کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: (نبی ﷺ کا شعر اور دیگر امور کو سننا)
حدیث نمبر: 27690
٢٧٦٩٠ - حدثنا سفيان بن عيينة عن (إبراهيم بن) (١) (ميسرة) (٢) عن ابن (الشريد) (٣) أو يعقوب بن عاصم سمع أحدهما (الشريد) (٤) يقول: أردفني النبي ﷺ خلفه فقال: "هل معك من شعر أمية بن أبي الصلت شيء؟ " (قال) (٥): قلت: نعم! قال: "هيه! " فانشدته بيتًا فقال: "هيه! " فلم يزل (٦): هيه حتى أنشدته مائة (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن شرید یا حضرت یعقوب بن عاصم ان دونوں میں سے ایک فرماتے ہیں کہ حضرت شرید نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سواری پر مجھے اپنے پیچھے بٹھایا ۔ اور فرمایا : کیا تمہیں امیہ بن ابی صلت کے شعرکے کچھ اشعار یاد ہیں ؟ میں نے کہا : جی ہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سناؤ تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک شعر سنا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اور سناؤ، مسلسل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہتے رہے۔ اور سناؤ اور سناؤ ! یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سو اشعار سنا دیئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27690
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٢٥٥)، وأحمد (١٩٤٧٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27690، ترقيم محمد عوامة 26533)
حدیث نمبر: 27691
٢٧٦٩١ - حدثنا (طلق) (١) بن غنام عن قيس عن الأعمش عن إبراهيم عن (عبيدة) (٢) عن عبد اللَّه عن النبي ﷺ قال: "إن من الشعر حكمًا وإن من البيان سحرا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یقینا بعض اشعار پر حکمت ہوتے ہیں اور یقینا بعض بیان جادو کا اثر رکھتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27691
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال قيس بن الربيع، أخرجه الترمذي (٣٨٤٤)، وأبو يعلى (٥١٠٤)، والطحاوي (٤/ ٢٩٩)، والشاشي (٧٩٥)، والطبراني (١٠٣٤٥)، وابن عدي (٦/ ٤٢)، وابن نقطة في التقييد (١/ ١٨٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27691، ترقيم محمد عوامة 26534)
حدیث نمبر: 27692
٢٧٦٩٢ - حدثنا عيسى بن يونس عن عبد اللَّه بن عبد الرحمن بن يعلى عن عمرو ابن الشريد عن أبيه قال: أنشدت رسول اللَّه ﷺ مائة قافية من شعر أمية بن أبي الصلت يقول (بين) (١) كل قافية: هيه (و) (٢) قال: "إن كاد ليسلم" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شرید فرماتے ہں س کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو امیہ بن ابی صلت کے اشعار میں سے سو قافیہ سنائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر قافیہ کے درمیان فرماتے ۔ اور سناؤ ۔ اور فرمایا : قریب تھا کہ وہ اسلام لے آتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27692
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد اللَّه بن عبد الرحمن بن يعلى صدوق، أخرجه مسلم (٢٢٥٥)، وأحمد (١٩٤٥٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27692، ترقيم محمد عوامة 26535)
حدیث نمبر: 27693
٢٧٦٩٣ - حدثنا عبدة بن سليمان عن محمد بن (١) إسحاق عن يعقوب بن (عتبة) (٢) عن عكرمة عن ابن عباس أن النبي ﷺ صَدّق أمية بن أبي الصلت في شيء من شعره أو قال: في بيتين من شعره فقال: (زحل) (٣) وثور تحت رجل يمينه … والنسر للأخرى (وليث) (٤) مرصد (قال) (٥): فقال النبي ﷺ: "صدوق" (٦). والشمس تطلع (٧) كل آخر ليلة … حمراء (يصبح) (٨) لونها يتورد. ⦗٣٢٧⦘ (قال) (٩): فقال النبي ﷺ: "صدق" (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امیہ بن ابی صلت کے اشعار میں سے ایک یا دو اشعار کی تصدیق کی ۔ اس نے یوں شعر کہا : ” زحل اور ثور اس کے دائیں پاؤں کے نیچے ہے اور نسر اس کے بائیں پاؤں کے نیچے ہے۔ اور لیث اس کی تاک میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس نے سچ کہا۔ دوسرا شعر یہ ہے : سورج رات کے آخری حصے میں اس طرح طلوع ہوتا ہے کہ وہ سرخ ہوتا ہے اور اس کا رنگ گلابی ہونے لگتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس نے سچ کہا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27693
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27693، ترقيم محمد عوامة 26536)
حدیث نمبر: 27694
٢٧٦٩٤ - حدثنا أبو أسامة عن زائدة عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: كان رسول اللَّه ﷺ يتمثل من الأشعار: "ويأتيك بالأخبار من لم تزود" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس شعر کو پڑھا کرتے تھے۔ : زمانہ تیرے پاس ایسی خبریں لائے گا جو تجھے پہلے حاصل نہیں ہوں گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27694
