حدیث نمبر: 27913
٢٧٩١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن الزهري سمع سهل ابن سعد يقول (اطلع) (١) (رجل) (٢) من (جحر) (٣) في حجرة النبي ﷺ ومعه مِدْرًى يحكُّ به رأسه فقال: لو أعلم أنك تنظر لطعنت به في عينك إنما الاستئذان من البصر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سھل بن سعد فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرے میں سوراخ سے جھانکا ، اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کنگھی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا سر کھجلا رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تو دیکھ رہا ہے تو میں یہ کنگھی تیر آنکھ میں مار دیتا۔ اس لیے کہ اجازت تو آنکھ کی وجہ سے ہی مانگی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 27914
٢٧٩١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن بركة (بن) (١) يعلى (التيمي) (٢) عن أبي سويد العبدي قال: كنا بباب ابن عمر نستأذن عليه فحانت مني التفاتة، فرآني فقال: أيكم (اطلع) (٣) في داري؟ قال: قلت: أنا أصلحك اللَّه حانت مني ⦗٣٩٤⦘ التفاتة فنظرت، قال: (ويحل) (٤) لك أن تطلع في داري (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سوید عبدی فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے دروازے پر ان سے اجازت طلب کر رہے تھے کہ میری نگاہ پڑگئی اور انہوں نے مجھے دیکھ لیا اور فرمایا تم میں سے کس نے میرے گھر میں جھانکا ؟ میں نے عرض کیا : میں نے … اللہ آپ کو درست رکھے …کہ اچانک میری نظر پڑگئی تو میں نے دیکھ لیا۔ آپ نے فرمایا : ہلاکت ہو ! تو نے کیوں میرے گھر میں جھانکا ؟ !
حدیث نمبر: 27915
٢٧٩١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن طلحة عن (الهزيل) (١) بن شرحبيل أن سعدا استأذن على النبي ﷺ فأدخل رأسه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "إنما جعل الاستئذان من أجل النظر" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ھذیل بن شرحبیل فرماتے ہیں کہ حضرت سعد نے اپنا سر داخل کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت مانگی ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک اجازت طلب کرنا تو نظر کی وجہ سے مقرر کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 27916
٢٧٩١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن عوف عن الحسن قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من سبقه بصره إلى البيوت (قبل أن يستأذن) (١) فقد دَمَر"، (قال: عوف) (٢) -يعني دخل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے پہلے ہی گھر میں جھانک کر دیکھ لیا تو گویا کہ وہ داخل ہوگیا۔
حدیث نمبر: 27917
٢٧٩١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن الأعمش عن طلحة عن (هزيل) (١) قال: جاء رجل فوقف على باب النبي ﷺ يستأذن فقام على الباب فقال (له) (٢) النبي ﷺ: (هكذا عنك (هكذا) (٣) فإنما الاستئذان من النظر" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ھزیل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر کھڑے ہو کر اجازت طلب کرنے لگا۔ وہ بالکل دروازے پر کھڑا ہوا تھا اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہاں سے یہاں آ جاؤ۔ اس لیے کہ اجازت تو آنکھ کی وجہ سے مانگی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 27918
٢٧٩١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا خالد بن مخلد عن (سليمان) (١) بن بلال عن (سهيل) (٢) عن أبيه عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لو أن أحدا اطلع على ناس بغير إذنهم حل لهم أن يفقأوا عينه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر کوئی شخص بغیر اجازت کے کچھ لوگوں پر جھانکے تو ان کے لیے حلال ہے کہ وہ اس کی آنکھ پھوڑ دیں۔
حدیث نمبر: 27919
٢٧٩١٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا (حميد) (١) عن أنس بن مالك أن رسول اللَّه ﷺ كان في بيته، فاطلع رجل من خلل الباب، (فسدد) (٢) النبي ﷺ (نحوه) (٣) بمشقص، فتأخر الرجل (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں تھے کہ کسی آدمی نے دروازے کے شگاف سے جھانکا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر نیزے کا پھل پھینک دیا تو وہ آدمی پیچھے ہٹ گیا۔
حدیث نمبر: 27920
٢٧٩٢٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن مسلم بن (نذير) (١) قال: استأذن رجل على حذيفة فأدخل رأسه، فقال له حذيفة: قد أدخلت رأسك فأدخل استك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسلم بن نذیر فرماتے ہیں کہ کسی آدمی نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اپنا سر داخل کر کے اجازت مانگی ۔ اس پر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تو نے اپنا سر داخل کر ہی لیا ہے تو اپنی سرین بھی داخل کرلے ! !