کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو شخص تیر اندازی سیکھے پھر اسے چھوڑ دے تو اس نے نعمت کی ناشکری کی
حدیث نمبر: 28006
٢٨٠٠٦ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن حجاج عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن النبي ﷺ مر على (أناس) (١) (من أسلم) (٢) يرمون فقال: "خذوا وأنا مع ابن (الأدرع) (٣) "، فقالوا: يا رسول اللَّه نأخذ وأنت مع (بعضنا) (٤) دون بعض فقال: "خذوا وأنا معكم يا بني اسماعيل" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قبیلہ اسلم کے چند لوگوں پر سے گزر ہوا جو تیر اندازی کر رہے تھے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم پکڑو اور میں ابن الادرع کے ساتھ ہوں۔ اس پر ان لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم کیسے قابو کریں حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم میں سے بعض کو چھوڑ کر بعض کے ساتھ ہیں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے بنو اسماعیل ! تم پکڑو میں تم سب کے ساتھ ہوں۔
حدیث نمبر: 28007
٢٨٠٠٧ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن (عبد اللَّه) (١) بن سعيد عن أبيه عن (ابن) (٢) أبي حدرد الأسلمي قال: مر رسول اللَّه ﷺ بناس من أسلم وهم يتناضلون، فقال: "ارموا يا بني اسماعيل، فإن أباكم كان راميًا، ارموا وأنا مع ابن ⦗٤٢٢⦘ الأدرع"، فأمسك القوم بأيديهم فقال: "ما لكم لا ترمون؟ " قالوا: يا رسول اللَّه أنرمي وقد قلت أنا مع ابن الأدرع وقد علمنا أن حزبك لا يغلب؟ قال: "ارموا وأنا معكم كلكم" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابو حدردا سلمی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر قبیلہ اسلم کے چند لوگوں کے پاس سے ہوا اس حال میں کہ وہ لوگ باہم تیر اندازی کا مقابلہ کر رہے تھے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے بنو اسماعیل ! تیر اندازی کرو، بیشک تمہارا باپ بھی تیر انداز تھا۔ اور تم تیر چلاؤ اور میں ابن الادرع کے ساتھ ہوں، تو لوگوں نے اپنے ہاتھوں کو روک لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہیں کیا ہوا کہ تم نہیں چلا رہے ؟ انہوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم کیسے تیر چلائیں ؟ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو ابن الادرع کے ساتھ ہیں، اور تحقق ہم جانتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لشکر کبھی مغلوب نہیں ہوسکتا ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم تیر چلاؤ میں تم سب کے ساتھ ہوں۔
حدیث نمبر: 28008
٢٨٠٠٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبد اللَّه بن سعيد عن (١) أبيه عن رجل من أسلم (يقال) (٢) له: ابن الأدرع قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "تمعْددوا واخْشَوشِنُوا وانتَضِلوا وامشُوا حُفاة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
قیلہ اسلم کے ایک شخص جن کا نام ابن الادرع ہیں وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قبیلہ معد کا طرز زندگی اختیار کرو، اور موٹا اور کھردرا (کپڑا) پہنو اور باہم تیر اندازی کا مقابلہ کرو اور ننگے پیر چلا کرو۔
حدیث نمبر: 28009
٢٨٠٠٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا (١) الدستوائي عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلام عن عبد اللَّه بن الأزرق عن عقبة بن عامر الجهني عن النبي ﷺ قال: "إن اللَّه ليدخل بالسهم الواحد الثلاثة الجنة: صانعه يحتسب في صنعته الخير، والرامي به، والممد به"، (وقال) (٢): "ارموا واركبوا، وإن ترموا أحبُّ إليّ من أن تركبوا، وكل ما يلهو به المرء المسلم باطل إلا رميه بقوسه، وتأديبه فرسه، وملاعبته أهله، فإنهن من الحق" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ بن عامر جہنی فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کہ یقینا اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین لوگوں کو جنت میں داخل کریں گے ، تیر کے بنانے والے کو جس نے ثواب کی نیت سے اس کو بنایا۔ اور اس کے چلانے والے کو اور تیر کے پکڑانے والے کو، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تیر اندازی کرو اور سواری کرو۔ اور تمہارا تیر اندازی کرنا میرے نزدیک تمہارے سوار ہونے سے زیادہ پسندیدہ ہے ۔ اور وہ تمام کھیل جو مسلمان بندہ کھیلتا ہے وہ باطل ہیں ۔ سوائے اس کے کہ وہ اپنے کمان کے ذریعہ تیر چلاتا ہو ، یا اپنے گھوڑے کو سدھاتا ہو یا اپنی بیوی کے ساتھ تفریح کرتا ہو، بیشک یہ تمام چیزیں حق میں سے ہیں۔
حدیث نمبر: 28010
٢٨٠١٠ - حدثنا عيسى بن يونس عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر قال: حدثنا أبو سلام الدمشقي عن خالد بن زيد الجهني عن عقبة بن عامر عن رسول اللَّه ﷺ (فذكره) (١) نحوه، إلا أنه قال: ومنبله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ بن عامر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔ مگر یہ کہ اس سند میں منبلہ کے الفاظ بھی ہیں۔
حدیث نمبر: 28011
٢٨٠١١ - حدثنا (ابن) (١) مبارك عن الأوزاعي عن بلال بن سعد قال: أدركتهم (يشتدون) (٢) بين الأغراض ويضحك بعضهم إلى بعض، فإذا كان الليل كانوا رهبانًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
امام اوزاعی فرماتے ہیں کہ حضرت بلال بن سعد نے ارشاد فرمایا : کہ میں نے صحابہ کو پایا اس حال میں کہ وہ لوگ اپنے مقاصد کے بارے میں بہت سخت تھے۔ اور ان میں سے بعض بعض کے ساتھ مذاق کرتے تھے اور جب رات ہوتی، تو وہ سب کے سب عبادت گزار بن جاتے۔
حدیث نمبر: 28012
٢٨٠١٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن أبيه قال: رأيت حذيفة (يشتد) (١) بين الهدفين (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم تیمی کے والد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا آپ دو نشانوں کے درمیان حملہ کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 28013
٢٨٠١٣ - حدثنا أبو بكر (١) ابن عياش عن عاصم عن أبي العدبس قال: سمعت عمر يقول: أخيفوا الهوام قبل أن تخيفكم (٢)، وانتضِلوا ⦗٤٢٤⦘ (وتَمعْددوا) (٣) واخْشَوشِنُوا، (واجعلوا) (٤) الرأسَ رأسين، وفرقوا (بين) (٥) المنية (٦)، ولا (تُلِثُوا) (٧) بدار معجزة (٨)، وأخيفوا (الحيات) (٩) من قبل أن تخيفكم، وأصلحوا (مثاويكم) (١٠) (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العدبّس فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ تم حشرات کو ڈراؤ قبل ازیں کہ وہ تمہیں خوف زدہ کریں اور تم باہم تیر اندازی کا مقابلہ کیا کرو، اور قبیلہ معد کی طر ز زندگی اختیار کرو اور موٹا ، کھردرا کپڑا پہنو، اور اپنے مال کو ہلاک ہونے سے بچاؤ، اور تم ایسی جگہ اقامت اختیار مت کرو جہاں تمہارا رزق تنگ ہو اور تم سانپوں کو ڈراؤ قبل ازیں کہ وہ تمہیں خوف زدہ کریں اور اپنے گھر والوں کو درست رکھو۔