کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: (نبی ﷺ کا شعر اور دیگر امور کو سننا)
حدیث نمبر: 27730
٢٧٧٣٠ - حدثنا (حسين بن علي) (١) عن ابن (أبجر) (٢) قال: (مر) (٣) ⦗٣٤٠⦘ (عامر) (٤) (برجلين) (٥) عند مجمع طريقين وهما (يغتابانه) (٦) ويقعان فيه فقال: هنيئا مريئا غير داء مخامر … لعزة من أعراضنا ما استحلت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابجبر فرماتے ہیں کہ حضرت عامر کا گزر دو آدمیوں کے قریب سے ہوا جو دو راستوں کے چلنے کی جگہ کے پاس تھے۔ اور وہ دونوں آپ کی غیبت کر رہے تھے اور آپ میں عیب نکال رہے تھے۔ اس پر آپ نے یہ شعر پڑھا :: بالکل ٹھیک ہیں، خوشحال ہیں اور کسی بیماری کا شکار بھی نہیں، پھر بھی وہ ہماری عزتوں کو اچھالتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27730
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27730، ترقيم محمد عوامة 26573)
حدیث نمبر: 27731
٢٧٧٣١ - حدثنا يحيى بن (واضح) (١) عن محمد بن إسحاق عن يزيد بن عبد اللَّه ابن (قسيط) (٢) عن أبي الحسن (البراد) (٣) قال: لما نزلت هذه الآية: ﴿وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ﴾ [الشعراء: ٢٢٤]، جاء عبد اللَّه بن رواحة وكعب بن مالك وحسان بن ثابت إلى رسول اللَّه ﷺ وهم يبكون فقالوا: يا رسول اللَّه أنزل (اللَّه) (٤) هذه الآية وهو يعلم أنا شعراء فقال: "أقرأوا ما بعدها": ﴿إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ [الشعراء: ٢٢٧]، أنتم ﴿وَانْتَصَرُوا﴾ أنتم" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن عبد اللہ بن قسیط فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الحسن برّاد نے ارشاد فرمایا : جب یہ آیت نازل ہوئی ۔ ” اور رہے شعراء تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں۔ “ تو حضرت عبد اللہ بن رواحہ ، حضرت کعب بن مالک اور حضرت حسان بن ثابت ، یہ تینوں حضرات روتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! اللہ رب العزت نے یہ آیت اتاری اس حال میں کہ وہ جانتے ہیں کہ ہم لوگ شاعر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم اس کے بعد والی آیت بھی پڑھو : مگر وہ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے۔ تم لوگ ہو۔ ترجمہ : وہ لوگ کامیاب ہوئے۔ یہ بھی تم لوگ ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27731
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو الحسن تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27731، ترقيم محمد عوامة 26574)
حدیث نمبر: 27732
٢٧٧٣٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سلمة عن عكرمة ﴿وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ﴾ [الشعراء: ٢٢٤]: قال: عصاة الجن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عکرمہ نے قرآن مجید کی آیت { وَالشُّعَرَائُ یَتَّبِعُہُمَ الْغَاوُونَ } کے متعلق یوں ارشاد فرمایا کہ اس سے نافرمان جن مراد ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27732
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27732، ترقيم محمد عوامة 26575)
حدیث نمبر: 27733
