حدیث نمبر: 28065
٢٨٠٦٥ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن خالد عن محمد بن سيرين أنه كان يكره أن يركب ثلاثة على دابة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد فرماتے ہیں کہ حضرت محمد بن سیرین ایک سواری پر تین آدمیوں کے سوار ہونے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 28066
٢٨٠٦٦ - حدثنا ابن فضيل عن الأجلح عن الشعبي قال: أيما ثلاثة (ركبوا) (١) على دابة فأحدهم ملعون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اجلح فرماتے ہیں کہ امام شعبی نے فرمایا کہ جو کوئی بھی تین آدمی ایک سواری پر سوار ہوئے تو ان میں سے ایک ملعون ہوگا۔
حدیث نمبر: 28067
٢٨٠٦٧ - حدثنا ابن إدريس عن جبريل بن أحمر عن ابن بريدة قال: رآني أبي ردف ثالث فقال: ملعون (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن بریدہ فرماتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے دیکھا کہ میں سوار کے پیچھے تیسرا سوار تھا تو آپ نے فرمایا : ملعون شخص۔
حدیث نمبر: 28068
٢٨٠٦٨ - حدثنا شريك عن (جابر عن) (١) عامر قال: خرجت إلى (الحيرة) (٢) ⦗٤٣٩⦘ أنظر إلى الفيل (٣)، فرأيت الحارث الأعور راكبًا وخلفه ردف، قال: فقال: لو صلح ثلاثة (حملناك) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عامر نے ارشاد فرمایا : کہ میں حیرہ مقام کی طرف نکلا تاکہ میں ہاتھی دیکھوں، پس میں نے حضرت حارث اعور کو سوار دیکھا اس حالت میں کہ ان کے پیچھے کوئی سوار تھا ۔ آپ نے فرمایا : اگر یہ سواری تیسرے کی صلاحیت رکھتی تو ہم آپ کو بھی سوار کرلیتے۔
حدیث نمبر: 28069
٢٨٠٦٩ - حدثنا عبد الرحيم بن (سليمان) (١) عن إسماعيل عن حسن (عن) (٢) مهاجر (بن) (٣) قنفذ قال: كنا نتحدث معه إذ مر ثلاثة على حمار، فقال للآخر: منهم: أنزل لعنك اللَّه، فقال: فقيل له: تلعن هذا الإنسان؟ قال: فقال: إنا قد نهينا عن هذا أن يركب الثلاثة على الدابة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ حضرت مہاجر بن قنفذ نے ارشاد فرمایا کہ ہم لوگ آپس میں گفتگو کر رہے تھے کہ اتنے میں ایک گدھے پر سوار تین لوگ گزرے۔ ان میں سے ایک نے دوسرے کو کہا : اتر جا اللہ تجھ پر لعنت کرے، اس لعنت کرنے والے کو کہا گیا کہ تو انسان کو لعنت کرتا ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ ہمیں اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ ایک جانور پر تین لوگ سوار ہوں۔
حدیث نمبر: 28070
٢٨٠٧٠ - حدثنا وكيع عن أبي العنبس عن زاذان قال: رأى ثلاثة على بغل فقال: لينزل أحدكم فإن رسول اللَّه ﷺ لعن الثالث (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العنبس فرماتے ہیں کہ حضرت زاذان نے ایک خچر پر تین لوگوں کو سوار دیکھا آپ نے فرمایا : کہ چاہیے کہ تم میں سے ایک اتر جائے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسرے سوار پر لعنت فرمائی ہے۔