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27694، ترقيم محمد عوامة 26537)
حدیث نمبر: 27695
٢٧٦٩٥ - (١) حدثنا أبو أسامة عن زائدة عن (عبد الملك) (٢) بن عمير عن موسى بن طلحة عن أبي هريرة عن النبي ﵊ قال: "إن أصدق كلمة قالها شاعر كلمة لبيد، -ثم تمثل (أوله) (٣) وترك آخره: ألا كل شيء ما خلا اللَّه باطل". وكاد (أمية) (٤) بن أبي الصلت أن يسلم (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ سچی ترین بات جو کسی شاعر نے کہی وہ لبید کی بات ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے شعر کا پہلا مصرعہ پڑھا اور اس کا دوسرا مصرعہ چھوڑ دیا۔ مصرعہ یہ ہے ( ترجمہ) اللہ کے سوا ہر چیز باطل اور فانی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت اسلام لے آتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27695
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وهكذا أخرجه أبو نعيم في تاريخ أصبهان (١/ ١٦٩)، وابن جرير في مسند عمر من تهذيب الآثار (٩٦٨)، والحديث متفق عليه كما سيأتي في الذي بعده، وانظر: فتح الباري (١٠/ ٥٤٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27695، ترقيم محمد عوامة 26538)
حدیث نمبر: 27696
٢٧٦٩٦ - حدثنا الفضل بن دكين عن سفيان عن عبد الملك بن (عمير) (١) عن أبي (سلمة) (٢) عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (إن) (٣) أصدق كلمة قالها الشاعر كلمة لبيد". ألا كل شيء ما خلا اللَّه باطل". وكاد أمية بن أبي الصلت (أن) (٤) يسلم (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یقینا سچی ترین بات جو کسی شاعر نے کہی وہ لبید کا یہ مصرعہ ہے ( ترجمہ) اللہ کے سوا ہر چیز باطل اور فانی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت اسلام لے آتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27696
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٨٤١)، ومسلم (٢٢٥٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27696، ترقيم محمد عوامة 26539)
حدیث نمبر: 27697
٢٧٦٩٧ - حدثنا (١) عبدة بن سليمان عن (أبي) (٢) (حيان) (٣) عن حبيب بن أبي ثابت أْن حسان بن ثابت أنشد النبي ﵊ أبياتًا فقال: شهدت بإذن اللَّه أن محمدا … رسول الذي فوق السماوات من عل وأن أبا يحيى ويحيى كلاهما … له عمل في دينه متقبل وأن أخا الأحقاف إذ قام فيهم … يقول بذات اللَّه فيهم ويعدل (٤)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبیب بن ابی ثابت فرماتے ہیں کہ حضرت حسان بن ثابت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ اشعار سنائے۔ : میں اللہ کے حکم سے گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس اللہ کے رسول ہیں جو آسمانوں کے اوپر ہے۔ یحییٰ اور ان کے والد (حضرت زکریا ) دونوں کا عمل اس دین میں قابل قبول ہے۔ اسی طرح حضرت ہود کا عمل بھی جب وہ لوگوں میں کھڑے ہوکر انہیں دین کی دعوت دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27697
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ حبيب تابعي، أخرجه أبو يعلى (٢٦٥٣)، والمزي (٦/ ٢١)، وابن عساكر (١٢/ ٤٠٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27697، ترقيم محمد عوامة 26540)
حدیث نمبر: 27698
٢٧٦٩٨ - حدثنا حفص بن غياث عن مجالد عن الشعبي قال: استأذن (حسان) (١) النبي في قريش، قال: "كيف تصنع بنسبي فيهم؟ " قال: أسلك منهم كما تسل الشعرة من العجين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
امام شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت حسان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قریش کے بارے میں اشعار کہنے کی اجازت مانگی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم ایسا کیسے کرسکتے ہو حالانکہ میرا نسب بھی ان ہی میں سے ہے۔ انہوں نے عرض کیا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان میں سے ایسے نکال لوں گا جیسا کہ آٹے سے بال کو نکال لیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27698
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ الشعبي تابعي، ومجالد ضعيف، أخرجه أبو زيد القرشي في جمهرة أشعار العرب (ص ٢٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27698، ترقيم محمد عوامة 26541)
حدیث نمبر: 27699
٢٧٦٩٩ - حدثنا حفص بن غياث عن مجالد عن الشعبي قال: ذكر عند عائشة حسان فقيل لها: إنه قد أعان عليك، وفعل وفعل، فقالت: مهلًا فإني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "إن اللَّه يؤيد حسان في شعره بروح القدس" (١).
