کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو عورت کے گھر سے نکلتے وقت خوشبو لگانے کو مکروہ سمجھتے ہیں
حدیث نمبر: 28021
٢٨٠٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن الأعمش عن إبراهيم أن عمر بن الخطاب خرج يوم عيد، فمر بالنساء فوجد ريح رأس امرأة، (فقال) (١): من صاحبة هذا؟ أما لو (عرفتها) (٢) لفعلت وفعلت، إنما تطيب المرأة لزوجها، فإذا خرجت لبست أُطَيْمِرها أو (أطيمر) (٣) خادمها، فتحدث (النساء) (٤) أنها قامت عن حدث (٥).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب عید کے دن نکلے، آپ کا گزر عورتوں کے پاس سے ہوا، تو آپ کو کسی عورت کے سر سے خوشبو محسوس ہوئی، آپ نے پوچھا : یہ خوشبو والی عورت کون ہے ؟ اگر میں نے اس کو پہچان لیا تو میں اس کو ایسی اور ایسی سزادوں گا، اس لیے کہ عورت صرف اپنے خاوند کے لیے خوشبو لگا سکتی ہے۔ اور جب وہ نکلے تو اپنے کوئی بوسیدہ یا اپنی خادمہ کے بوسیدہ کپڑے پہن لے، اس پر عورتوں نے بتایا کہ یہ عورت حدث کی وجہ سے اٹھی ہے۔
حدیث نمبر: 28022
٢٨٠٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن ثابت بن عمارة عن غنيم بن قيس عن أبي موسى قال: أيما امرأة [استعطرت ثم خرجت ليوجد ريحها فهي فاعلة، وكل عين فاعلة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت غنیم بن قیس فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ نے فرمایا : جو کوئی عورت خوشبو لگائے، پھر وہ نکلے تاکہ اس کی خوشبو پھیلے، پس یہ عورت زنا کرنے والی ہے اور ہر آنکھ زنا کرنے والی ہوگی۔
حدیث نمبر: 28023
٢٨٠٢٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عاصم بن عبيد اللَّه عن عبيد (١) عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إيما امرأة] (٢) تطيبت ثم خرجت إلى المسجد ليوجد ريحها، لم تقبل لها صلاة حتى تغتسل اغتسالها من الجنابة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو کوئی عورت خوشبو لگائے پھر مسجد کی طرف نکلے تاکہ اس کی خوشبو محسوس کی جائے، تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ جنابت کے غسل کی طرح غسل کرلے۔
حدیث نمبر: 28024
٢٨٠٢٤ - حدثنا يحيى بن سعيد عن محمد بن عجلان عن يعقوب بن عبد اللَّه بن الأشج عن (بسر) (١) بن سعيد عن زينب امرأة عبد اللَّه قالت قال لنا رسول اللَّه ﷺ: "إذا (خرجت) (٢) إحداكن إلى المسجد فلا تمس طيبًا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زینب جو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی زوجہ ہیں وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی عورت مسجد کی طرف نکلے تو اس کو چاہیے کہ وہ خوشبو مت لگائے۔
حدیث نمبر: 28025
٢٨٠٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبي العميس عن القاسم (بن) (١) أبي بزة عن أبي عبيدة (عن عبد اللَّه بن مسعود أنه) (٢) وجد من امرأته، ريح مجمر وهي بمكة، فأقسم عليها (ألا) (٣) تخرج تلك الليلة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے عود کی خوشبو محسوس کی اس حال میں کہ وہ مکہ میں تھی، آپ نے اس کو قسم دی کہ وہ اس رات نہیں نکلے گی۔
حدیث نمبر: 28026
٢٨٠٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن كثير بن زيد عن عثمان بن عبد اللَّه ابن سراقة عن أمه قالت: نزل بي حمويّ فمسست طيبًا ثم خرجت فأرسلت إليَّ حفصة إنما الطيب للفراش (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن عبد اللہ بن سراقہ فرماتے ہیں کہ میری والدہ نے ارشاد فرمایا : کہ میرے دیور نے میرے پاس قیام کیا تو میں نے خوشبو لگائی پھر میں نکلی، تو حضرت حفصہ نے میری طرف قاصد کے ذریعے پیغام بھیجا کہ بیشک خوشبو تو خاوند کے لیے لگائی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 28027
٢٨٠٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن الأعمش عن إبراهيم إن امرأته (استأذنته) (١) أن تأتي أهلها. فأذن لها فوجد بها ريح (دخنة فحبسها) (٢)، وقال: إن المرأة إذا تطيبت ثم خرجت فإنما طيبها شنار فيه نار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ ابراہیم سے ان کی بیوی نے اپنے گھر والوں کے پاس جانے کی اجازت مانگی تو آپ نے اسے اجازت دے دی۔ پھر آپ کو اس سے دھونی کی خوشبو محسوس ہوئی تو آپ نے اس کو روک دیا اور فرمایا : بیشک عورت جب خوشبو لگائے پھر گھر سے نکلے، تو اس کی خوشبو میں ایسا فتنہ ہے جس میں آگ ہے۔
حدیث نمبر: 28028
٢٨٠٢٨ - حدثنا وكيع عن موسى بن عُبيدة عن محمد بن المنكدر (قال) (١): زارت أسماء أختها عائشة، والزبير غائب، فدخل النبي ﷺ فوجد ريح طيب فقال: "ما على امرأة أن (لا) (٢) تطيب وزوجها غائب" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن منکدر فرماتے ہیں کہ حضرت اسمائ اپنی بہن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کے لیے آئیں اس حال میں کہ حضر ت زبیر موجود نہیں تھے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پاکیزہ خوشبو محسوس کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عورت کے لیے درست نہیں ہے کہ وہ خوشبو لگائے جبکہ اس کا خاوند موجود نہ ہو۔