کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: آدمی کے لیے مکروہ ہے کہ وہ ایسی بات کرے
حدیث نمبر: 28202
٢٨٢٠٢ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن أبي أمامة بن سهل قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يقل أحدكم إني خبيث النفس، وليقل: إني لقس النفس" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ بن سھل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کوئی یوں مت کہے کہ : میں برے نفس والا یا بدباطن ہوں بلکہ وہ یوں کہے میں معیوب نفس والا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28202
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، أبو أمامة بن سهل، قال الحافظ في التقريب: "له رؤية ولا سماع له"، وقال في المطالب العالية (١١/ ٨٤٠): "له رؤية ورواية"، والحديث أخرجه النسائي في الكبرى (١٠٨٩١)، وعبد الرزاق (٢٠٩٩١)، والطحاوي في شرح المشكل (١/ ٣٢٠)، وإسحاق كما في المطالب (٢٧١١)، وورد الحديث عن أبي أمامة عن أبيه، أخرجه البخاري (٦١٨٠)، ومسلم (٢٢٥١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28202، ترقيم محمد عوامة 27034)
حدیث نمبر: 28203
٢٨٢٠٣ - حدثنا ابن عيينة عن هشام عن أبيه عن عائشة عن النبي ﷺ قال: "لا يقل أحدكم خبثت نفسي، وليقل: لقست نفسي" (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں کوئی یوں مت کہے : میں بدباطن ہوں بلکہ کہے کہ میں معیوب نفس والا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28203
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦١٧٩)، ومسلم (٢٢٥٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28203، ترقيم محمد عوامة 27035)
حدیث نمبر: 28204
٢٨٢٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن مسعر عن سماك الحنفي قال: سمعت ابن عباس يكره أن يقول (الرجل) (١): إني كسلان (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سماک حنفی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما یوں کہنے کو کہ میں سست ہوں، مکروہ سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28204
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28204، ترقيم محمد عوامة 27036)
حدیث نمبر: 28205
٢٨٢٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن الأعمش عن أبي راشد أن أختًا لعبيد بن عمير استشفعت (لرجل) (١) عليه فقالت: إنما هو باللَّه وبك، فغضب (فقال) (٢): إنما هو باللَّه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو راشد فرماتے ہیں کہ حضرت عبید بن عمیر کی بہن نے ان سے کسی آدمی کی سفارش کی ۔ تو یوں کہا : بیشک وہی ہے اللہ کی قسم اور آپ کی قسم۔ آپ کو غصہ آگیا اور فرمایا بیشک وہی ہے اللہ کی قسم۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28205
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28205، ترقيم محمد عوامة 27037)
حدیث نمبر: 28206
٢٨٢٠٦ - حدثنا أبو أسامة عن سفيان عن مختار (بن فلفل) (١) قال: سمعت عمر بن عبد العزيز يكره أن يقول: اللهم تصدق علي، ولكن ليقل: اللهم امنن علي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مختار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز کو سنا کہ وہ یوں کہنے کو مکروہ سمجھتے تھے کہ اے اللہ ! تو ہم پر صدقہ فرما۔ لیکن یوں کہا کرتے : اے اللہ ! ہم پر احسان فرما۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28206
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28206، ترقيم محمد عوامة 27038)