کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینے کا بیان
حدیث نمبر: 28029
٢٨٠٢٩ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن ابن عجلان عن عبد اللَّه بن دينار عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (الإيمان) (١) ستون أو سبعون أو بضعة -واحد العددين-: أعلاها شهادة أن لا إله إلا اللَّه، وأدناها إماطة الأذى عن الطريق، والحياء شعبة من الإيمان" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایمان کے ساٹھ یا ستر یا کچھ زائد شعبے ہیں۔ ان دونوں میں سے ایک عدد ارشاد فرمایا… ان میں سے بلند ترین لا الہ الا اللہ کی گواہی دینا ہے اور سب سے آسان تکلیف دہ چیز کو راستہ سے ہٹانا ہے ، اور حیاء بھی ایمان کا حصہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28029
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ ابن عجلان صدوق، أخرجه مسلم (٣٥)، وأحمد (٩٣٦١)، وأصله عند البخاري (٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28029، ترقيم محمد عوامة 26870)
حدیث نمبر: 28030
٢٨٠٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبان بن صمعة عن أبي الوازع عن أبي برزة قال: قلت يا رسول اللَّه دلني على عمل أنتفع به، (قال) (١): "نح الأذى عن (طريق) (٢) المسلمين" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو برزہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میری کسی ایسے عمل پر راہنمائی فرما دیجئے جس پر عمل کرنے سے مجھے فائدہ ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کہ مسلمانوں کے راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹاؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28030
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو الوازع صدوق، أخرجه مسلم (٢٦١٨)، وأحمد (١٩٧٦٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28030، ترقيم محمد عوامة 26871)
حدیث نمبر: 28031
٢٨٠٣١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا جرير بن حازم قال: حدثنا (بشار) (١) بن أبي سيف عن الوليد بن عبد الرحمن عن عياض بن غطيف عن أبي عبيدة قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "من عاد مريضًا، أو أنفق على أهله، أو (ماز) (٢) أذى عن طريق، فحسنة بعشرة أمثالها" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص مریض کی عیادت کرے یا اپنے گھر والوں پر مال خرچ کرے یا راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دے تو ایک نیکی کا بدلہ دس کے برابر ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28031
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28031، ترقيم محمد عوامة 26872)
حدیث نمبر: 28032
٢٨٠٣٢ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان قال: خرج رجل مع معاذ (١) فجعل لا يرى أذى في الطريق إلا نحاه، فلما رأى ذلك الرجل جعل لا يمر بشيء إلا نحاه، فقال له: ما حملك على هذا؟ قال: الذي رأيتك (تصنع) (٢)، قال: (قد) (٣) أصبت أو (قد) (٤) أحسنت، إنه (من) (٥) أماط أذى عن طريق كتبت له حسنة، ومن كتبت له حسنة دخل الجنة (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن یحییٰ بن حبان فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت معاذ کے ساتھ نکلا، وہ شخص راستہ میں کوئی بھی تکلیف دہ چیز دیکھتا تو اسے ہٹا دیتا، جب آپ نے اس شخص کو دیکھا کہ یہ جو بھی تکلیف دو چیز دیکھتا ہے تو اس کو راستہ سے ہٹا دیتا ہے ، تو آپ نے اس سے پوچھا کہ کس بات نے تجھے اس فعل پر ابھارا ؟ اس نے کہا : کہ مں نے آپ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ آپ نے جواب دیا : تحقیق تو نے ٹھیک کیا یا یوں فرمایا : کہ تو نے اچھا کام کیا۔ اس لیے کہ جو شخص راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹاتا ہے تو اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور جس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جائے تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28032
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28032، ترقيم محمد عوامة 26873)
حدیث نمبر: 28033
٢٨٠٣٣ - حدثنا (الحسن) (١) بن موسى قال: سمعت أبا هلال قال: حدثنا قتادة عن أنس قال: كانت شجرة على طريق الناس، فكانت تؤذيهم فعزلها (رجل) (٢) عن (طريق) (٣) الناس، قال: (قال) (٤) النبي ﷺ: "فلقد رأيته يتقلب في ظلها في الجنة" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس نے ارشاد فرمایا : کہ لوگوں کے راستہ میں ایک درخت تھا جو لوگوں کی تکلیف کا باعث تھا، پس کسی آدمی نے راستہ سے اسے ہٹا دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کہ تحقیق میں نے اسے خواب میں دیکھا کہ وہ جنت میں اس درخت کے سایہ کے نیچے گھوم رہا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28033
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو هلال محمد بن سليم الراسبي صدوق، أخرجه أحمد (١٢٥٧١)، وأبو يعلى (٣٠٥٨)، والحارث (٨٦٢/ بغية).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28033، ترقيم محمد عوامة 26874)
حدیث نمبر: 28034
٢٨٠٣٤ - حدثنا ابن نمير عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي ⦗٤٣١⦘ ﵇ قال: "كان على (طريق) (١) غصن شجرة يؤذي الناس فأماطها رجل فأدخل الجنة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کہ ایک راستہ میں درخت کی ٹہنی تھی جو لوگوں کی تکلیف کا باعث بنتی تھی ، پس کسی آدمی نے اسے ہٹا دیا تو اس وجہ سے اسے جنت میں داخل کردیا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28034
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٥٢)، ومسلم (١٩١٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28034، ترقيم محمد عوامة 26875)
حدیث نمبر: 28035
٢٨٠٣٥ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا هشام بن حسان عن واصل مولى (أبي) (١) عيينة (عن يحيى بن عقيل) (٢) عن يحيى بن يعمُر عن أبي ذر عن النبي ﷺ قال: "عرضت عليَّ أمتي بأعمالها، (حسنها وسيئها) (٣)، فرأيت في محاسن أعمالها الأذى ينحى عن الطريق، ورأيت في سيء أعمالها النخامة في المسجد لا تدفن" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوذر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کہ مجھ پر میری امت کے اچھے اور برے اعمال پیش کیے گئے تو میں نے ا ن کے اچھے اعمال میں سے یہ دیکھا کہ وہ راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹا نا تھا اور میں نے ان کے برے اعمال میں دیکھا کہ وہ مسجد میں تھوک کر اس پر مٹی نہ ڈالنا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28035
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28035، ترقيم محمد عوامة 26876)