کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: لوگوں سے مل جُل کر رہنے اور خوش اخلاقی کا برتائو کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 27902
٢٧٩٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن حبيب بن أبي ثابت عن ميمون بن أبي شبيب قال: قال صعصعة لابن أخيه: إني كنت أحب إليّ أبيك منك، (فأنت) (١) أحب إليّ من (ابني) (٢)، إذا لقيت المؤمن فخالطه، وإذا لقيت الفاجر فخالفه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون بن ابو شبیب فرماتے ہیں کہ حضرت صعصعہ نے اپنے بھتیجے سے فرمایا : بیشک میں تیرے باپ کے نزدیک تجھ سے زیادہ پسندیدہ ہوں۔ اور تو میرے نزدیک میرے بےٹ سے زیادہ پسندیدہ ہے ۔ جب تو کسی مومن سے ملے تو اس کے ساتھ مل جل کر رہ اور جب تو کسی بدکار سے ملے تو اس کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آ۔
حدیث نمبر: 27903
٢٧٩٠٣ - حدثنا محمد بن عبيد عن الأعمش عن يحيى بن وثاب عن رجل من أصحاب النبي ﷺ قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "المؤمن الذي يخالط الناس، ويصبر على أذاهم، أفضل من (المؤمن) (١) الذي (لا) (٢) يخالط الناس ولا يصبر على أذاهم" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن وثاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی صحابی سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ مومن جو لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے اور ان کی تکلیفوں پر صبر کرتا ہے یہ افضل ہے اس شخص سے جو نہ لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے اور نہ ان کی تکلیفوں پر صبر کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 27904
٢٧٩٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن حبيب بن أبي ثابت (عن عبد اللَّه بن باباه) (١) قال: قال عبد اللَّه بن مسعود: خالطوا الناس وزايلوهم وصافحوهم، ودينكم (لا) (٢) (تكلمونه) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن باہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کے ساتھ ملو اور ان سے جدا ہوجاؤ۔ اور ان سے مصافحہ کرو اور تمہارا دین تم اس کے متعلق ان سے بات چیت نہ کرو۔