٢٧٧٣٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا حماد بن سلمة عن أبي جعفر الخطمي أن رسول اللَّه ﷺ كان يبني المسجد وعبد اللَّه بن رواحة يقول: أفلح من يعالج المساجدا. ورسول اللَّه ﷺ يقول: قد أفلح من (يعالج) (١) المساجدا (و) (٢) (يتلو) (٣) القرآن قائمًا وقاعدًا ورسول اللَّه ﷺ يقول: "و (يتلو) (٤) القرآن قائمًا وقاعدا" وهم يبنون المسجد (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفرخطمی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد کی تعمیر کرانے میں مصروف تھے اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ یہ شعر پڑھ رہے تھے : : کامیاب ہوگیا جس نے مسجد بنانے کی محنت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تحقیق فلاح پا گیا جس نے مسجد بنانے کی کوشش کی۔ انہوں نے یہ مصرعہ پڑھا۔ : وہ قرآن پڑھتا ہے کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ قرآن کی تلاوت کرتا ہے کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر ۔ اس موقع پر صحابہ مسجد کی تعمیر کر رہے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27733
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27733، ترقيم محمد عوامة 26576)
حدیث نمبر: 27734
٢٧٧٣٤ - حدثنا أبو أسامة (قال: حدثنا) (١) مجالد عن عامر أن حارثة بن بدر (التميمي) (٢) من أهل البصرة قال: ألا أبلغن همدان (إما) (٣) لقيتها … سلام فلا يسلم عدو (يعيبها) (٤) ⦗٣٤٢⦘ (لعمري يمينًا) (٥) إن همدان تتقي … الإله ويقضي بالكتاب خطيبها. (٦) (تشيب) (٧) رأسي واستخف … رعود المنايا (حولنا) (٨) وبروقها وإنا (لتستحلي) (٩) (المنايا) (١٠) نفوسنا … ونترك (أخرى مرة) (١١) ما نذوقها قال عامر: فحدث بهذا الحديث عبد اللَّه (بن) (١٢) جعفر (قال) (١٣): كنا نحن أحق بهذه الأبيات من (هَمْدان) (١٤) (١٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت حارثہ بن بدر تمیمی جو کہ بصری ہیں انہوں نے یہ شعر پڑھا : : جب تم ہمدان سے ملاقات کرو تو انہیں ہماری طرف سے سلام دینا اور پیغام دینا کہ ہمدان کو عیب دار کرنے والا دشمن سالم نہیں رہ سکتا۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہمدان والے اللہ سے ڈرتے ہیں اور ان کا خطیب کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کرتا ہے۔ اور یہ شعر پڑھا :: میرے سر کے بال سفید ہوگئے اور ہماری عقلوں کو موت کی کڑک اور چمک نے ہلکا کردیا۔ ہمارے دل موت کو میٹھا سمجھتے ہیں اور زندگی کو کڑوا۔ حضرت عامر فرماتے ہیں : یہ بات حضرت عبد اللہ بن جعفر کو بیان کی گئی تو آپ نے فرمایا : ہم لوگ ہمدان سے زیادہ ان اشعار کے حقدار تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27734
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف مجالد.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27734، ترقيم محمد عوامة 26577)
حدیث نمبر: 27735
