حدیث نمبر: 27850
٢٧٨٥٠ - حدثنا حفص عن ليث عن طاوس قال: كان يكره القمار، ويقول: إنه من الميسر، حتى لعب الصبيان بالجوز والكعاب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت طاؤس سٹے کو مکروہ سمجھتے تھے اور فرماتے ہیں کہ یہ بھی جوا ہے۔ یہاں تک کہ آپ بچوں کے اخروٹ اور چوسر کے مہروں سے کھیلنے کو بھی مکروہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 27851
٢٧٨٥١ - حدثنا وكيع قال: حدثنا حماد بن نجيح قال: رأيت ابن سيرين مر على غلمان يوم العيد (بالمربد) (١) وهم يتقامرون بالجوز، فقال: (يا غلمان) (٢) لا تقامروا، فإن القمار من الميسر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد بن نجیح فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن سیرین کو دیکھا کہ وہ عید کے دن دو لڑکوں کے پاس سے گزرے تھے جو اونٹوں کے باڑے کے پاس اخروٹ میں سٹہ بازی لگا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا : اے بچو ! سٹہ مت لگاؤ۔ اس لیے کہ سٹہ بازی بھی جوا ہے۔
حدیث نمبر: 27852
٢٧٨٥٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عاصم عن ابن سيرين قال: كل شيء فيه خطر فهو من الميسر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ حضرت محمد بن سیرین نے ارشاد فرمایا : ہر وہ بازی جس میں خطرہ ہو وہ جوا ہے۔
حدیث نمبر: 27853
٢٧٨٥٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ليث عن عطاء ومجاهد وطاوس أو اثنين منهم قالا: كل شيء من القمار فهو من الميسر، حتى لعب الصبيان بالجوز.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء اور حضرت مجاہد اور حضرت طاؤس یا ان میں سے دو حضرات نے فرمایا : کہ سٹہ بازی کی ہر قسم جوا ہے یہاں تک کہ بچوں کا اخروٹ کے ساتھ کھیلنا بھی جوا ہے۔