کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت اور نام کو جمع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 27600
٢٧٦٠٠ - حدثنا سفيان بن عيينة عن أيوب عن محمد قال: سمعت أبا هريرة ⦗٣٠٢⦘ يقول: قال أبو القاسم ﷺ (١): " (تسموا) (٢) باسمي ولا تكنوا بكنيتي" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو القاسم (ﷺ) نے ارشاد فرمایا : تم میرے نام پر نام رکھ لو اور میری کنیت اختیار مت کرو۔
حدیث نمبر: 27601
٢٧٦٠١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "تسموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میرے نام پر اپنے نام رکھ لو اور میری کنیت اختیار مت کرو۔
حدیث نمبر: 27602
٢٧٦٠٢ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن حميد عن أنس قال: كان رسول اللَّه ﷺ بالبقيع، فنادى رجل آخر: يا أبا القاسم، فالتفت إليه رسول اللَّه ﷺ (فقال) (١): إني لم أعنك يا رسول اللَّه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "تسموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنت البقیع میں تھے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو یوں پکارا ۔ اے ابو القاسم، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے، وہ کہنے لگا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے آپ کو مراد نہیں لیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم میرے نام پر اپنے نام کو رکھ لو اور میری کنیت کو اختیار مت کرو۔
حدیث نمبر: 27603
٢٧٦٠٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن سالم عن جابر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (تسموا) (١) باسمي ولا تكنوا بكنيتي، فإنما جعلت قاسمًا أقسم بينكم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میرے نام پر اپنے نام رکھ لو اور میری کنیت اختیار مت کرو۔ اس لیے کہ مجھے قاسم بنایا گیا ہے میں تمہارے درمیان تقیسم کروں گا۔
حدیث نمبر: 27604
٢٧٦٠٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الكريم عن عبد الرحمن بن أبي عمرة عن (عمه) (١) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تجمعوا بين اسمي وكنيتي" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی عمرہ کے چچا فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میرے نام اور میری کنیت کو جمع مت کرو۔
حدیث نمبر: 27605
٢٧٦٠٥ - حدثنا ابن عيينة عن محمد بن المنكدر (سمع) (١) جابرًا يقول ولد لرجل منا غلام قال: فسماه القاسم، قال: فقلنا: لا (نكنيه) (٢) أبا القاسم لا ننعمه عينًا، فأتى رسول اللَّه ﷺ فذكر له ذلك فقال: " (اسم) (٣) ابنك عبد الرحمن" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن منکدر فرماتے ہیں کہ حضرت جابر نے ارشاد فرمایا : کہ ہم میں سے ایک آدمی کے بیٹا پیدا ہوا تو اس نے اس کا نام قاسم رکھا۔ اس پر ہم نے کہا ! کہ ہم تجھے ابو القاسم کی کنیت سے نہیں پکاریں گے اور اس کے ذریعہ سے ہم تیری آنکھ کو ٹھنڈک نہیں پہنچائیں گے، پس وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اپنے بیٹے کا نام عبد الرحمن رکھ لو۔