوگئے۔ ہم نے عرض کی کہ آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث بیان کریں۔ آپ نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے : اے لوگو ! میرے پاس سے جاؤ، یہاں تک کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو انتہائی مجبور کردیتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے : جو میں جانتا ہوں اگر وہ بات تم جان لیتے تو تم زیادہ روتے اور تھوڑا ہنستے۔ اے لوگو ! میرے پاس سے چلے جاؤ تو ہم آپ کے پاس سے واپس لوٹ آئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28212
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو طلحة روى عنه جمع وذكره ابن حبان في الثقات، وأخرجه أحمد (١٢٨٥٩) مرفوعًا بلفظ: (لو تعلمون ما أعلم. .) وأخرجه وكيع في الزهد (١٧)، والبيهقي في شعب الإيمان (٧٨١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28212، ترقيم محمد عوامة 27044)
حدیث نمبر: 28213
٢٨٢١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عفان قال: حدثنا أبو هلال قال: حدثنا الحسن قال: حدثوا الناس ما أقبلوا عليكم بوجوههم، فإذا التفتوا فاعلموا أن لهم حاجات.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہلال فرماتے ہیں کہ حسن بصری نے ارشاد فرمایا : تم لوگوں کو وہ بات بیان کرو جس سے وہ تمہاری طرف متوجہ ہوجائیں، جب وہ تمہاری طرف متوجہ ہوں تو جان لو کہ ان کی ضرورتیں بھی ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28213
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28213، ترقيم محمد عوامة 27045)
حدیث نمبر: 28214
٢٨٢١٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شقيق عن عبد اللَّه قال: كان رسول اللَّه ﷺ يتخولنا بالموعظة، مخافة السآمة علينا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے اکتا جانے کے اندیشے سے وعظ و نصیحت میں وقفہ فرمایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28214
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٨)، ومسلم (٢٨٢١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28214، ترقيم محمد عوامة 27046)
حدیث نمبر: 28215
٢٨٢١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم عن علقمة أنه كان إذا رأى من أصحابه (هشاشًا) (١) -يعني انبساطًا- ذكرهم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ جب اپنے شاگردوں کو ہشاش بشاش دیکھتے تو ان کو وعظ و نصیحت فرماتے ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28215
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28215، ترقيم محمد عوامة 27047)
حدیث نمبر: 28216
٢٨٢١٦ - حدثنا ابن إدريس وابن عيينة وأبو خالد الأحمر عن محمد بن عجلان عن (بكير) (١) بن عبد اللَّه بن الأشج عن معمر عن عبيد اللَّه بن عدي بن الخيار قال: قال عمر: لا تبغضوا اللَّه إلى عباده، يكون أحدكم إمامًا فيطّول عليهم ما هم فيه، ويكون أحدكم قاصًا (ويطول) (٢) عليهم ما هم فيه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن عدی بن خیار فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اللہ عزوجل کو اس کے بندوں کے سامنے مبغوض مت بناؤ۔ تم میں کوئی امام ہوتا ہے تو وہ ان پر نماز اتنی لمبی کردیتا ہے۔ اور کوئی خطیب ہوتا ہے تو وہ ان پر اپنی بات اتنی طویل کردیتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28216
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ ابن عجلان صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28216، ترقيم محمد عوامة 27048)