کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کسی کا اپنے بھائی کے لیے ان الفاظ کا استعمال کرنا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 27781
٢٧٧٨١ - حدثنا ابن فضيل عن العلاء بن المسيب عن أبيه قال: لا تقل لصاحبك يا حمار يا كلب يا خنزير فيقول لك يوم القيامة: أتراني خلقت كلبًا أو حمارًا أو خنزيرًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علاء بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت مسیب نے ارشاد فرمایا : کہ تم اپنے ساتھی کو یوں مت کہو ۔ اے گدھے، اے کتے، اے خنزیر، پس وہ قیامت کے دن تمہیں یوں کہے گا۔ تمہارا میرے بارے میں کیا خیال ہے کیا مجھے کتا یا گدھا یا خنزیر پیدا کیا گیا تھا ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27781
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27781، ترقيم محمد عوامة 26624)
حدیث نمبر: 27782
٢٧٧٨٢ - حدثنا جرير عن ليث عن مجاهد قال: استسقى موسى لقومه فقال: اشربوا يا حمير قال: فقال اللَّه له: لا تسم عبادي حميرًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لیے پانی مانگا پھر ان سے کہا : اے گدھو ! پیو اس پر اللہ رب العزت نے ان سے فرمایا : میرے بندوں کو گدھے کے نام سے مت پکارو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27782
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27782، ترقيم محمد عوامة 26625)
حدیث نمبر: 27783
٢٧٧٨٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم قال: كانوا يقولون: إذا قال الرجل للرجل: يا حمار، يا كلب، يا خنزير، قال اللَّه له يوم القيامة: أتراني (خلقت) (١) كلبًا أو حمارًا أو خنزيرًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : کہ جب کوئی شخص کسی کو یوں کہتا : اے گدھے، اے کتے، اے خنزیر، تو صحابہ اس شخص کو کہا کرتے تھے۔ کہ اللہ قیامت کے دن تمہیں یوں فرمائیں گے : کہ تمہارا میرے بارے میں کیا خیال ہے کہ میں نے اس کو کتا یا گدھا یا خنزیر پیدا کیا تھا ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27783
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27783، ترقيم محمد عوامة 26626)
حدیث نمبر: 27784
٢٧٧٨٤ - حدثنا علي بن مسهر عن داود بن أبي هند عن بكر بن (عبد اللَّه) (١) المزني عن علقمة بن عبد اللَّه أن ابن عمر قال لرجل كلم صاحبه يوم الجمعة والإمام يخطب: أما أنت فحمار وأما صاحبك فلا جمعة له (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دن جمعہ کے خطبہ کے دوران ایک شخص دوسرے سے باتیں کر رہا تھا۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا کہ تم گدھے ہو اور تمہارے اس ساتھی کا جمعہ نہیں ہوا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27784
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27784، ترقيم محمد عوامة 26627)