کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: چھینکنے والے کو یرحمک اللہ کہہ کر دعا دینے کا بیان اور جو شخص یوں کہتا ہے کہ یرحمک اللہ نہیں کہا جائے گا یہاں تک کہ چھینکنے والا الحمد للہ کہے
حدیث نمبر: 27652
٢٧٦٥٢ - حدثنا يزيد بن هارون عن سليمان التيمي عن أنس بن مالك قال: عطس (رجلان) (١) عند النبي ﷺ فشمت، أو شمت أحدهما ولم يشمت الآخر، فقيل: يا رسول اللَّه عطس عندك رجلان فشمت أحدهما ولم تشمت الآخر، فقال: "إن هذا حمد اللَّه (إن وهذا) (٢) لم يحمد اللَّه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو آدمیوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چھینک آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سے ایک کو تو یرحمک اللہ کہہ کر دعا دی اور دوسرے کو یرحمک اللہ نہیں کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو آدمیوں کو چھینک آئی ۔ ان میں سے ایک کو تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یرحمک اللہ کہہ کر دعا دی اور دوسرے کو یرحمک اللہ نہیں کہا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس نے الحمد للہ کہا تھا اور اس نے الحمد للہ نہیں کہا۔
حدیث نمبر: 27653
٢٧٦٥٣ - حدثنا قاسم بن مالك المزني عن عاصم بن كليب عن أبي بردة قال: دخلت على أبي موسى وهو في بيت بنت الفضل، فعطستُ فلم (يشمتني) (١) وعطست فشمتها؟ (فرجعت إلى أمي فأخبرتها، فلما جاءها قالت: عطس عندك ابني فلم تشمته، وعطستْ فشمتها) (٢)، قال: إن ابنك عطس ولم يحمد اللَّه فلم أشمته، وعطست وحمدت اللَّه فشمتها، وسمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "إذا عطس أحدكم فحمد اللَّه فشمتوه وإذا لم يحمد اللَّه فلا تشمتوه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بردہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو موسیٰ کے پاس آیا اس حال میں کہ آپ بنت فضل کے گھر میں تھے، پس مجھے چھینک آئی تو آپ نے مجھے یرحمک اللہ نہیں کہا اور بنت فضل کو چھینک آئی تو آپ نے اس کو یرحمک اللہ کہا۔ میں اپنی والدہ کے پاس واپس آیا اور میں نے انہیں اس بارے میں بتایا جب وہ آپ کی خد مت میں آئیں تو کہا : بیشک میرے بیٹے کو آپ کے پاس چھینک آئی تو آپ نے اس کو تو یرحمک اللہ نہیں کہا ، اور اس لڑکی کو چھینک آئی تو آپ نے اس کو یرحمک اللہ کہا۔ آپ نے فرمایا : تیرے بیٹے کو چھینک آئی اور اس نے الحمد للہ نہیں کہا تو میں نے بھی اسے یرحمک اللہ نہیں کہا ، اور اس لڑکی کو چھینک آئی تو اس نے الحمد للہ کہا تو میں نے بھی اسے یرحمک اللہ کے ذریعہ جواب دیا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں کسی کو چھینک آئے اور وہ الحمد للہ کہے تو تم اسے یرحمک اللہ کہہ کر دعا دو اور جب وہ الحمد للہ نہ کہے تو تم بھی یرحمک اللہ مت کہو۔
حدیث نمبر: 27654
٢٧٦٥٤ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من حق المسلم على المسلم تشميت العاطس ⦗٣١٥⦘ إذا حمد اللَّه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مسلمان کا مسلمان پر حق ہے : کہ چھینکنے والا جب الحمد للہ کہے تو اسے یرحمک اللہ کہہ کر دعا دے۔
حدیث نمبر: 27655
٢٧٦٥٥ - حدثنا (يعلى) (١) بن عبيد عن أبي (منين) (٢) عن أبي حازم عن أبي هريرة قال: كنا جلوسا عند النبي ﷺ فعطس رجل (من القوم) (٣) فحمد اللَّه فقال النبي: (يرحمك اللَّه)، ثم عطس آخر فسكت، فلم يقل له شيئًا فقال: يا رسول اللَّه عطس هذا فقلت له: رحمك اللَّه، وعطست فلم تقل لي شيئًا، فقال: "إن هذا حمد اللَّه وأنت سكت" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی کو چھینک آئی اس نے الحمد للہ کہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا یرحمک اللہ، پھر دوسرے کو چھینک آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کچھ نہیں فرمایا : اس آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس کو چھینک آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو یرحمک اللہ کہہ کر دعا دی اور مجھے چھینک آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کچھ دعا نہیں دی ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس نے الحمد للہ کہا تھا اور تو خاموش رہا ۔
حدیث نمبر: 27656
٢٧٦٥٦ - حدثنا محمد بن سواء عن غالب قال: كان الحسن وابن سيرين لا يشمتان العاطس حتى يحمد اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت غالب فرماتے ہیں کہ حسن بصری اور حضرت ابن سیرین یہ دونوں حضرات چھینکنے والے کو یرحمک اللہ کہہ کر دعا نہیں دیتے تھے یہاں تک کہ وہ الحمد للہ کہہ لیتا۔
حدیث نمبر: 27657
٢٧٦٥٧ - حدثنا عبدة بن سليمان عن عبيد اللَّه قال: عطس (رجل) (١) (عند) (٢) القاسم، فقال له القاسم: قل: الحمد للَّه، فلما قال شمته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کو حضرت قاسم کے پاس چھینک آئی، تو حضرت قاسم نے اس سے فرمایا : الحمد للہ کہو، جب اس نے کہا تو آپ نے اسے یرحمک اللہ کہہ کر دعا دی۔