٢٧٧٣٥ - حدثنا يزيد قال: أخبرنا عبد الملك (بن) (١) قدامة الجمحي قال: حدثني (عمر) (٢) بن شعيب أخو عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: لما رفع الناس أيديهم من صفين قال: عمرو بن العاص: ⦗٣٤٣⦘ (شبت) (٣) الحرب فأعددت لها … مفرع الحارك (مرويّ الثبج) (٤) يصل الشد بشد فإذا … وثب الخيل من (الشد) (٥) (معج) (٦) (جرشع) (٧) أعظمه (جفرته) (٨) … فإذا ابتل من الماء (حدج) (٩) قال: وقال عبد اللَّه بن عمرو: لو شهدتْ (جُمل) (١٠) مقامي ومشهدي … بصفين يوما شاب منها الذوائب غداة أتى أهل العراق كأنهم … سحاب ربيع (رفّعته) (١١) الجنائب (وجئناهم) (١٢) (يُزِدّى) (١٣) كأن صفوفنا … من البحر مد موجُه متراكب ⦗٣٤٤⦘ ودارت (رحانا) (١٤) (واستدارت) (١٥) رحاهم … (سراة) (١٦) (النهار) (١٧) ما (تولى) (١٨) المناكب إذا قلت قد ولوا سراعًا بدت لنا … كتائب مهم (فارجحنت) (١٩) كتائب فقالوا: لنا إنا نرى أن تبايعوا … عليا فقلنا بل نرى أن (نضارب) (٢٠) (٢١)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب لوگوں نے صفین جنگ سے اپنے ہاتھ کھڑے کرلیے تو حضرت عمرو بن العاص نے یہ اشعار کہے :: جب جنگ نے زور پکڑا تو میں نے اس کے لیے اپنے کندھوں اور سینے کو تیار کرلیا۔ جب تیز چلنے کی وجہ سے گھوڑے سست پڑجائیں گے تو سختی کا مقابلہ سختی سے ہوگا۔ میرا گھوڑا چوڑے سینے والا اور بڑے پیٹ والا ہے۔ اس کا قد درمیانہ ہے اور جب وہ کسی دیکھتا ہے یا آواز سنتا ہے تو اپنے کان کھڑے کرلیتا ہے۔ اور حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار پڑھے :: اگر جمل نامی عورت صفیں میں میری بہادری کو دیکھ لیتا تو اس کے بال سفید ہوجاتے ۔ جب عراق والے اس طرح حملہ آور ہوئے جیسے گھٹا چھاتی ہے۔ ہم اپنے دشمنوں کو نیست ونابود کرنے کے لیے اس طرح آئے ہیں کہ ہمارے لشکر سمندر کی موجوں کی طرح ہیں۔ دن کے روشن ہونے پر ہمارے اور ان کے درمیان جب جنگ تیزہوئی تو نہ کسی نے پیٹھ پھیر نہ کوئی فرار ہوا۔ جب کوئی کہے کہ وہ تیزی سے پیٹھ پھیر گئے تو اتنی دیر میں ان کے مزید لشکر ظاہر ہوجاتے ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بعتی کرلو، ہم کہتے ہیں کہ ہم جنگ کریں گے۔ (محمد عوامہ کی تحقیق کے مطابق ان اشعار کی نسبت ان جلیل القدر صحابہ کی طرف درست نہیں۔ انہوں نے اپنے اس موقف کو بہت سے دلائل سے ثابت کیا ہے۔ دیکھیے۔ مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٣ صفحہ ٣٠٤)
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27735
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27735، ترقيم محمد عوامة 26578)
حدیث نمبر: 27736
٢٧٧٣٦ - حدثنا ابن إدريس عن حمزة (أبي) (١) (عمارة) (٢) قال: قال عمر بن عبد العزيز لعبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن عتبة: مالك (وللشعراء) (٣) قال: وهل يستطيع المصدور إلا أن (ينفث) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمزہ ابو عمارہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ سے فرمایا : تمہیں شعر سے کیا تعلق ؟ انہوں نے کہا جو چیز سینے میں ہو اسے نکالے بغیر گزارہ نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27736
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27736، ترقيم محمد عوامة 26579)
حدیث نمبر: 27737
٢٧٧٣٧ - حدثنا ابن إدريس عن محمد بن إسحاق عن الزهري قال: (كنت) (١) إذا لقيت عبيد اللَّه بن عبد اللَّه فكأنما أفجّر به بحرًا.
