حدیث نمبر: 27567
٢٧٥٦٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن عطاء بن [أبي (ميمونة) (١) قال: سمعت أبا رافع يحدث عن] (٢) أبي هريرة أن زينب كان اسمها برة، فقيل (لها) (٣): تزكي نفسها، فسماها رسول اللَّه ﷺ[زينب (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت زینب کا نام برّہ تھا ۔ ان کو کہا گیا کہ تم نے اپنے نفس کی پاکیزگی بیان کی ! پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام زینب رکھ دیا۔
حدیث نمبر: 27568
٢٧٥٦٨ - حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا حماد بن سلمة عن (عبيد اللَّه) (١) عن نافع عن ابن عمر (أن) (٢) ابنة لعمر كان يقال لها: عاصية، فسماها رسول اللَّه ﷺ] (٣) جميلة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : کہ حضر ت عمر کی ایک بیٹی تھی جس کا نام عاصیہ تھا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا نام جمیلہ رکھ دیا۔
حدیث نمبر: 27569
٢٧٥٦٩ - حدثنا محمد بن فضيل عن العلاء بن المسيب عن خيثمة (قال) (١): كان اسم أبي في الجاهلية عزيزًا، فسماه رسول اللَّه ﷺ عبد الرحمن (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ فرماتے ہیں کہ میرے والد کا نام زمانہ جاہلیت میں عزیز تھا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام عبدالرحمن رکھ دیا۔
حدیث نمبر: 27570
٢٧٥٧٠ - حدثنا وكيع عن هشام عن أبيه قال: كان النبي ﷺ إذا سمع الاسم القبيح حوله إلى ما هو أحسن منه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کوئی بُرا نام سنتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس نام کو اچھے نام سے تبدیل فرما دیتے۔
حدیث نمبر: 27571
٢٧٥٧١ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا المسعودي عن محمد بن عبد الرحمن مولى آل طلحة عن كريب عن ابن عباس قال: كان اسم جويرية برة فحول رسول اللَّه ﷺ اسمها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کریب فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا کہ حضرت جویریہ کا نام برہ تھا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام تبدیل فرما دیا۔
حدیث نمبر: 27572
٢٧٥٧٢ - حدثنا (حميد) (١) (بن) (٢) عبد الرحمن عن هشام عن أبيه أن رجلًا كان اسمه الحباب، فسماه رسول اللَّه ﷺ عبد اللَّه، وقال: "الحباب شيطان" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کا نام حباب تھا پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا نام عبد اللہ رکھا اور فرمایا : حباب تو شیطان ہے۔ حضرت عروہ نے فرمایا : ایک آدمی کا نام مضطجع تھا پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا نام منبعث رکھا۔
حدیث نمبر: 27573
٢٧٥٧٣ - (قال) (١): وكان اسم رجل المضطجع فسماه المنبعث.
حدیث نمبر: 27574
٢٧٥٧٤ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا زكريا (عن) (١) عامر (٢) قال: لم يدرك الإسلام من عصاة قريش غير مطيع، وكان اسمه العاص فسماه رسول ﷺ مطيعًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ قریش کے گناہ گاروں اور نافرمانوں میں سے سوائے حضرت مطیع کے کسی نے اسلام کو نہیں قبول کیا اور ان کا نام عاصی تھا پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام مطیع رکھا۔
حدیث نمبر: 27575
٢٧٥٧٥ - حدثنا يحيى بن يعلى أبو المحياة عن عبد الملك بن عمير قال: حدثني ابن أخي عبد اللَّه بن سلام (عن عبد اللَّه بن سلام) (١) قال: قدمت على رسول ﷺ وليس اسمي عبد اللَّه بن سلام، فسماني رسول اللَّه ﷺ عبد اللَّه بن سلام (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن سلام فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور میرا نام عبد اللہ بن سلام نہیں تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا نام عبد اللہ بن سلام رکھا۔
حدیث نمبر: 27576
٢٧٥٧٦ - حدثنا يزيد بن المقدام عن القدام بن شريح عن أبيه عن جده هانئ بن (شريح) (١) قال: وفد النبي رشَل في قومه، فسمعهم يسمون رجلًا عبد الحجر، فقال له: "ما اسمك؟ " قال: عبد الحجر، فقال له رسول اللَّه ﷺ: "إنما أنت عبد اللَّه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ھانی بن شریح فرماتے ہیں کہ ایک قوم وفد لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنا کہ ان لوگوں نے ایک آدمی کو عبد الحجر کے نام سے پکارا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص سے پوچھا : تیرا نام کیا ہے ؟ اس نے کہا : عبد الحجر، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا : بیشک تم تو عبداللہ (اللہ کے بندے) ہو۔