مولانا محمد اویس سرور
امام شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے حضرت حسان کا ذکر ہوا تو آپ سے کہا گیا : بیشک انہوں نے تو آپ کے خلاف مدد کی اور ایسا اور ایسا کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : چھوڑو، یقینا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا : اللہ تعالیٰ نے حسان کی شعر کہنے میں روح القدس یعنی حضرت جبرائیل کے ذریعے مدد فرمائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27699
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ الشعبي تابعي، ومجالد ضعيف، أخرجه ابن جرير في مسند عمر من تهذيب الآثار (٩٣١)، وقد رواه من طريق الشعبي عن جابر: ابن عساكر (١٢/ ٣٩١)، والطحاوي (٤/ ٢٩٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27699، ترقيم محمد عوامة 26542)
حدیث نمبر: 27700
٢٧٧٠٠ - حدثنا عيسى بن يونس عن مجالد عن الشعبي أن رسول اللَّه ﷺ قال (١): "اهج المشركين فإن روح القدس معك" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
امام شعبی فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مشرکین کی ہجو بیان کرو۔ یقینا روح القدس حضرت جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27700
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ الشعبي تابعي، ومجالد ضعيف، وأخرجه الطحاوي (٤/ ٢٩٧)، وابن عساكر (١٢/ ٣٩١) من طريق الشعبي عن جابر.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27700، ترقيم محمد عوامة 26543)
حدیث نمبر: 27701
٢٧٧٠١ - حدثنا (ابن نمير) (١) عن هشام بن عروة عن أبيه أن حسان بن ثابت سأل النبي ﷺ أن يهجو أبا سفيان قال: فكيف بقرابتي؟ قال: (والذي أكرمك لأسلنك منهم سل (الشعرة) (٢) من العجين" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ حضرت حسان بن ثابت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ابو سفیان کی ہجو کرنے کے بارے میں پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیسے کرو گے وہ تو میرے قریبی رشتہ دار ہیں ؟ آپ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معزز بنایا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے کھچن لوں گا جیسے آٹے میں سے بال کھینچ لیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27701
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عروة تابعي، وأخرجه من طريق عروة عن عائشة مرفوعًا البخاري (٢١٥٠)، ومسلم (٢٤٩٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27701، ترقيم محمد عوامة 26544)
حدیث نمبر: 27702
٢٧٧٠٢ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن عدي بن ثابت عن البراء بن عازب قال: قال رسول اللَّه ﷺ لحسان بن ثابت: "اهج المشركين فإن جبريل معك" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسان بن ثابت سے فرمایا : مشرکین کی ہجو بیان کرو ۔ بیشک حضرت جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27702
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٢١٣)، ومسلم (٢٤٨٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27702، ترقيم محمد عوامة 26545)
حدیث نمبر: 27703
٢٧٧٠٣ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن أبي خالد الوالبي قال: كنا نجالس أصحاب رسول اللَّه ﷺ (فيتناشدون) (١) الأشعار ويذكرون أمر الجاهلية (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ حضرت ابو خالد والبی نے ارشاد فرمایا کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کی مجلسوں میں بیٹھا کرتے تھے تو وہ لوگ اشعار پڑھا کرتے تھے اور جاہلیت کے واقعات یاد کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27703
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد الوالبي صدوق على الصحيح؛ أخرجه البيهقي ١٠/ ٢٤٠، وابن عبد البر في جامع بيان العلم ١/ ١٥٠، والذهبي في سير أعلام النبلاء ١٨/ ١٦٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27703، ترقيم محمد عوامة 26546)
حدیث نمبر: 27704
٢٧٧٠٤ - حدثنا أبو أسامة (عن أسامة) (١) عن نافع قال: (كان) (٢) لعبد اللَّه (بن رواحة) (٣) جارية فكان يكاتم امرأته غشيانها، قال: فوقع عليها ذات يوم فجاء (إلى) (٤) امرأته فاتهمته أن يكون وقع عليها، فأنكر ذلك فقالت (له) (٥): (اقرأ إذًا) (٦) القرآن، فقال: شهدت بإذن اللَّه أن محمدًا … رسول الذي فوق السماوات من عل وأن أبا يحيى ويحيى كلاهما … له عمل في دينه متقبل ⦗٣٣١⦘ فقالت: (أولى لك) (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن رواحۃ کی ایک باندی تھی۔ آپ اس سے جماع کرنے کو اپنی بیوی سے چھپاتے تھے۔ ایک دن آپ نے اس اسے جماع کیا اور جب اپنی بیوی کے پاس آئے تو اس نے آپ پر الزام لگایا کہ آپ نے اس باندی سے جماع کیا ہے ؟ آپ نے اس کا انکار کیا تو آپ کی بیوی نے آپ سے کہا : اگر ایسی بات ہے تو قرآن پڑھو : آپ نے یہ اشعار پڑھ دیئے۔ : میں اللہ کے حکم سے گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس اللہ کے رسول ہیں جو آسمانوں کے اوپر ہے۔ یحییٰ اور ان کے والد دونوں کا عمل اس دین میں قابل قبول ہے۔ اس نے کہا : تم سچے ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27704