مولانا محمد اویس سرور
امام زہری فرماتے ہیں کہ میں نے جب بھی حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ سے ملاقات کی گویا میں نے کسی سمندر میں انقلاب پیدا کردیا ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27737
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27737، ترقيم محمد عوامة 26580)
حدیث نمبر: 27738
٢٧٧٣٨ - حدثنا محمد بن فضيل عن الوليد (١) بن جميع عن أبي سلمة قال: لم يكن أصحاب رسول اللَّه ﷺ (متحزقين) (٢) ولا (متماوتين) (٣) وكانوا يتناشدون الشعر (في) (٤) مجالسهم ويذكرون أمر جاهليتهم، فإذا أريد أحدهم (على) (٥) شيء من (أمر) (٦) دينه دارت حماليق عينيه كأنه مجنون (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ بخل کرنے والے نہیں تھے اور نہ ہی عبادت کی ادائیگیوں میں کمزوری دکھانے والے تھے۔ وہ اپنی مجلسوں میں اشعار پڑھا کرتے تھے، اور زمانہ جاہلیت کے واقعات ذکر کرتے تھے۔ اور جب ان میں سے کسی کے دین کو نشانہ بنانے کا ارادہ کیا جاتا تو ان کے پیٹوں کا اندرونی حصہ ایسے گھومتا تھا گویا کہ وہ شخص مجنون ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27738
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ الوليد صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27738، ترقيم محمد عوامة 26581)
حدیث نمبر: 27739
٢٧٧٣٩ - حدثنا محمد بن فضيل عن ابن شبرمة قال: [سمعته يقول: كان الفرزدق أشعر الناس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن فضیل فرماتے ہیں کہ حضرت ابن شبرمہ نے ارشاد فرمایا : فرزدق سب سے بڑا شاعر تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27739
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27739، ترقيم محمد عوامة 26582)
حدیث نمبر: 27740
٢٧٧٤٠ - [حدثنا محمد بن فضيل عن (أبي) (١) سفيان السعدي قال] (٢): سمعت الحسن يتمثل هذا البيت: يسر الفتى ما كان قدم من تقى … إذا عرف الداء الذي هو قاتله
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سفیان سعدی فرماتے ہیں کہ میں نے حسن بصری کو کسی شاعر کا یہ شعر پڑھتے ہوئے سنا : : جب آدمی مہلک بیماری کی پہچان حاصل کرلے گا تو اسے اپنے تقویٰ اور پرہیز گاری پر خوشی ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27740
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27740، ترقيم محمد عوامة 26583)
حدیث نمبر: 27741
٢٧٧٤١ - حدثنا محمد بن الحسن قال: حدثنا أبو عوانة (عن إبراهيم) (١) بن مهاجر عن عامر عن عائشة قالت: كان رسول اللَّه ﷺ إذا (استراث) (٢) (الخبر) (٣) تمثل ببيت طرفة: ويأتيك بالأخبار من لم تزود (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بات پہنچنے میں تاخیر ہوجاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طرفہ بن عبد کا یہ شعر پڑھتے : اور زمانہ تمہارے پاس وہ خبریں لائے گا جو تمہیں حاصل نہیں ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27741
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ إبراهيم بن مهاجر صدوق، أخرجه أحمد (٢٤٠٢٣)، والنسائي في الكبرى (١٠٨٣٤)، وبنحوه البخاري في الأدب المفرد (٨٦٧)، والترمذي (٢٨٤٨)، والبغوي (٣٤٠٢)، وأبو نعيم في الحلية (٧/ ٢٦٤)، وابن سعد (١/ ٣٨٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27741، ترقيم محمد عوامة 26584)
حدیث نمبر: 27742
٢٧٧٤٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا (عيينة) (١) (بن) (٢) عبد الرحمن عن أبيه قال: كنت أجالس أصحاب رسول اللَّه ﷺ مع أبي في المسجد فيتناشدون الأشعار ويذكرون حديث الجاهلية (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن کے والد فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کی مجلس میں بیٹھا کرتا تھا وہ لوگ اشعار پڑھتے تھے اور زمانہ جاہلیت کی باتیں ذکر کرتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27742
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27742، ترقيم محمد عوامة 26585)
حدیث نمبر: 27743
٢٧٧٤٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا شريك عن سماك بن حرب عن جابر بن سمرة قال: كنا ناتي النبي ﷺ فيجلس أحدنا حيث ينتهي، وكانوا يتذاكرون الشعر وحديث الجاهلية عند رسول اللَّه ﷺ، فلا ينهاهم وربما (تبسم) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن سمرۃ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آتے تھے۔ اور ہم میں ہر کوئی مجلس کے آخری حصہ تک بیٹھتا تھا۔ اور صحابہ شعر پڑھتے اور زمانہ جاہلیت کے واقعات کا ذکر کرتے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو منع نہیں کرتے اور کبھی کبھار مسکرا دیتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27743
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ سماك صدوق، وكذلك شريك، أخرجه مسلم (٦٧٠)، وأحمد (٢٠٨١٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27743، ترقيم محمد عوامة 26586)
