کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: قصہ گو لوگوں کے پاس آنا اور ان کی مجلس اختیار کرنے کا بیان، اور جو شخص ایسا کرتا ہو اس کا بیان
حدیث نمبر: 27861
٢٧٨٦١ - حدثنا عبد اللَّه بن بكر السهمي قال: حدثنا حاتم بن أبي صغيرة عن النعمان بن سالم أن عمرو بن أوس أخبره أن أباه أوسًا (١) قال: إنا لقعود عند رسول اللَّه ﷺ وهو يقص علينا ويذكرنا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن اوس فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت اوس نے ارشاد فرمایا : کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں قصہ بیان فرما رہے تھے اور ہمیں وعظ و نصیحت فرما رہے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27861
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٦١٦٣)، وابن ماجه (٣٩٢٩)، والنسائي (٧/ ٨١)، والطيالسي (١١١٠)، والدارمي (٢/ ٢١٨)، وأبو يعلى (٦٨٦٢)، وعبد الرزاق (١٨٦٩٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27861، ترقيم محمد عوامة 26704)
حدیث نمبر: 27862
٢٧٨٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن مالك بن مغول قال: قال أبو عبد الرحمن السلمي: لا تجالسوا من القصاص إلا أبا الأحوص.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن مغول فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عبد الرحمن سلمی نے ارشاد فرمایا : کہ تم لوگ حضرت ابو الاحوص کے سوا کسی بھی قصہ گو کی مجلس اختیار مت کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27862
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27862، ترقيم محمد عوامة 26705)
حدیث نمبر: 27863
٢٧٨٦٣ - حدثنا وكيع عن إسماعيل قال: ذكروا عند الشعبي الجلوس مع ⦗٣٧٩⦘ القصاص كعدل (عتق رقبة) (١) فقال: لأن أعتق رقبة أحب إلي من أن أجلس مع القصاص أربعة أشهر.
مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل فرماتے ہیں کہ چند لوگوں نے امام شعبی سے یہ بات ذکر کی کہ قصہ گو کے پاس بیٹھنا غلام آزاد کرنے کے برابر ہے ! اس پر آپ نے ارشاد فرمایا : میں ایک غلام آزاد کروں یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے اس سے کہ میں چار مہینہ تک قصہ گو کے ساتھ ہم مجلس ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27863
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27863، ترقيم محمد عوامة 26706)
حدیث نمبر: 27864
٢٧٨٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة قال: كان إبراهيم التيمي يذكر في منزل أبي وائل، فجعل أبو وائل ينتفض (كما) (١) (ينتفض) (٢) الطير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم حضرت ابو وائل کے گھر وعظ و نصیحت فرمایا کرتے تھے۔ اور حضرت ابو وائل ایسے کانپتے تھے جیسا کہ پرندے کانپتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27864
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27864، ترقيم محمد عوامة 26707)
حدیث نمبر: 27865
٢٧٨٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير (عن مغيرة) (١) قال: كان الحسن يقص، وكان سعيد بن جبير يقص.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حسن بصری قصہ سناتے تھے اور حضرت سعید بن جبیر قصہ سناتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27865
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27865، ترقيم محمد عوامة 26708)
حدیث نمبر: 27866
٢٧٨٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن داود بن (شابور) (١) عن مجاهد قال: كنا نفخر على الناس بأربعة: بفقيهنا (وبقاصنا) (٢) وبمؤذننا (وقارئنا) (٣) فقيهنا ابن عباس، ومؤذننا أبو محذورة، (وقاصنا) (٤) عبيد بن عمير، وقارئنا عبد اللَّه ابن السائب (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت داؤد بن شابور فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے ارشاد فرمایا : کہ ہم لوگوں پر چار اشخاص کے ذریعہ فخر کرتے تھے۔ فقیہ کے ذریعہ، قصہ گو کے ذریعہ، مؤذن کے ذریعہ اور قرآن پڑھنے والے کے ذریعہ، اور ہمارے فقیہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تھے۔ اور ہمارے مؤذن حضرت ابو محذورہ تھے اور ہمارے قصہ گو حضرت عبید بن عمیر تھے اور ہمارے قرآن پڑھنے والے حضرت عبد اللہ بن سائب تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27866
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27866، ترقيم محمد عوامة 26709)
حدیث نمبر: 27867
٢٧٨٦٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مجاهد عن يزيد بن (شجرة) (١) أنه كان يقص، وكان يوافق قوله فعله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت یزید بن شجرہ وعظ و نصیحت فرماتے تھے اور آپ کا قول آپ کے فعل کے موافق ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27867
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27867، ترقيم محمد عوامة 26710)
حدیث نمبر: 27868
٢٧٨٦٨ - حدثنا غندر (قال: حدثنا) (١) شعبة عن عبد الملك بن ميسرة عن كردوس قال: كان يقص، (قال) (٢): حدثني رجل من أصحاب النبي ﷺ عن النبي ﷺ قال: "لأن أجلس في (مثل) (٣) هذا المجلس أحب الي من أن أعتق أربع رقاب"، -يعني- القصص (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک بن میسرہ فرماتے ہیں کہ حضرت کردوس قصہ گوئی کے ذریعہ وعظ و نصیحت کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی صحابی نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کہ میں قصہ گو کی مجلس میں بیٹھوں یہ مجھے زیادہ پسندیدہ ہے اس سے کہ مں ے چار غلام آزاد کروں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27868
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27868، ترقيم محمد عوامة 26711)
حدیث نمبر: 27869
٢٧٨٦٩ - حدثنا أبو معاوية عن (حجاج) (١) عن عطاء عن ابن عباس قال: رأيت (تميمًا) (٢) الداري يقص في عهد عمر بن الخطاب ﵄ (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت تمیم داری کو دیکھا کہ وہ حضرت عمر بن خطاب کے زمانے میں قصہ گوئی کے ذریعہ وعظ و نصیحت فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27869
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27869، ترقيم محمد عوامة 26712)
حدیث نمبر: 27870
٢٧٨٧٠ - حدثنا محمد بن عبيد قال: حدثنا عبد اللَّه بن حبيب بن أبي ثابت قال: رأيت محمد بن كعب القرظي يقص.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن حبیب بن ابی ثابت فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت محمد بن کعب قرضی کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے دیکھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27870
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27870، ترقيم محمد عوامة 26713)