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ نافع تابعي، أخرجه ابن عساكر ٢٨/ ١١٣، وابن أبي الدنيا في العيال (٥٧٣)، وابن قدامة في إثبات صفة العلو (ص ١٠٠)، ووردت القصة بأسانيد أخرى، انظر: سنن الدارقطني (١/ ١٢٠)، وسير أعلام النبلاء ١/ ٢٣٨، وطبقات الشافعية الكبرى ١/ ٢٦٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27704، ترقيم محمد عوامة 26547)
حدیث نمبر: 27705
٢٧٧٠٥ - حدثنا محمد بن بشر عن مسعر عن عمرو بن مرة عن خيثمة قال: (أتى عمرَ) (١) (شاعر) (٢) فقال: أنشدك فاستنشده فجعل هو ينشده فذكر محمدا فقال: غفر اللَّه لمحمد بما صبر قال: يقول عمر: قد فعل. (ثم) (٣) أبا بكر جميعًا وعمر فقال: ما شاء اللَّه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس ایک شاعر آیا اور کہنے لگا : کیا آپ کو شعر سناؤں ؟ آپ نے شعر سنانے کا کہا : تو وہ شعر سنا رہا تھا کہ اس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر کیا اور کہا : اللہ تعالیٰ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درجات بلند فرمائے آپ نے تکالیف پر بہت صبر کیا۔ حضرت عمر نے فرمایا : تحقیق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا ہی کیا پھر اس نے یہ مصرعہ پڑھا۔ آپ نے فرمایا : جو اللہ نے چاہا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27705
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27705، ترقيم محمد عوامة 26548)
حدیث نمبر: 27706
٢٧٧٠٦ - حدثنا أبو أسامة عن مصعب بن سليم عن أنس قال: تمثل البراء بيتًا من شعر فقلت: تمثل (١) أخي ببيت من شعر لا تدري لعله آخر (شيء) (٢) تكلمت به قال: لا أموت على فراشي لقد قتلت من المشركين والمنافقين مائة إلا (رجلا) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت براء ایک شعر گنگنا رہے تھے، میں نے ان سے کہا کہ آپ شعر گنگنا رہے ہیں، اگر آپ کو اس حالت میں موت آگئی تو کیا ہوگا۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں اپنے بستر پر نہیں مروں گا۔ میں نے ننانوے مشرکوں اور منافقوں کو قتل کیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27706
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ مصعب بن سليم صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27706، ترقيم محمد عوامة 26549)
حدیث نمبر: 27707
٢٧٧٠٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي خالد الوالبي قال: كنت أجلس مع أصحاب رسول اللَّه ﷺ فلعلهم لا يذكرون إلا الشعر حتى يتفرقوا (١).
مولانا محمد اویس سرور
امام شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو خالد والبی نے ارشاد فرمایا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کے ساتھ بیٹھا کرتا تھا۔ بعض اوقات وہ اپی مجالس میں صرف اشعار کا ہی تذکرہ کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27707
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27707، ترقيم محمد عوامة 26550)
حدیث نمبر: 27708
٢٧٧٠٨ - حدثنا وكيع عن الحسن عن أبي الجحاف عن الشعبي قال: كان أبو بكر شاعرًا، وكان عمر شاعرًا، وكان علي شاعرًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
امام شعبی نے ارشاد فرمایا : حضرت ابوبکر شاعر تھے، حضرت عمر شاعر تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی شاعر تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27708
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27708، ترقيم محمد عوامة 26551)
حدیث نمبر: 27709
٢٧٧٠٩ - حدثنا أبو أسامة (قال: أخبرنا مجالد) (١) قال: أخبرني عامر قال: (أخبرنا) (٢) ربعي (بن حراش) (٣) أنه أتى (٤) عمر في نفر من غطفان (فذكروا) (٥) الشعر فقال عمر: أي شعرائكم أشعر؟ فقالوا: أنت أعلم يا أمير المؤمنين قال: فقال عمر: من الذي يقول: أتيتك عاريًا خلقًا ثيابي … على خوف (يظن) (٦) بي الظنون (فألفيت) (٧) الأمانة لم تخنها … ذلك كان نوح لا يخون (قلنا: النابغة) (٨). ثم قال مثل ذلك، ثم قال: من الذي يقول: ⦗٣٣٣⦘ حلفت فلم (أترك) (٩) (لنفسي) (١٠) ريبة … وليس وراء اللَّه للمرء مذهب ثم قال: من الذي يقول: (إلا سليمان) (١١) إذ قال الإله له … قم في البرية فازجرها عن الفند قلنا: النابغة قال: هذا أشعر شعرائكم (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت ربعی بن حراش نے ارشاد فرمایا : میں غطفان کے لشکر میں حضرت عمر کے پاس آیا تو وہ لوگ شعروں کا تذکرہ کر رہے تھے۔ حضرت عمر نے فرمایا : تمہارے شعراء میں سب سے بڑا شاعر کون سا ہے ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : امیر المؤمنین ! آپ زیادہ جانتے ہیں۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا : یہ شعر کس نے کہا ؟ : میں تیرے پاس اس حال میں آیا کہ میں ننگے پاؤں تھا اور میرے کپڑے پرانے تھے۔ بہت سے اندیشوں نے مجھے گھیرا ہوا تھا۔ میں اپنی امانت کو اس حال میں پایا کہ تو نے اس میں خیانت نہ کی تھی۔ حضرت نوح بھی خیانت نہ کیا کرتے تھے۔ ہم لوگوں نے جواب دیا : نابغہ نے، آپ پھر ایسے ہی فرمایا اور پوچھا : یہ شعر کس نے کہا ؟ : میں قسم کھاتا ہوں تاکہ تیرے دل میں کوئی شک باقی نہ رہے۔ اور اللہ کے سوا تو آدمی کا کوئی مذہب نہیں ہے۔ پھر آپ نے فرمایا : یہ شعر کس نے کہا ؟ : سوائے سلیمان کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا لوگوں میں کھڑے ہوجاؤ اور انہیں دنیا کے فانی ہونے کا درس دو ۔ ہم نے جواب دیا : نابغہ نے۔ آپ نے فرمایا : یہ تمہارے شعراء میں سب سے بڑا شاعر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27709
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف مجالد، أخرجه ابن جرير في مسند عمر من تهذيب الآثار (٩٨١)، وابن عساكر (١٩/ ٢٢٤)، وابن شبة في تاريخ المدينة (١٣٣٩)، وابن أبي الدنيا في الإشراف (٤٣٩)، والدينوري في المجالسة (١٤٠٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27709، ترقيم محمد عوامة 26552)
حدیث نمبر: 27710
٢٧٧١٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبيه عن أبي الضحى أن أبا بكر استنشد معد يكرب فأنشده، وقال: ما استنشدت (في الإسلام أحدًا) (١) قبلك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوضحی فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے معدی کرب سے شعر سنانے کا مطالبہ کیا، اور فرمایا : میں نے اسلام لانے کے بعد تجھ سے پہلے کسی سے بھی شعر سنانے کا مطالبہ نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27710
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27710، ترقيم محمد عوامة 26553)
حدیث نمبر: 27711
٢٧٧١١ - حدثنا وكيع عن سعيد بن (حسان) (١) عن عبد اللَّه بن عبيد بن (عمير) (٢) قال: قال أبو بكر: (ربما) (٣) قال الشاعر: الكلمة (الحكيمة) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے ارشاد فرمایا : کبھی کبھار شاعر پر حکمت بات کہہ دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27711
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27711، ترقيم محمد عوامة 26554)
حدیث نمبر: 27712
٢٧٧١٢ - حدثنا أبو أسامة عن زكريا عن أبي إسحاق عن هانئ قال: سمعت عليًا يقول: اشدد حيازيمك للموت … (فإن) (١) الموت لاقيكا ولا تجزع من الموت … إذا حل بواديكا (٢)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ھانی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ شعر پڑھتے ہوئے سُنا :: تو اپنے سینہ کو موت کے لیے تیار کر لے…اس لیے کہ موت تجھ سے ملاقات کرنے والی ہے اور تو ہرگز موت سے نہ ڈر…جب موت تیری وادی میں اتر آئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27712
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ هاني صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27712، ترقيم محمد عوامة 26555)
حدیث نمبر: 27713
٢٧٧١٣ - حدثنا أبو أسامة عن يزيد عن ابن سيرين قال: قال علي بن أبي طالب للمرادي: (أريد) (١) (حياته) (٢) ويريد قتلي … عذيرك من خليك من مرادي (٣)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب نے عبد الرحمن بن ملجم مرادی سے یوں کہا : : میں ا س کی زندگی کا ارادہ کرتا ہوں اور وہ میرے قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تم قبیلہ مراد میں سے کسی ایسے دوست کو لاؤ جو تمہارا عذر تسلیم کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27713
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27713، ترقيم محمد عوامة 26556)
حدیث نمبر: 27714
٢٧٧١٤ - حدثنا (يعلى) (١) بن عبيد عن أبي حيان عن مجمع قال: بنى علي سجنًا فسماه نافعًا، ثم بدا له فكسره وبنى (أحصن) (٢) منه ثم قال بيت شعر: ألم (تريني) (٣) كيسا مكيسا … بنيت بعد نافع مخيسا (٤)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجمع فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک جیل بنائی اور اس کا نام نافع رکھا پھر آپ کے ذہن میں کوئی خیال آیا تو آپ نے اسے توڑ کر اس سے بھی مضبوط جیل بنائی پھر آپ نے یہ شعر کہا :: کیا میں تمہیں صاحب عقل اور معروف عقلمند نہیں لگتا۔ میں نے نافع جیل کے بعد مخیس جیل بنادی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27714
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27714، ترقيم محمد عوامة 26557)
حدیث نمبر: 27715
٢٧٧١٥ - حدثنا عبد (الأعلى) (١) عن داود عن الشعبي أن عمر كتب ⦗٣٣٥⦘ إلى المغيرة أن (يستنطق) (٢) الشعراء عنده (٣).