حدیث نمبر: 27744
٢٧٧٤٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا شعبة عن قتادة عن مطرف قال: صحبت عمران بن (حصين) (١) في سفر، فما كان يوم إلا ينشد فيه شعرًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف فرماتے ہیں کہ میں سفر میں حضرت عمران بن حصین کے ساتھ تھا۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرا جس میں آپ نے شعر نہ پڑھا ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27744
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27744، ترقيم محمد عوامة 26587)
حدیث نمبر: 27745
٢٧٧٤٥ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا هشام قال: سأل رجل محمدًا وهو في المسجد والرجل يريد أن يصلي: أيتوضأ من ينشد الشعر؟ (وينشد الشعر) (١) في المسجد؟ قال: (فأنشده) (٢) أبياتًا من شعر حسان ذلك (الرقيق) (٣)، ثم افتتح الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ کسی آدمی نے جو نماز پڑھنے کا ارادہ کر رہا تھا اس نے محمد سے یہ سوال کیے اس حال میں کہ آپ مسجد میں تھے کیا شعر پڑھنے والا دوبارہ وضو کرے گا ؟ اور مسجد میں شعر پڑھا جاسکتا ہے ؟ راوی کہتے ہیں کہ آپ نے حضرت حسان بن ثابت کے ان فصیح اشعار کو پڑھا پھر آپ نے نماز شروع کردی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27745
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27745، ترقيم محمد عوامة 26588)
حدیث نمبر: 27746
٢٧٧٤٦ - حدثنا يحيى بن آدم عن حماد بن (زيد عن علي) (١) بن زيد عن عبد الرحمن بن أبي بكرة عن الأسود بن سريع قال: قلت يا رسول اللَّه إني مدحت اللَّه مدحة ومدحتك أخرى قال: "هات وابدأ بمدحك اللَّه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود بن سریع فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یقینا میں نے اللہ کی مدح و تعریف میں بھی اشعار کہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سناؤ ، اور جو تم نے اللہ کی مدح بیان کی ہے اس سے ابتدا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27746
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع، لضعف علي بن زيد وعبد الرحمن لم يسمع الأسود، أخرجه أحمد (١٥٥٨٥)، والنسائي في الكبرى (٧٧٤٥)، والبخاري في الأدب (٣٤٢)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٤٦، وابن أبي عاصم في الآحاد (١١٥٨)، والطبراني (٨٤٢)، وابن جرير في مسند عمر (١٤١)، والمقدسي في أحاديث الشعر (٢٨)، وابن عدي ٥/ ٢٠٠، والحاكم ٣/ ٦١٥، وابن سعدي ٧/ ٤١، وابن قانع ١/ ١٨، والطحاوي ٤/ ٢٩٨، والقضاعي (١٠٨٢)، وابن عساكر (٤٤/ ٩٠)، والسهمي في تاريخ جرجان ص ٤١٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27746، ترقيم محمد عوامة 26589)
حدیث نمبر: 27747
٢٧٧٤٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا ديلم بن غزوان قال: حدثنا ثابت عن أنس قال: حضرت (حربًا) (١) فقال عبد اللَّه بن رواحة: ⦗٣٤٨⦘ يا نفس ألا أراك تكرهين الجنة … أحلف باللَّه لتنزلنه طائعة أو لتكرهنه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت فرماتے ہیں کہ حضرت انس نے ارشاد فرمایا : میں جنگ میں حاضر تھا کہ حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے کہا : اے نفس ! میں دیکھ رہا ہوں کہ تجھے جنت میں جانا پسند نہیں۔ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تجھے جنت میں جانا ہوگا خواہ خوش ہو کر جا یا ناخوش ہوکر۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27747
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ ديلم صدوق، أخرجه ابن ماجه (٢٧٩٣)، وابن أبي عاصم في الجهاد (٢٥٨)، وابن سعد (٣/ ٥٢٩)، وابن عساكر (٢٨/ ١٥٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27747، ترقيم محمد عوامة 26590)
حدیث نمبر: 27748
٢٧٧٤٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد بن جدعان عن القاسم (بن محمد) (١) عن عائشة (قالت) (٢): تمثلت بهذا البيت وأبو بكر يقضي: (وأبيض يستسقى الغمام بوجهه … ثمال اليتامى عصمة للأرامل) (٣). فقال: أبو بكر ذاك رسول اللَّه ﷺ (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا : اس حال میں کہ حضرت ابوبکر فیصلہ فرما رہے تھے اور میں یہ شعر پڑھ رہی تھی۔ : وہ سفید چہرے والا جس کی ذات کے وسیلہ سے بادل مانگے جاتے ہیں۔ وہ یتیموں کی پناہ گاہ اور بیواؤں کی عزت و آبرو ہیں۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا : وہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27748
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ علي بن زيد بن جدعان ضعيف، أخرجه أحمد (٢٦)، وسيأتي ١٢/ ٢٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27748، ترقيم محمد عوامة 26591)
حدیث نمبر: 27749
٢٧٧٤٩ - حدثنا معتمر (عن معمر) (١) عن الزهري (أن) (٢) النبي ﷺ لم يقل شيئا) (٣) من الشعر إلا قد قيل (قبله) (٤) إلا هذا: هذا الحمال لا حمال خيبر … هذا أبر (ربنا) (٥) وأطهر (٦).
