حدیث نمبر: 27544
٢٧٥٤٤ - حدثنا علي بن مسهر عن أبي حيان التيمي عن أبي الزنباع عن أبي الدهقانة قال: قيل لعمر بن الخطاب: إن هاهنا غلامًا من أهل (الحيرة) (١)، لم ير قط أحفظ منه (ولا أكتب منه) (٢)، فإن رأيت أن تتخذه كاتبًا بين يديك، إذا كانت لك الحاجة شهدك، قال: فقال عمر: قد اتخذت إذن بطانة من دون المؤمنين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الدھقانہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب سے کہا گیا : بیشک یہاں اہل حیرہ کا ایک لڑکا ہے۔ اس سے زیادہ مضبوط حافظہ والا اور اس سے اچھا کوئی بھی کاتب نہیں دیکھا گیا۔ اگر آپ کی رائے ہو تو آپ اس کو اپنے امور کے لیے کاتب رکھ لیں ؟ جب بھی آپ کو ضرورت ہوگی و ہ آپ کے پاس حاضر ہوجائے گا۔ حضرت عمر نے فرمایا؛ تحقیق اس صورت میں تو میں مومنین کے علاوہ کسی اور کو ہم نشین بنانے والا ہوں گا۔
حدیث نمبر: 27545
٢٧٥٤٥ - حدثنا وكيع عن المسعودي عن القاسم قال: (كان) (١) لعبد اللَّه كاتب نصراني (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا کاتب نصرانی تھا۔
حدیث نمبر: 27546
٢٧٥٤٦ - (حدثنا) (١) غندر عن شعبة عن سماك عن عياض الأشعري أن أبا موسى كان له كاتب نصراني (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عیاض اشعری فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ کا کاتب نصرانی تھا۔