مولانا محمد اویس سرور
امام شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت مغیرہ کو خط لکھا کہ وہ شعراء کو اپنے پاس بلا کر ان سے شعرسنیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27715
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27715، ترقيم محمد عوامة 26558)
حدیث نمبر: 27716
٢٧٧١٦ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الملك بن أبي (بشير) (٢) عن عكرمة قال: كنت أسير مع ابن عباس ونحن منطلقون إلى عرفات، فكنت أنشده الشعر ويفتحه علي (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک بن ابی بشیر فرماتے ہیں کہ حضرت عکرمہ نے ارشاد فرمایا : کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ چل رہا تھا اور ہم لوگ عرفات کے میدان کی طرف جا رہے تھے۔ اور میں شعر پڑھ رہا تھا آپ میری غلطیاں درست فرما رہے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27716
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27716، ترقيم محمد عوامة 26559)
حدیث نمبر: 27717
٢٧٧١٧ - حدثنا أبو أسامة عن شعبة عن قتادة عن مطرف بن عبد اللَّه قال: خرجت مع عمران بن حصين إلى الكوفة، فكان لا يأتي عليه يوم إلا (أنشدنا) (١) فيه الشعر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت مطرف بن عبد اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ میں حضرت عمران بن حصین کے ساتھ کوفہ کی جانب نکلا۔ پس ان پر کوئی دن نہیں گزرتا تھا مگر یہ کہ وہ ہمیں شعر سناتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27717
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27717، ترقيم محمد عوامة 26560)
حدیث نمبر: 27718
٢٧٧١٨ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن محمد بن سيرين عن كثير بن أفلح قال: كان آخر مجلس جلسنا فيه مع زيد بن ثابت مجلسًا (تناشدنا) (١) فيه الشعر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
امام محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت کثیر بن افلح نے ارشاد فرمایا : سب سے آخری مجلس جس میں ہم حضرت زید بن ثابت کے ساتھ بیٹھے تھے وہ مجلس تھی جس میں ہم نے اشعار پڑھے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27718
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27718، ترقيم محمد عوامة 26561)
حدیث نمبر: 27719
٢٧٧١٩ - حدثنا عبدة عن هشام (عن) (١) أبيه عن عائشة قالت: قدمنا المدينة وهي وبية فاشتكى أبو بكر واشتكى بلال، قالت: فكان أبو بكر إذا أفاق يقول: كل امرئ مصبح في أهله … والموت أدنى من شراك نعله ⦗٣٣٦⦘ (قالت) (٢): وكان بلال إذا أفاق يقول: ألا ليت شعري هل أبيتن ليلة … بواد وحولي إذخر وجليل (و) (٣) هل أردن يومًا مياه مجنة … وهل يبدون لي شامة وطفيل (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا : ہم لوگ مدینہ آئے اس حال میں کہ مدینہ وباء زدہ جگہ تھی، پس حضرت ابوبکر اور حضرت بلال بیمار ہوگئے ۔ جب حضرت ابوبکر صحت مند ہوئے تو آپ یہ شعر پڑھتے تھے :: ہر آدمی اپنے گھروالوں میں صبح کرتا ہے اس حال میں کہ موت اس کی جوتی کے تسمہ سے بھی قریب ہوتی ہے۔ اور جب حضرت بلال صحت مند ہوئے تو وہ یہ شعر پڑھا کرتے تھے۔ : کاش اے میرے شعر : میں رات گزاروں مکہ کی وادی میں اس حال میں کہ میرے اردگرد اذخر اور ثمامہ کی گھاس ہو۔ اور کیا میں کسی دن مجنّہ کے پانی کی جگہ اتروں گا اور کیا میرے سامنے شامہ اور طفیل چشمے ظاہر ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27719
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (١٨٨٩)، ومسلم (١٣٧٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27719، ترقيم محمد عوامة 26562)
حدیث نمبر: 27720