مولانا محمد اویس سرور
امام زہری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی کوئی شعر نہیں کہا سوائے اس شعر کے : : یہ بوجھ خیبر کے بوجھ کی طرح نہیں ہے۔ یہ ہمارے رب کی طرف سے پاکیزہ اور برکت والا ہے۔ (یہ شعر آپ نے مسجد نبوی کی تعمیر کے وقت کہا تھا)
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27749
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الزهري تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27749، ترقيم محمد عوامة 26592)
حدیث نمبر: 27750
٢٧٧٥٠ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن البراء قال: رأيت النبي ﷺ يوم الخندق، وكان كثير شعر الصدر [وهو يرتجز برجز عبد اللَّه بن رواحة وهو يقول: (لاهم) (١) لولا أنت ما اهتدينا] (٢) … ولا تصدقنا ولا صلينا فأنزلن سكينة علينا … وثبت الأقدام إن لاقينا إن الأولى قد بغوا علينا … وإن أرادوا فتنة أبينا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غزوہ خندق کے دن دیکھا اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ مبارک پر بالوں کی ایک لکیر تھی، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عبد اللہ بن رواحہ کے ان اشعار کو بطور رجز پڑھ رہے تھے۔ اور فرما رہے تھے۔ اے اللہ ! اگر آپ کا فضل نہ ہوتا تو ہم ہدایت یافتہ نہ ہوتے۔ اور نہ ہم صدقہ کرنے اور نہ ہم نماز پڑھتے۔ پس تو ہم پر رحمت و سکینہ نازل فرما اور دشمن سے ملاقات ہونے کی صورت میں ہمیں ثابت قدمی عطا فرما۔ یقینا ان لوگوں نے ہم پر سرکشی کی ۔ اور اگر وہ ہمارے خلاف فتنہ پیدا کریں گے تو ہم قبول نہیں کریں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27750
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٠٣٤)، ومسلم (١٨٠٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27750، ترقيم محمد عوامة 26593)
حدیث نمبر: 27751
٢٧٧٥١ - حدثنا شريك عن أبي إسحاق عن البراء قال: ما ولى رسول اللَّه ﷺ دبره يوم حنين قال: والعباس وأبو سفيان آخذان بلجام بغلته (١) وهو يقول: أنا النبي لا كذب … أنا ابن عبد المطلب (٢)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ حنین کے دن پیٹھ پھیر کر نہیں بھاگے۔ اور حضرت عباس اور حضرت ابو سفیان نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خچر کی لگام پکڑی ہوئی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے کہ : میں نبی ہوں، اس میں کوئی جھوٹ نہیں ہے۔ میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27751
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شريك صدوق، صرح أبو إسحاق بالسماع عند الشيخين، وخالف شريك غيره في قوله: (والعباس) وأصل الحديث أخرجه البخاري (٢٩٣٠)، ومسلم (١٧٧٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27751، ترقيم محمد عوامة 26594)
حدیث نمبر: 27752
٢٧٧٥٢ - حدثنا سفيان بن عيينة عن الأسود بن قيس عن جندب بن سفيان أن النبي ﷺ كان في غار (فنكبت) (١) (إصبعه) (٢) فقال: هل أنت إلا إصبع دميت … وفي سبيل اللَّه ما لقيت (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جندب بن سفیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی غزوہ میں چوٹ لگ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو تو محض ایک انگلی ہے جس سے خود بہہ رہا ہے اور تجھے اللہ کے راستے میں چوٹ آئی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27752
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦١٤٦)، ومسلم (١٧٩٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27752، ترقيم محمد عوامة 26595)
حدیث نمبر: 27753
