حدیث نمبر: 27905
٢٧٩٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معاذ بن معاذ عن ابن عون قال: حدثني مسلم البطين عن إبراهيم التيمي (عن أبيه) (١) عن عمرو بن ميمون قال: ما أخطأني ابن مسعود (خميسًا) (٢) إلا أتيته (٣)، قال: فما سمعته يقول لشيء قط (٤) قال رسول اللَّه ﷺ، فلما كان ذات عشية، قال: قال رسول اللَّه ﷺ، قال: فنكس، قال: فنظرت إليه وهو قائم (منحلة) (٥) أزرار قميصه قد اغرورقت عيناه وانتفخت ⦗٣٩١⦘ أوداجه، قال: أو دون ذلك أو فوق ذلك أو قريبًا من ذلك أو شبيهًا بذلك (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون فرماتے ہیں کہ میں ہر جمعرات کو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا کرتا تھا۔ میں نے کبھی بھی آپ کو کسی معاملہ میں یوں فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :“ پس ایک شام کو آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے۔ اس پر آپ کی حالت بدل گئی میں نے دیکھا کہ آپ کھڑے ہوگئے اس حال میں کہ آپ کی قمیص کے بٹن کھلے ہوئے ہیں۔ اور آپ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اور آپ کی رگیں پھول گئیں۔ آپ نے فرمایا : کہ یا تو اس سے کم فرمایا یا اس سے زیادہ یا اس کے قریب یا اس جیسا ارشاد فرمایا۔
حدیث نمبر: 27906
٢٧٩٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معاذ بن معاذ عن ابن عون عن ابن سيرين قال: كان أنس بن مالك إذا حدث عن رسول اللَّه ﷺ حديثًا ففرغ منه قال: (أو) (١) كما قال رسول اللَّه ﷺ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کرکے فارغ ہوتے تو فرماتے کہ ” یا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ “
حدیث نمبر: 27907
٢٧٩٠٧ - حدثنا حفص عن عاصم عن الشعبي قال: حدث بحديث فقيل له: أترفع هذا؟ (فقال) (١): دونه أحب إلينا، إن كان خطأ في ذلك أو زيادة أو نقصان كان أحب إلينا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ امام شعبی نے ایک حدیث بیان فرمائی ۔ آپ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ یہ حدیث مرفوعاً بیان فرما رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اس سے کم بیان کرنا ہمارے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ۔ اس لیے کہ اگر اس میں کوئی غلطی ہو یا کچھ زیادتی یاکمی ہو تو یہ ہمارے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے۔
حدیث نمبر: 27908
٢٧٩٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن بن أبي ليلى قال: قلنا لزيد بن أرقم حدثنا (١)، قال (٢): كبرنا ونسينا والحديث (على) (٣) ⦗٣٩٢⦘ رسول اللَّه ﷺ شديد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابو لیلیٰ فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے درخواست کی کہ آپ ہمیں حدیث بیان کیجئے۔ آپ نے فرمایا : کہ ہم بوڑھے ہوگئے اور ہم بھول گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان کرنا تو بہت سخت معاملہ ہے۔
حدیث نمبر: 27909
٢٧٩٠٩ - حدثنا يحيى بن آدم عن حماد بن زيد عن يحيى بن سعيد عن السائب ابن يزيد قال: خرجت مع سعد بن مالك من المدينة إلى مكة، (فما) (١) سمعته يحدث حديثا حتى رجعنا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سائب بن یزید فرماتے ہیں کہ میں حضرت سعد بن مالک کے ساتھ مدینہ منورہ سے مکہ کی طرف نکلا ، پس میں نے انہیں کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا یہاں تک کہ ہم واپس لوٹ آئے۔
حدیث نمبر: 27910
٢٧٩١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شبابة قال: حدثنا شعبة قال: حدثنا توبة (١) العنبري قال: قال لي الشعبي: (أرأيت) (٢) الحسن حين يقول: قال رسول اللَّه ﷺ: لقد جلست إلى ابن عمر فما سمعته يحدث عن النبي ﷺ إلا حديثا أن النبي ﷺ أتي بضب فقال (النبي ﷺ) (٣): "إنه ليس من طعامي، وأما أنتم فكلوه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت توبہ عنبری فرماتے ہیں کہ امام شعبی نے مجھ سے فرمایا کہ تمہاری حسن بصری کے بارے میں کیا رائے ہے جب وہ فرماتے ہیں کہ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ! “ حالانکہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی مجلس میں بیٹھا ہوں میں نے انہیں کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا ، سوائے ایک حدیث کے جو آپ نے بیان فرمائی کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گوہ لائی گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک یہ میرا کھانا نہیں ہے، رہے تم تو تم اسے کھالو۔
حدیث نمبر: 27911
٢٧٩١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شعبة قال: حدثنا عبد اللَّه بن أبي السفر عن الشعبي قال: جلست إلى ابن عمر سنة فما سمعته يحدث عن النبي ﵇ بشيء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ابو السفر فرماتے ہیں کہ امام شعبی نے ارشاد فرمایا کہ میں ایک سال تک حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی مجلس میں بیٹھا ، میں نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا۔
حدیث نمبر: 27912
٢٧٩١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن شعبة عن سعد بن إبراهيم عن أبيه قال: قال (١) عمر لابن مسعود ولأبي الدرداء ولأبي مسعود عقبة بن عمرو: أحسب ما هذا الحديث عن رسول اللَّه ﷺ قال: وأحسبه حبسهم بالمدينة حتى أصيب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب حضرت ابن مسعود ، حضرت ابو الدرداء اور حضرت ابو مسعو ، عقبہ بن عمرو سے احادیث کے بارے میں سوال کیا کرتے تھے۔ آپ نے اپنی شہادت تک ان حضرات کو مدینے میں ہی رکھا تھا۔