حدیث نمبر: 28082
٢٨٠٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن سلمة عن عيسى بن عاصم عن (زر) (١) عن عبد اللَّه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الطيرة شرك، الطيرة شرك، وما منا (إلا) (٢) ولكن اللَّه يذهبه بالتوكل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بدفالی شرک ہے۔ بدفالی شرک ہے۔ اور ہم میں سے ہر ایک کو کوئی نہ کوئی حادثہ پیش آ ہی جاتا ہے۔ لیکن اللہ توکل کرنے کی وجہ سے اس کو رفع فرما دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 28083
٢٨٠٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن حبيب بن أبي ثابت عن (عروة) (١) بن عامر قال: سئل رسول اللَّه ﷺ عن الطيرة فقال: "أحسنها الفأل ⦗٤٤٣⦘ ولا ترد مسلمًا، فإذا رأى أحدكم من ذلك ما يكره فليقل: اللهم لا يأتي بالحسنات ولا يدفع السيئات إلا أنت، ولا حول ولا قوة إلا بك" (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ بن عامر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بدفالی کے متعلق پوچھا گیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس میں اچھی تو نیک فال ہے اور یہ مسلمان سے کوئی چیز نہیں ہٹا سکتی اور جب تم میں کوئی ایسی بات دیکھے جس کو وہ ناپسند کرتا ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ یہ دعا پڑھ لے۔ ترجمہ : اے اللہ ! تیرے سوا کوئی بھی اچھائی کو پہنچا نہیں سکتا اور نہ کوئی برائی کو دور کرسکتا ہے۔ اور گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت صرف ترای مدد سے ہے۔
حدیث نمبر: 28084
٢٨٠٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبي جناب عن أبيه عن ابن عمر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا عدوى ولا طيرة ولا هامة"، فقام إليه رجل فقال: يا رسول اللَّه البعير يكون به الجرب (فيجرب) (١) الإبل؛ قال: " (ذلك) (٢) القدر فمن أجرب الأول؟ " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : چھوت کی کوئی حقیقت نہیں، بدفالی کی کوئی حقیقت نہیں، اور ہامہ کی کوئی حقیقت نہیں۔ ایک بدوی شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا۔ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کسی ایک اونٹ کو خارش لگی ہو تو وہ تمام اونٹوں کو خارش لگا دیتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ بھی تقدیر ہے ورنہ پہلے کو کس نے خارش لگائی ؟
حدیث نمبر: 28085
٢٨٠٨٥ - حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا طيرة (ولا هامة) (١) ولا صفر" (٢) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : چھوت کی کوئی حقیقت نہیں، بدفالی کی کوئی حقیقت نہیں، اور ہامہ کی کوئی حقیقت نہیں اور صفر کی کوئی حقیقت نہیں۔
حدیث نمبر: 28086
٢٨٠٨٦ - حدثنا ابن علية عن الجريري عن المضارب بن (حزن) (١) قال: قلت لأبي هريرة: أسمعت من نبيك شيئًا (فحدثنيه) (٢) قال: نعم، قال رسول اللَّه ﷺ: "لا عدوى ولا طيرة ولا هامة، وخير الطيرة الفال، والعين الحق" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مضارب بن حزن فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ کی خدمت میں عرض کی : آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی حدیث سنی ہے تو بیان کیجئے۔ آپ نے فرمایا : جی ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : چھوت کی کوئی حقیقت نہیں ، بدفالی کی کوئی حقیقت نہیں، ہامہ کی کوئی حقیقت نہیں اور بہترین فال تو نیک شگونی ہے اور نظر لگنا برحق ہے۔
حدیث نمبر: 28087
٢٨٠٨٧ - حدثنا (علي) (١) بن مسهر عن محمد بن عمرو عن (أبي) (٢) سلمة عن أبي هريرة قال: كان رسول اللَّه ﷺ يحب الفأل الحسن ويكره الطيرة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیک فال کو پسند کرتے تھے۔ اور بدفالی کو ناپسند کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 28088
٢٨٠٨٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا شعبة عن قتادة (عن أنس) (١) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا عدوى ولا طيرة وأحب الفأل الصالح" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : چھوت کی کوئی حقیقت نہیں، بدفالی کی کوئی حقیقت نہیں اور میں نیک فال کو پسند کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 28089