٢٧٧٥٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا حميد عن أنس أن النبي ﵊ قال: ⦗٣٥٠⦘ "إن العيش عيش الآخرة … فاغفر للأنصار (والمهاجرة) (١) " (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یقینا زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔ اے اللہ ! تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27753
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٨٣٤)، ومسلم (١٨٠٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27753، ترقيم محمد عوامة 26596)
حدیث نمبر: 27754
٢٧٧٥٤ - حدثنا ابن علية عن أبي المعلى عن سعيد بن جبير عن ابن عباس أنه كان (يقرأ) (١): ﴿دارست﴾ ويقول: (دارس) (٢) (كطعم) (٣) (الصاب) (٤) (والعلقم) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کو یوں پڑھتے تھے :{ دارست }۔ اور اس شعر سے استشہاد فرماتے : : دارس صاب اور علقم کے ذائقہ کی طرف کڑوا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27754
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27754، ترقيم محمد عوامة 26597)
حدیث نمبر: 27755
٢٧٧٥٥ - حدثنا وكيع عن ثابت (بن أبي) (١) صفية عن شيخ يكنى أبا عبد الرحمن عن ابن عباس قال الزنيم: اللئيم الملزق، ثم أنشد هذا البيت: زنيم تداعاه الرجال زيادة … كما (زيد) (٢) في عرض الأديم (الأكارع) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قرآن مجید میں مستعمل لفظ زنیم سے مراد کمینہ ہے۔ پھر آپ نے یہ شعر پڑھا۔ : کمینے آدمی کی کمینگی کو لوگ اس طرح بڑھا کر بیان کرتے ہیں جیسے چمڑے کو کشادہ کیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27755
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27755، ترقيم محمد عوامة 26598)
حدیث نمبر: 27756
٢٧٧٥٦ - حدثنا مالك بن إسماعيل قال: (حدثنا) (١) مسعود بن سعد عن ⦗٣٥١⦘ عطاء ابن السائب عن (ابن) (٢) عباد عن أبيه أن رجلًا من بني ليث أتى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه أنشدك؟ قال: "لا" - (ثلاثًا) (٣) - فأنشده في الرابعة مدحة له، فقال: "إن كان (أحد) (٤) من (الشعراء) (٥) يحسن فقد أحسنت" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عباد فرماتے ہیں کہ قبیلہ بنو لیث کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شعر سناؤں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا : نہیں : پھر چوتھی مرتبہ اجازت ملنے کی صورت میں انہوں نے مدحیہ اشعار سنائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر کوئی شاعر نیکی کرتا ہے تو تو نے نیکی کی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27756
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عطاء اختلط، والحديث أخرجه الطبراني (٤٥٩٣)، وأبو نعيم في دلائل النبوة (٢٣٣)، والحلية (٢/ ١٠)، والبخاري في التاريخ (٦/ ٣٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27756، ترقيم محمد عوامة 26599)
حدیث نمبر: 27757
٢٧٧٥٧ - حدثنا وكيع عن مسعر عن قتادة عن ابن عباس قال: ما كنت أدري ما قوله: ﴿رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ﴾ [الأعراف: ٨٩]، حتى سمعت (بنت) (١) ذي يزن (تقول) (٢): (تعال) (٣) أفاتحك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : میں اللہ رب العزت کے قول : { رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ } کے بارے میں نہیں جانتا تھا کہ اس کا کیا مطلب ہے ۔ یہاں تک کہ میں نے بنت ذی یزن کو کہتے ہوئے سنا : آؤ میں تمہارا فیصلہ کروں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27757
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27757، ترقيم محمد عوامة 26600)
حدیث نمبر: 27758
