حدیث نمبر: 28132
٢٨١٣٢ - حدثنا أبو أسامة عن شعبة عن جابر عن عبد اللَّه بن يسار قال: سمعت عليًا يخطب يقول: أعزم على (١) من كان عنده كتاب إلا رجع فمحاه، فإنما ⦗٤٥٧⦘ هكذا الناس حيث يتبعون أحاديث علمائهم وتركوا كتاب ربهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن یسار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا آپ نے ارشاد فرمایا : پختہ ارادہ کرلے ہر وہ شخص جس کے پاس کوئی لکھی ہوئی کتاب ہو کہ وہ لوٹ کر اسے مٹا دے گا۔ اس لیے کہ پہلے لوگ ہلاک ہوئے اس وجہ سے کہ انہوں نے اپنے علماء کی باتوں کو تو تلاش کیا اور اپنے رب کی کتاب کو چھوڑ دیا۔
حدیث نمبر: 28133
٢٨١٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن كهمس عن أبي نضرة قال: قلنا لأبي سعيد الخدري: لو (اكتبتنا) (١) الحديث؟ فقال: لا نكتبكم، خذوا عنا كما أخذنا عن نبينا ﷺ (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت ابو سعیدخدری کی خدمت میں عرض کیا : اگر آپ اجازت دیں تو ہم حدیث لکھ لیا کریں۔ آپ نے فرمایا؛ ہم تمہیں نہیں لکھوائیں گے ، تم ہم سے حدیث حاصل کرو ، جیسے ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث حاصل کی تھی۔
حدیث نمبر: 28134
٢٨١٣٤ - حدثنا مروان بن معاوية عن أبي مالك الأشجعي عن سليمان بن الأسود المحاربي قال: كان ابن مسعود يكره كتاب العلم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن اسود محاربی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود علم کے لکھنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 28135
٢٨١٣٥ - حدثنا جرير عن مغيرة قال: كان عمر يكتب إلى عماله: لا (تخلدن) (١) عليّ كتابًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر اپنے گورنروں کو خط لکھتے تھے کہ ہمیشہ مجھے خط نہ لکھتے رہاکرو۔
حدیث نمبر: 28136
٢٨١٣٦ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: قال لي عبيدة: لا (تخلدن) (١) عليَّ كتابًا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبیدہ نے مجھے ارشاد فرمایا : کہ تم ہمیشہ مجھے خط مت لکھا کرو۔
حدیث نمبر: 28137
٢٨١٣٧ - حدثنا وكيع عن طلحة بن يحيى عن أبي بردة قال: كتبت عن أبي كتابًا كبيرًا فقال: ائتني بكتبك، فأتيته بها فغسلها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بردہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے بہت بڑی کتاب لکھی۔ انہوں نے فرمایا : اپنی کتابیں میرے پاس لاؤ۔ میں ان کے پاس لے آیا تو انہوں نے ان کو دھو دیا۔
حدیث نمبر: 28138
٢٨١٣٨ - حدثنا وكيع عن الحكم بن عطية عن ابن سيرين قال: إنما ضلت بنو إسرائيل بكُتبٍ ورثوها عن آبائهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم بن عطیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین نے ارشاد فرمایا : کہ بنو اسرائیل ان کتابوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے جو انہیں اپنے آباؤ اجداد سے ورثہ میں ملی تھیں۔
حدیث نمبر: 28139
٢٨١٣٩ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن الشعبي أن مروان دعا زيد بن ثابت وقومًا يكتبون، وهو لا يدري فأعلموه فقال: أتدرون لعل كل (شيء) (١) حدثتكم ليس كما حدثتكم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
امام شعبی فرماتے ہیں کہ مروان نے حضرت زید بن ثابت کو بلایا اس حال میں کہ لوگ لکھ رہے تھے اور آپ نہیں جانتے تھے ۔ پس لوگوں نے آپ کو بتلایا تو آپ نے فرمایا : شاید کہ وہ حدیثیں جو میں نے تمہیں بیان کیں وہ ایسی نہ ہوں جیسے میں نے تمہیں بیان کی ہیں۔
