کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جو یوں کہے: قوم کا بھانجا انہیں میں سے ہوتا ہے
حدیث نمبر: 28178
٢٨١٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن عوف عن زياد بن مخراق عن أبي كنانة عن أبي موسى قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ابن أخت القوم [منهم" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قوم کا بھانجا انہیں سے ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28178
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو كنانة روى عنه جمع ولم يجرحه أحد وحسن له الذهبي، وأخرج له أبو داود، والحديث أخرجه أحمد (١٩٥٤١) (٥١٢٢)، وابن أبي عاصم في السنة (١١٢١)، والبزار (١٥٨٢/ كشف).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28178، ترقيم محمد عوامة 27012)
حدیث نمبر: 28179
٢٨١٧٩ - حدثنا وكيع عن قتادة عن أنس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ابن أخت القوم] (١) من أنفسهم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قوم کا بھانجا انہی میں شمار ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28179
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٥٢٨)، ومسلم (١٠٥٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28179، ترقيم محمد عوامة 27013)
حدیث نمبر: 28180
٢٨١٨٠ - حدثنا وكيع عن شعبة (١) قال: قلت لمعاوية بن قرة: سمعت أنس ابن مالك يقول: قال رسول اللَّه ﷺ للنعمان بن مقرن: "ابن أخت القوم من أنفسهم؟ " قال: نعم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت نعمان بن مقرن سے پوچھا : کیا قوم کا بھانجا انہی میں سے شمار ہوتا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا : جی ہاں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28180
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٢١٨٧)، والنسائي (٥/ ١٠٦)، وأبو يعلى (٤١٤٨)، والدارمي (٢٥٢٧)، وانظر: ما قبله.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28180، ترقيم محمد عوامة 27014)
حدیث نمبر: 28181
٢٨١٨١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن (خثيم) (١) عن إسماعيل بن عبيد اللَّه (ابن) (٢) رفاعة عن أبيه عن جده قال: جمع رسول اللَّه ﷺ قريشًا فقال: "هل فيكم من غيركم؟ " قالوا: لا إلا ابن أختنا وحليفنا ومولانا (فقال) (٣): "ابن أختكم منكم وحليفكم منكم ومولاكم منكم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رفاعہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبیلہ قریش کو جمع کیا اور پوچھا : کیا تم میں کوئی غیر تو موجود نہیں ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : نہیں ، سوائے ہمارے بھانجوں ، ہمارے حلیفوں اور ہمارے غلاموں کے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہارے بھانجے تم ہی میں سے ہیں، تمہارے حلیف تم ہی میں سے ہیں ، اور تمہارے غلام بھی تم ہی میں سے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28181
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ إسماعيل صحح له الترمذي وابن حبان والحاكم، ووثقه ابن حبان، والحديث أخرجه أحمد (١٨٩٩٢)، والحاكم (٢/ ٣٢٨)، والبخاري في الأدب المفرد (٧٥)، والطبراني (٦٥٤٤)، والبزار (٢٧٨٠/ كشف).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28181، ترقيم محمد عوامة 27015)