کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: آدمی کے لیے مکروہ ہے کہ وہ خود کو کسی کی طرف منسوب کرے حالانکہ ایسی بات نہ ہو
حدیث نمبر: 27785
٢٧٧٨٥ - حدثنا أبو معاوية عن عاصم عن أبي عثمان عن سعد وأبي بكرة كلاهما (قال: سمعته) (١) أذناي ووعاه قلبي محمدا ﷺ يقول: "من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد اور حضرت ابو بکرہ یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ ہمارے کانوں نے سنا اور ہمارے دل نے اس بات کو محفوظ کیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص کسی کو غیر باپ کی طر ف منسوب کرے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے تو جنت اس شخص پر حرام ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27785
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٣٢٦)، ومسلم (٦٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27785، ترقيم محمد عوامة 26628)
حدیث نمبر: 27786
٢٧٧٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم عن مجاهد عن (عبد اللَّه) (١) بن عمرو رفعه قال: من ادعى إلى غير أبيه فلن يريح ريح الجنة، فلما رأى ذلك نعيم بن أبي أمية، وكان معاوية أراد أن يدعيه قال لمعاوية: إنما أنا سهم من كنانتك (فاقذفني) (٢) حيث شئت (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مرفوعاً حدیث بیان فرمائی کہ جو شخص کسی کو غیر باپ کی طرف منسوب کرے ، وہ ہرگز جنت کی خوشبو نہیں سونگھ سکے گا۔ جب نعیم بن ابی امیہ نے یہ معاملہ دیکھا اس حال میں کہ حضرت معاویہ کا ارادہ تھا کہ وہ اس کو غیر باپ کی طرف منسوب کریں تو اس نے حضرت معاویہ سے فرمایا : بیشک میں تو آپ کے ترکش کا ایک تیر ہوں آپ جہاں چاہیں مجھے پھینک دیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27786
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٦٥٩٢)، وابن ماجه (٢٦١١) والطيالسي (٢٢٧٤)، والخطيب في التاريخ (٢/ ٣٤٧)، وعبد الرزاق (١٦٣١٧)، وابن خزيمة في التوحيد (ص ٣٥٧)، وأبو نعيم في صفة الجنة (١٩٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27786، ترقيم محمد عوامة 26629)
حدیث نمبر: 27787
٢٧٧٨٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من تولى غير مواليه فعليه لعنة اللَّه والملائكة والناس أجمعين" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کہ جو شخص اپنے آقا کے علاوہ کسی سے تعلق رکھے تو اس پر اللہ کی، ملائکہ کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27787
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه مسلم (١٥٠٨)، وأحمد (٩٨٠٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27787، ترقيم محمد عوامة 26630)
حدیث نمبر: 27788
٢٧٧٨٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) سعيد بن أبي عروبة عن (قتادة عن شهر بن حوشب عن عبد الرحمن بن غنم عن) (٢) عمرو بن خارجة أن النبي ﷺ خطبهم وهو على راحلته وإن راحلته لَتَقْصعَ (بجِرَّتها) (٣) وإن لعابها (ليسيل) (٤) بين كتفي فقال: "من ادعى إلى غير أبيه أو تولى غير مواليه فعليه لعنة ⦗٣٦٠⦘ اللَّه، لا يقبل (٥) منه صرف ولا عدل"، -أو قال: "عدل ولا صرف" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن خارجہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے خطاب فرمایا اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر تھے اور سواری کا جانور جگالی کر رہا تھا اور اس کی رال اس کے کندھوں کے درمیان بہہ رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو کسی کو غیر باپ کی طرف منسوب کرلے، یا جو شخص اپنے آقا کے علاوہ کسی سے تعلق جوڑے تو اس پر اللہ کی لعنت ہے۔ اور اس کی کوئی فرض عبادت اور نفلی عبادت قبول نہیں کی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27788