٢٨٠٨٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم قال: قال عبد اللَّه: لا (تضر) (١) الطيرة إلا من (تطير) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : بدفالی نقصان نہیں پہنچاتی مگر اس شخص کو جو بدفالی مراد لیتا ہے۔
حدیث نمبر: 28090
٢٨٠٩٠ - حدثنا كثير بن هشام (قال) (١): حدثنا الفرات بن (سلمان) (٢) عن عبد الكريم عن زياد بن أبي (مريم) (٣) قال: خرج سعد بن أبي وقاص في سفر، قال: فأقبلت الظباء نحوه حتى إذا دنت منه رجعت، فقال له رجل: (أيها الأمير ارجع) (٤) فقال له سعد: أخبرني من أيها (تطيرت؟) (٥) أمن قرونها حين أقبلت أم من (أذنابها) (٦) حين أدبرت؟ ثم قال سعد عند ذلك: إن الطيرة لشعبة من الشرك (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد بن ابی مریم فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص کسی سفر میں تشریف لے گئے۔ پس ایک ہرن آپ کی طرف آئی یہاں تک کہ جب وہ آپ کے قریب ہوئی تو واپس لوٹ گئی۔ اس پر کسی شخص نے آپ سے کہا : اے امیر آپ واپس لوٹ جائیں۔ حضرت سعد نے اس سے فرمایا : مجھے بتلاؤ تم نے کس چیز سے بدشگونی لی ؟ کیا اس کے آنے سے جب وہ میری طرف آئی ؟ یا اس کے پلٹ جانے سے کہ جب وہ پلٹ کر چلی گئی ؟ پھر اس وقت حضرت سعد نے یہ بھی ارشاد فرمایا : یقینا بدفالی شرک کی شاخ ہے۔
حدیث نمبر: 28091
٢٨٠٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن مرزوق (أبي) (١) (بكير) (٢) التيمي عن عكرمة أن ابن عباس لزق بمجذوم فقلت له: تلزق بمجذوم؟ قال: فأمضِ، وقال: لعله خير (٣) منك (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما جذام میں مبتلا شخص سے چمٹ گئے۔ میں نے ان سے پوچھا : کہ آپ جذام میں مبتلا شخص سے چمٹ گئے ؟ آپ نے فرمایا : جانے دو ہوسکتا ہے وہ مجھ سے اور تم سے بہتر ہو۔
حدیث نمبر: 28092
٢٨٠٩٢ - حدثنا ابن عيينة عن (عبيد اللَّه) (١) بن أبي يزيد عن أبيه عن سباع بن ثابت عن أم كرز (قالت) (٢): قال رسول اللَّه ﷺ: "أقروا الطير على (مكناتها) (٣) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام کرز فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بدفالی کو اپنی جگہ برقرار رکھو۔ (وہ نفع و نقصان نہیں پہنچاتی) ۔
حدیث نمبر: 28093
٢٨٠٩٣ - حدثنا الفضل بن دكين عن سليمان بن القاسم عن أمه (قالت) (١): سألت أم سعيد سرية علي ﵁: هل كان الحسن والحسين يتطيران؟ قالت: كانا يحسان ويمضيان (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن قاسم کی والدہ فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت ام سعید جو کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خادمہ ہیں ان سے سوال کیا کہ کیا حضرت حسن اور حضر تحسین یہ دونوں حضرات بد شگونی لیتے تھے ؟ آپ نے فرمایا : وہ دونوں حضرات اس کو محسوس کرتے تھے اور پھر بھی اپنا کام جاری رکھتے تھے۔
حدیث نمبر: 28094
٢٨٠٩٤ - حدثنا مروان بن معاوية عن عوف عن (حيان) (١) عن (قطن) (٢) ابن قبيصة عن أبيه قال: قال رسول اللَّه: "العيافة والطيرة (والطرق) (٣) ⦗٤٤٧⦘ من (الجبت) (٤) " (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قبیصہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پرندوں کی آوازوں سے شگون لینا، بدفالی اور پیشین گوئی کے لیے کنکریاں پھینکنا شیطان کا طریقہ ہے۔
حدیث نمبر: 28095
٢٨٠٩٥ - (حدثنا) (١) (شريك) (٢) عن عبد الملك بن عمير عن رجاء بن حيوة عن أبي الدرداء قال: ثلاث من كن فيه فهو منافق: من تكهن أو استقسم أو (زحفته) (٣) طيرة من سفر (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رجاء بن حیوہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الدرداء نے ارشاد فرمایا : تین خصلتیں جس شخص میں بھی پائی جائیں تو وہ منافق ہوگا : جو کاہنوں جیسی بات کرے یا جوئے کے تیروں کے ذریعہ تقسیم چاہے یا بدفالی لیتے ہوئے سفر سے لوٹ آئے۔
حدیث نمبر: 28096
٢٨٠٩٦ - حدثنا علي بن الجعد عن يزيد بن إبراهيم عن أبي الزبير عن جابر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا غول ولا صفر" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : غول (جنوں کا شکل بدل کر راستہ سے گمراہ کردینا) کی کوئی حقیقت نہیں اور صفر کی کوئی حقیقت نہیں۔