٢٧٧٥٨ - حدثنا أحمد بن بشر عن مجالد عن عامر أن (ابن) (١) الزبير استنشد أبيات خالد وهو يطوف بالبيت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت زبیر نے جبکہ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، حضرت خالد کے اشعار پڑھوائے ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27758
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ مجالد ضعيف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27758، ترقيم محمد عوامة 26601)
حدیث نمبر: 27759
٢٧٧٥٩ - حدثنا جعفر بن عون عن هشام بن عروة قال: كان ابن الزبير يحمل عليهم حتى يخرجهم من الأبواب ويقول: ⦗٣٥٢⦘ لو كان (قرني) (١) واحدا كفيته لسنا على الأعقاب تدمى كلومنا … ولكن على أقدامنا (يقطر) (٢) (الدم) (٣) (٤)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن زبیر نے اپنے مخالفین پر حملہ کردیا یہاں تک کہ ان کو دروازوں سے باہر نکال دیا۔ اور آپ نے یہ رجز پڑھا :: اگر مجھے اپنے جیسا ایک اور مل جاتا تو میرے لیے کافی ہوتا۔ اور یہ شعر پڑھ رہے تھے۔ : ہم وہ لوگ نہیں ہیں جن کی کمروں سے خون ٹپکتا ہے، ہمارا خون تو ہمارے پیروں پر گرتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27759
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27759، ترقيم محمد عوامة 26602)
حدیث نمبر: 27760
٢٧٧٦٠ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا هشام عن (أبيه) (١) أن أهل الشام كانوا يقاتلون ابن الزبير ويصيحون به: يا ابن ذات النطاقين فقال ابن الزبير: تلك شكاة ظاهر عنك عارها. فقالت أسماء: عيروك به؟ قال: نعم، قالت: فهو واللَّه (حق) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ بن زبیر نے ارشاد فرمایا : کہ شام والے حضرت ابن زبیر سے قتال کر رہے تھے اور چیخ چیخ کر پکار رہے تھے : اے ذات نطاقین کے بیٹے (دو پٹکے باندھنے والی عورت کے بیٹے) ۔ حضرت ابن زبیر نے فرمایا :: یہ وہ بیماری ہے جس کا عار تجھ سے ظاہر ہورہا ہے۔ حضرت اسمائ نے پوچھا : کیا وہ لوگ اس سے تجھے عار دلاتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں حضرت اسمائ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! یہ حق ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27760
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٣٨٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27760، ترقيم محمد عوامة 26603)
حدیث نمبر: 27761
٢٧٧٦١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن رجل أن ابن الزبير كان ينشد الشعر وهو يطوف بالبيت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان کسی شیخ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابن زبیر بیت اللہ کے طواف کے دوران شعر پڑھ رہے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27761
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27761، ترقيم محمد عوامة 26604)
حدیث نمبر: 27762
٢٧٧٦٢ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن داود (أن) (١) سعيد بن المسيب قال: لا تطلع الشمس حتى (يصحبها) (٢) ثلاثمائة ملك وسبعون ملكًا، أما سمعت أمية بن ⦗٣٥٣⦘ أبي الصلت يقول: ليست بطالعة لنا في رسلها … إلا معذبة وإلا تجلد.
مولانا محمد اویس سرور
داؤد فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن مسیب نے ارشاد فرمایا : سورج طلوع نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس کے ساتھ تین سو ستر فرشتے ہوتے ہیں۔ کیا تم نے امیہ بن ابی صلت کو کہتے ہوئے نہیں سنا : یہ سورج ہم پر اپنی خوشی سے طلوع نہیں ہوتا بلکہ اسے عذاب دیا جاتا ہے اور اسے کوڑے مارے جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27762
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27762، ترقيم محمد عوامة 26605)