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27788، ترقيم محمد عوامة 26631)
حدیث نمبر: 27789
٢٧٧٨٩ - حدثنا شبابة قال: حدثنا ابن أبي ذئب عن الحارث عن أبي سلمة عن سعيد بن زيد قال: أشهد أن رسول اللَّه ﷺ (سمعته) (١) يقول: "من تولى مولى بغير اذنه فعليه لعنة اللَّه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن زید فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گواہ بنتا ہوں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اپنے آقا کی اجازت کے بغیر کیل کو آقا بنائے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27789
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ الحارث صدوق، أخرجه أحمد (١٦٤٠)، وأبو يعلى (٩٥٥)، والبزار (١٢٥٨)، والحاكم (٤/ ٢٩٥)، والطيالسي (٢٤٠)، والضياء في المختارة (١١١٣)، وابن جرير في مسند علي من تهذيب الآثار (٣٢١)، والطحاوي في شرح المشكل (٧/ ٢٧١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27789، ترقيم محمد عوامة 26632)
حدیث نمبر: 27790
٢٧٧٩٠ - حدثنا ابن نمير عن الأعمش عن عبد اللَّه (بن) (١) (مرة) (٢) عن أبي معمر قال: قال أبو بكر: كفر باللَّه من ادعى نسبًا لا يعلم، وتبرأ من نسب وإن دق (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو معمر فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے ارشاد فرمایا : اپنے نسب کو چھوڑ کر کسی دوسرے خاندان کی طرف منسوب ہونے والے نے کفر کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27790
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (١٦٣١٥)، والدارمي (٢٨٦٤)، والخطيب في تاريخ بغداد (٣/ ١٤٤)، والخرائطي في مساوئ الأخلاق (٨٥)، وورد مرفوعًا عند الطبراني في الأوسط (٢٨٣٩)، والمروزي في مسند أبي بكر (٩٠)، والبزار (٧٠)، وابن عدي (٥/ ١٧١٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27790، ترقيم محمد عوامة 26633)
حدیث نمبر: 27791
٢٧٧٩١ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن شرحبيل بن مسلم قال: سمعت أبا أمامة الباهلي يقول: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "من ادعى إلى غير أبيه (أو) (١) انتمى إلى غير مواليه، فعليه لعنة اللَّه (التابعة) (٢) إلى يوم القيامة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ باھلی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ جو کسی کو غیر باپ کی طر ف منسوب کرائے اور جو خود کو اپنے آقا کے علاوہ کسی سے منسوب کرے تو اس پر قیامت کے دن تک مسلسل اللہ کی لعنت ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27791
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ إسماعيل بن عياش صدوق في الشاميين، أخرجه أحمد (٢٢٢٩٤)، والترمذي (٢١٢٠)، والدارقطني (٣/ ٤٠)، وعبد الرزاق (١٦٣٠٨)، والطبراني (٧٦١٥)، وابن جرير في مسند علي من تهذيب الآثار (٣٢٥)، والدولابي (١/ ٣٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27791، ترقيم محمد عوامة 26634)
حدیث نمبر: 27792
٢٧٧٩٢ - حدثنا عفان قال: حدثنا وهيب عن عبد اللَّه بن عثمان عن سعيد بن جبير عن ابن عباس عن النبي ﷺ قال: "من ادعى إلى غير أبيه (أو تولى غير مواليه) (١) فعليه لعنة اللَّه والملائكة والناس أجمعين" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو کسی غیر باپ کی طر ف اپنی نسبت کرے یا جو اپنے آقا کے علاوہ کسی سے تعلق جوڑے تو اس پر اللہ کی اور ملائکہ کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27792
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد اللَّه بن عثمان صدوق، أخرجه أحمد (٣٠٣٧)، وابن حبان (٤١٧)، وأبو يعلى (٢٥٤٠)، والطبراني (١٢٤٧٥)، والحاكم (٤/ ٣٥٦)، والدارمي (٢٨٦٤)، وابن عدي (٤/ ١٣٥٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27792، ترقيم محمد عوامة 26635)