کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جو کسی آدی کی طرف خط لکھے اور اسی کے نام سے خط کی ابتدا کرے
حدیث نمبر: 27561
٢٧٥٦١ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن شيخ أن زيد بن ثابت كتب إلى معاوية فبدأ بمعاوية (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اوزاعی نے کسی شیخ سے نقل کیا کہ حضرت زید بن ثابت نے حضرت معاویہ کو خط لکھاتو حضرت معاویہ کے نام سے ابتدا کی۔
حدیث نمبر: 27562
٢٧٥٦٢ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي قال: كان عمر بن عبد العزيز يكتب إليه (فيبدأ) (١) به، فلم ير به بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اوزاعی فرماتے ہیں کہ حضر ت عمر بن عبد العزیز کو جب خط لکھا جاتا تھا تو آپ کے نام ہی سے ابتدا کی جاتی تھی اور آپ نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔
حدیث نمبر: 27563
٢٧٥٦٣ - حدثنا أبو معاوية عن ابن عون عن ابن سيرين قال: كانت لابن عمر حاجة إلى معاوية فأراد أن يكتب إليه (فقالوا) (١): لو بدأت به فلم يزالوا (به) (٢) حتى كتب: بسم اللَّه الرحمن الرحيم إلى معاوية (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو حضرت معاویہ سے کوئی کام تھا، تو آپ نے ان کو خط لکھنے کا ارادہ فرمایا، لوگوں نے کہا : اگر آپ ان کے نام سے خط لکھیں تو اچھا ہوگا اور ان لوگوں نے مسلسل یہی بات کہی یہاں تک کہ آپ نے لکھا، بسم اللہ الرحمن الرحیم، حضرت معاویہ کی طرف۔
حدیث نمبر: 27564
٢٧٥٦٤ - حدثنا ابن علية عن يونس قال: كتب رجل كتابا من الحسن إلى صالح ابن عبد الرحمن فكتب: (بسم اللَّه الرحمن الرحيم) (١) من الحسن إلى صالح، فقال: الرجل: يا أبا سعيد لو بدأت به، فبدأ به.
مولانا محمد اویس سرور
یونس فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حسن کی جانب سے صالح بن عبد الرحمن کی طرف خط لکھا تو اس نے یوں لکھا، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ حسن کی جانب سے صالح کی طرف، تو ایک آدمی نے کہا : اے ابو سعید اگر آپ اس کے نام سے ابتدا کرتے تو اچھا ہوتا، تو آپ نے اس شخص کے نام سے ابتدا کی۔
حدیث نمبر: 27565
٢٧٥٦٥ - حدثنا عباد بن العوام عن إسماعيل المكي عن الحسن والنخعي أنهما لم يريا بأسًا أن يكتب الرجل فيبدأ به.
مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل مکی فرماتے ہیں کہ حسن بصری اور حضرت نخعی یہ دونوں حضرات اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ ایک آدمی کسی آدمی کو خط لکھے تو اس کے نام سے خط کی ابتدا کرے۔
حدیث نمبر: 27566
٢٧٥٦٦ - حدثنا يحيى بن يمان عن سفيان عن أبي فزارة عن الحكم قال: لا بأس أن تبدأ بغيرك إذا كتبت إليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوفزارہ فرماتے ہیں کہ حضرت حکم نے ارشاد فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں کہ تم جس کی طرف خط لکھ رہے ہو اس کے نام سے خط کی ابتدا کرو۔