کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اچھی تعریف کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 28207
٢٨٢٠٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا هشام عن حفصة عن الربيع بن ⦗٤٧٥⦘ زياد عن كعب قال: واللَّه ما (استقام) (١) لعبد ثناء في الأرض حتى يستقر له في أهل السماء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن زیاد فرماتے ہیں کہ حضرت کعب نے ارشاد فرمایا : کہ دنیا میں کسی بندے کی تعریف مستقل نہیں ہوتی یہاں تک کہ آسمان والوں میں بھی اس کی وہ تعریف قرار پکڑ لیتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28207
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28207، ترقيم محمد عوامة 27039)
حدیث نمبر: 28208
٢٨٢٠٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا العوام بن حوشب قال: التقيت أنا وإياس بن معاوية بذات عرق فذكرنا إبراهيم التيمي، فقال إياس: لولا كرامته علي لأثنيت عليه فقلت: هل تعرفه؛ قال: نعم، قلت: فلم تكره الثناء عليه، قال: إنه كان يقال: إن الثناء من الجزاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عوام بن حوشب فرماتے ہیں کہ میری اور حضرت ایاس بن معاویہ کی ذات عرق مقام پر ملاقات ہوئی تو ہم نے ابراہیم تیمی کا ذکر کیا ۔ حضرت ایاس فرمانے لگے : اگر ان کی میرے دل میں عزت نہ ہوتی تو میں ضرور ان کی تعریف کرتا میں نے پوچھا : کیا آپ انہں ی جانتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ! میں نے پوچھا : پھر آپ ان کی تعریف کرنے کو برا کیوں سمجھ رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : اس لیے کہ یوں کہا جاتا ہے کہ تعریف کرنا اجرت دینے کے مترادف ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28208
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28208، ترقيم محمد عوامة 27040)
حدیث نمبر: 28209
٢٨٢٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معاذ عن حميد عن أنس قال: قالت المهاجرون: يا رسول اللَّه! ما رأينا مثل قوم قدمنا عليهم أحسن بذلًا من كثير، ولا أحسن مواساة في قليل، كفونا المؤنة، وأشركونا في المهنأ، قد (خشينا) (١) أن يذهبوا بالأجر كله، فقال: "لا، ما أثنيثم عليهم ودعوتم اللَّه لهم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مہاجرین نے فرمایا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! جس قوم کے پاس ہم آئے ہیں ہم نے ان سے زیادہ اچھا کثرت سے خرچ کرنے والا اور تھوڑا ہونے کے باوجود غمخواری کرنے میں ان سے اچھا کسی کو نہیں دیکھا۔ انہوں نے ہمارا خرچہ برداشت کیا ، اور ہمیں اپنی خوشیوں میں شریک کیا۔ ہمیں ڈر ہے کہ سارے کا سارا اجر یہ لوگ ہی لے جائیں گے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نہیں ! ایسی بات نہیں۔ بہرحال تم ان کی تعریف مت کرو، اور تم اللہ سے ان کے حق میں دعا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28209
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٣١٢٢)، وأبو داود (٤٨١٢)، والترمذي (٢٤٨٧)، والحاكم (٢/ ٦٣)، والنسائي في عمل اليوم والليلة (١٨١)، والبخاري في الأدب المفرد (٢١٧)، والبيهقي (٦/ ١٨٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28209، ترقيم محمد عوامة 27041)