کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ان لوگوں کا بیان جن میں ایک آدمی اجازت مانگے تو کیا سب کے لیے یہ کافی ہے؟
حدیث نمبر: 27650
٢٧٦٥٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن الحسن في القوم يستأذنون، قال: قال: إن قال رجل منهم: السلام عليكم أندخل، أجزأ ذلك عنهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حسن بصری نے ان لوگوں کے بارے میں جو اجازت طلب کرنا چاہتے ہیں یوں ارشاد فرمایا : اگر ان میں سے ایک آدمی بھی یوں کہہ دے، السلام علیکم۔ کیا ہم داخل ہوجائیں ؟ تو یہ سب کی طرف سے کافی ہوجائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27650
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27650، ترقيم محمد عوامة 26493)
حدیث نمبر: 27651
٢٧٦٥١ - حدثنا جرير عن مغيرة قال: دخلنا علي (أبي) (١) (رزين) (٢) ونحن ذو عدد، فكان كل إنسان منا يسلم ويستأذن، فقال: إنه إذا أذن لأولكم أذن لآخركم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت ابو رزین کی خدمت میں آئے اس حال میں کہ ہم کافی تعداد میں تھے اور ہم میں سے ہر ایک شخص سلام کر رہا تھا اور اجازت طلب کر رہا تھا۔ اس پر آپ نے فرمایا : بیشک جب تم میں پہلے کو اجازت دے دی گئی تو باقی سب کو اجازت دے دی گئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27651
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27651، ترقيم محمد عوامة 26494)