حدیث نمبر: 28140
٢٨١٤٠ - حدثنا (أبو) (١) معاوية عن الأعمش عن جامع بن شداد عن الأسور بن هلال قال: أُتيّ عبد اللَّه بصحيفة فيها حديث، فدعا بماء فمحاها ثم غسلها ثم أمر بها فأحرقت، ثم قال: أُذكّر باللَّه (رجلًا) (٢) يعلمها عند أحد إلا أعلمني به، واللَّه لو أعلم أنها (بدير هند) (٣) (لابتلغت) (٤) إليها، بهذا هلك أهل الكتاب قبلكم حتى نبذوا كتاب اللَّه وراء ظهورهم كأنهم لا يعلمون (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود بن ہلال فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ کے پاس ایک صحیفہ لایا گیا جس میں لکھی ہوئی تحریر تھی۔ انہوں نے پانی منگوا کر اسے صاف کیا اور پھر جلانے کا حکم دیا۔ پھر فرمایا کہ جس شخص کے باے میں تمہیں علم ہو کہ اس کے پاس حدیث لکھی ہوئی ہے تو مجھے ضرور بتاؤ۔ خدا کی قسم ! اگر مجھے پتہ چلے کہ دیرہند میں کوئی لکھی ہوئی حدیث ہے کہ میں پیدل جا کر اس کو مٹاؤں گا پہلی امتیں اسی وجہ سے ہلاک ہوئیں کہ انہوں نے اللہ کی کتاب کو پس پشت ڈال دیا تھا۔
حدیث نمبر: 28141
٢٨١٤١ - حدثنا معتمر بن سليمان عن كهمس عن عبد اللَّه بن مسلم عن أبيه قال: كل الكتاب أكره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسلم فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت مسلم نے ارشاد فرمایا : میں ہر طرح کے لکھنے کو مکروہ سمجھتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں میرا گمان ہے کہ یوں فرمایا : جس کتابت میں اللہ کا ذکر لکھا جائے اس کو بھی۔ امام ابوبکر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت معتمر سے پوچھا : مہر کو بھی ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں !
حدیث نمبر: 28142
٢٨١٤٢ - قال: أراه يعني ما كان فيه من ذكر اللَّه.
حدیث نمبر: 28143
٢٨١٤٣ - قلت لمعتمر: يعني الخاتم؟ قال: نعم.
حدیث نمبر: 28144
٢٨١٤٤ - حدثنا معاذ قال: حدثنا ابن عون عن القاسم أنه كان (لا) (١) يكتب الحديث.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ حضرت قاسم حدیث نہیں لکھتے تھے۔
حدیث نمبر: 28145
٢٨١٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن أيوب قال: سمعت سعيد بن جبير قال: كنا نختلف في أشياء فكتبتها في كتاب ثم أتيت بها ابن عمر أسأله عنها خفيًا، فلو (علم) (١) بها كانت الفيصل فيما بيني وبينه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایوب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ ہم لوگ کچھ مسائل میں اختلاف کر رہے تھے، تو میں نے ان کو ایک کاپی میں لکھ لیا۔ پھر میں اس کو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس لے آیا۔ ان سے ان مسائل کے بارے میں سوال کیا اس تحریر کر چھپاتے ہوئے کہ اگر انہیں اس بارے میں پتہ چل جاتا تو یہ میرے اور ان کے درمیان جدائی کا سبب بن جاتا۔
حدیث نمبر: 28146
٢٨١٤٦ - حدثنا ابن إدريس عن شعبة عن الحكم عن إبراهيم قال: قال عبيدة: (لا تخلدن) (١) عليَّ كتابا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبیدہ نے ارشاد فرمایا : کہ تم ہمیشہ مجھے مت لکھتے رہا کرو۔
حدیث نمبر: 28147
٢٨١٤٧ - حدثنا ابن إدريس عن هارون بن عنترة عن أبيه عن ابن عباس أنه رخص له أن يكتب ولم (يكد) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عنترہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے لکھنے کی رخصت دی اور منع نہیں فرمایا۔