کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اس شخص کا بیان جو اکیلا چھینکے تو وہ کیا کہے؟
حدیث نمبر: 27674
٢٧٦٧٤ - حدثنا أبو الأحوص عن حصين (عن) (١) إبراهيم قال: إذا عطس (٢) (وهو) (٣) وحده فليقل: الحمد للَّه رب العالمين، ثم يقول: يرحمنا اللَّه وإياكم، فإنه يشمته من سمعه من خلق اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حصین فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : جب کسی شخص کو چھینک آئے اس حال میں کہ وہ تنہا ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ یوں کہے : الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ ۔ پھر یوں کہے : یَرْحَمُنَا اللَّہُ وَإِیَّاکُمْ ۔ اس سے کہ اللہ کی مخلوق میں سے جس نے اس کی چھینک کو سنا ہوگا تو اس نے یرحمک اللہ کہہ کر اس کو دعا دی ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27674
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27674، ترقيم محمد عوامة 26517)
حدیث نمبر: 27675
٢٧٦٧٥ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن عاصم عن أبي وائل قال: إذا عطست وأنت وحدك فرد على من معك يعني من الملائكة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ حضرت ابو وائل نے ارشاد فرمایا : جب تجھے چھینک آئے اور تو تنہا ہو ، تو تو جواب دے ان کو جو تیرے ساتھ ہیں یعنی ملائکہ کو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27675
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27675، ترقيم محمد عوامة 26518)