٢٧٧٢٠ - حدثنا عبدة عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة (قال) (١): (كانت) (٢) تتمثل هذين البيتين من قول لبيد: ذهب الذين يعاش في أكنافهم … و (بقيت) (٣) في خلف كجلد الأجرب (يتأكلون) (٤) [(مشيحة) (٥) وخيانة] (٦) … ويعاب قائلهم وإن لم (يشغب) (٧) (٨)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا لبید کے اشعار میں سے اکثر ان دو مصرعوں کو پڑھا کرتی تھیں۔ : وہ لوگ چلے گئے جن کی حفاظت میں زندگی گزاری جاتی تھی۔ اور میں باقی رہ گئی پیچھے خارش زدہ اونٹ کی کھال کی طرح۔ اور لوگ چغلیاں اور خیانت کرتے ہیں۔ اور کہنے والے کو عیب لگایا جاتا ہے اگرچہ وہ فساد نہ پھیلاتا ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27720
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (٢٠٤٤٨)، وابن جرير في مسند عمر من تهذيب الآثار (٢٠٤)، والحارث (٨٩٥/ بغية)، والبخاري في الأوسط (١/ ٥٦)، وابن عساكر (١٦/ ٤٤١)، وابن المبارك في الزهد (١٨٣)، وابن أبي الدنيا في العزلة (ص ٦٩)، والبيهقي في الزهد (٢١٤)، وبنحوه الثعلبي في التفسير (٣/ ٣٣١)، والصيداوي في معجم الشيوخ (ص ١٠٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27720، ترقيم محمد عوامة 26563)
حدیث نمبر: 27721
٢٧٧٢١ - حدثنا محمد بن فضيل عن هشام عن أبيه عن عائشة قالت: كان عمر يتمثل بهذا البيت: إليك تعدو (قلقًا) (١) وضينها … (معترضًا) (٢) في بطنها جنينها مخالفا دين النصارى دينها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت عمر اس شعر کو پڑھا کرتے تھے۔ : وہ تیرے پاس پریشان ہوکر اس حال میں بھاگتی ہوئے آئے گی کہ اس کے پیٹ کا بچہ تکلیف اٹھائے گا۔ اس کا دین نصاریٰ کے دین کے مخالف ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27721
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وقد أخرجه الشافعي في الأم (٢/ ٢١٣)، عن عروة عن عمر وأخرجه البيهقي (٥/ ١٢٦)، عن عروة عن المسور عن عمر.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27721، ترقيم محمد عوامة 26564)
حدیث نمبر: 27722
٢٧٧٢٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش (عن مسلم) (١) عن مسروق عن عائشة (قال) (٢): دخل عليها حسان بن ثابت بعد ما كف بصره، فقيل لها: (أتدخلين) (٣) عليك هذا الذي قال اللَّه: ﴿وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾ [النور: ١١]، قالت: أو ليس في عذاب عظيم، قد (كف) (٤) بصره، قال: فأنشدها بيتًا قاله لابنته: حصان رزان ما (تزن) (٥) بريبة … و (صبح) (٦) غرثى من لحوم الغوافل قالت: لكن أنت لست كذلك (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حضرت حسان بن ثابت اپنی بینائی چلے جانے کے بعدآئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا گیا کہ آپ کے پاس وہ شخص آیا ہے جس کے بارے میں اللہ رب العزت نے یوں فرمایا : کہ جس نے اٹھایا اس کا بڑا بوجھ اس کے لیے بڑا عذاب ہے ؟ ! آپ نے فرمایا : کیا وہ بڑے عذاب میں نہیں ہے کہ تحقیق اس کی بینائی چلی گئی ۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر حضرت حسان نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں شعر سنایا جو اپنی بیٹی کے لیے کہا تھا۔ : وہ پاکدامن ہیں، بےعیب ہیں، کسی برے کام کا انہوں نے ارتکاب نہیں کیا۔ وہ پاکدامن عورتوں کے عزت پر انگلی نہیں اٹھاتیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : لیکن تم ایسے نہیں ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27722
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤١٤٦)، ومسلم (٢٤٨٨)،
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27722، ترقيم محمد عوامة 26565)
حدیث نمبر: 27723
٢٧٧٢٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي (فزارة) (١) عن الحكم أن عبد الرحمن ابن أبي ليلى أنشد شعرًا في المسجد والمؤذن يقيم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہںٌ کہ حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ نے مسجد میں شعر پڑھے اس حال میں کہ مؤذن اقامت کہہ رہا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27723
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27723، ترقيم محمد عوامة 26566)
حدیث نمبر: 27724
٢٧٧٢٤ - حدثنا أبو معاوية عن هشام بن عروة عن أبيه قال: ما رأيت أحدًا أعلم بشعر ولا فريضة ولا أعلم بفقه من عائشة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عروہ نے ارشاد فرمایا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ کسی کو اشعار ، فرائض اور فقہ کو جاننے والا نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27724
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27724، ترقيم محمد عوامة 26567)
حدیث نمبر: 27725
٢٧٧٢٥ - حدثنا شريك عن فرات عن (سعيد) (١) بن جبير قال: (٢) ﴿الْقَانِعَ﴾ [الحج: ٣٦]: السائل، (ثم) (٣) أنشد (أبيات) (٤) شماخ وقال: لمال المرء يصلحه (فيغني) (٥) … (مفاقره) (٦) أعف من القنوع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فرّات فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر نے ارشاد فرمایا : کہ قرآن مجید میں القانع سے مراد سوال کرنے والا ہے۔ پھر آپ نے شماخ کا یہ شعر پڑھا۔ : آدمی کا مال درستی پیدا کرتا ہے اور اس کے فقر کو مالداری سے بدل کر اسے سوال کرنے والوں کے مقابلے میں عفیف بنادیتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27725
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27725، ترقيم محمد عوامة 26568)
حدیث نمبر: 27726
٢٧٧٢٦ - حدثنا شريك عن بيان عن عامر ﴿فَإِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِ﴾ [النازعات: ١٤]، قال: بالأرض، ثم أنشد (أبياتا) (١) لأمية: (وفيها لحم ساهرة وبحر) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بیان فرماتے ہیں کہ حضرت عامر نے قرآن کی آیت : { فَإِذَا ہُمْ بِالسَّاہِرَۃِ } کے بارے میں ارشاد فرمایا : ساھرۃ سے مراد زمین ہے۔ پھر آپ نے امیہ کے شعر کا یہ مصرعہ پڑھا۔ : وہ ہمارے پاس زمین اور سمندر کے گوشت کے ساتھ آیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27726
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27726، ترقيم محمد عوامة 26569)
حدیث نمبر: 27727
٢٧٧٢٧ - حدثنا ابن فضيل عن عاصم قال: ما (سمعنا) (١) الحسن يتمثل ببيت من شعر (قط) (٢) إلا هذا البيت: ليس من مات فاستراح بميْت … إنما الميت ميت الأحياء ثم قال: (و) (٣) صدق واللَّه إنه ليكون حيًا وهو ميت القلب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی بھی حسن بصری کو کسی شعر کے مصرعہ کو بطور تمثیل پڑھتے ہوئے نہیں سنا سوائے اس شعر کے : : اصل مردہ وہ نہیں جو مرگیا اور آرام پا گیا اصل مردہ تو وہ ہے جو زندگی میں مردہ ہے۔ پھر آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! شاعر نے سچ کہا : بیشک وہ زندہ ہے اس حال میں کہ دل مردار ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27727
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27727، ترقيم محمد عوامة 26570)
حدیث نمبر: 27728
٢٧٧٢٨ - حدثنا سفيان بن عيينة عن هشام قال: سمعت أبي يقول تركتها -يعني عائشة- قبل أن تموت بثلاث سنين، وما رأيت أحدًا أعلم بكتاب اللَّه ولا بسنة (عن) (١) رسول اللَّه ﷺ ولا بشعر ولا (فريضة) (٢) (منها) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حضرت عروہ کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کی وفات سے تین سال قبل چھوڑا ۔ اور میں نے کسی کو بھی آپ سے زیادہ قرآن مجید ، رسول اللہ کی سنت، اشعار اور فرائض کا جاننے والے کوئی نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27728
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27728، ترقيم محمد عوامة 26571)
حدیث نمبر: 27729
٢٧٧٢٩ - حدثنا أبو داود و (١) الطيالسي، عن مسمع بن مالك اليربوعي قال: سمعت عكرمة يقول: كان ابن عباس إذا سئل عن شيء من القرآن أنشد (شعرًا) (٢) من أشعارهم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے قرآن مجید میں سے کسی چیز کے متعلق سوال کیا جاتا ۔ تو آپ اہل عرب کے اشعار میں سے کوئی شعر پڑھتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27729
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27729، ترقيم محمد عوامة 26572)